قبائلی اضلاع میں پہلی بار جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات

eadb6549-2034-43c0-a327-ab9c64c376a9-e1637857332711.jpg

تحریر:سہیل ځلاند داوڑ

ایک طرف سردی کی آمد سے موسم دن بدن سرد ہو رہا ہے تو دوسری طرف صوبہ پختونخوا اور سابقہ فاٹا میں سیاسی درجہ حرارت آہستہ آہستہ گرم گرم ہورہا ہے کیونکہ پورے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہے۔خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نے الیکشن کمیشن کی ہدایت اور سیاسی جماعتوں کے دباؤ پر پہلے مرحلے میں صوبے کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات 19 دسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن اعلامیہ کے مطابق تمام تر تیاریاں مکمل ہو چکی ہے، صوبہ خیبر پختونخواہ کے جن اضلاع میں ویلیج کونسل، تحصیل کونسل اورنیبر بورڈ کونسل کے انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے،صوبائی حکومت کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق پشاور، مردان، چارسدہ، بنوں، بونیر، باجوڑ، مردان، صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، ہری پور، خیبر، مہمند، ہنگو اور لکی مروت میں 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کا شیڈول ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے پارٹیوں اور امیدواروں کو ابتدائی طور پر انتخابی نشانات الاٹ کر دیئے گئے ہیں، الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کیلئے احکامات جاری کر دیئے ہیں، اس کے خلاف دوسری طرف حکومت وزراء کا موقف رہا ہے کہ نچلی سطح کے نمائندوں کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر ہونی چاہئے جبکہ تحصیل اور میئرشپ کا انتخاب پارٹیوں کی بنیاد پر ہوں۔ اس ضمن میں ہائی کورٹ اور اپوزیشن کے مشترکہ موقف کے خلاف صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کرلیا تھا،لیکن اج فیصلہ وہی ہوا جو پشاور ہائی کورٹ نے پہلے سے ہی کیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے امیدوار کے انتخاب لڑنے کے لئے کوئی تعلیمی قابلیت کی شرط نہیں رکھی گئی ہے البتہ یوتھ کی سیٹ پر الیکشن لڑنے کے لئے 21 سال سے 30 سال تک کی عمر اور باقی نشستوں کے لئے 21 سال سے اوپر کی عمر کی شرط رکھی گئی ہے اس کے علاو الیکشن کمیشن کے مطابق امیدوار صرف اسی کونسل سے انتخاب لڑ سکتا ہے جہاں پر اس کا ووٹ بطور ووٹر انتخابی فہرست میں درج ہوں۔ انتخابات کے لئے داخلہ متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں فارم جمع کرناہوگا، اس کے علاو  ویلج کونسل کے فارم جمع کرنے کی فیس پانچ ہزار جبکہ تحصیل چیئرمین کی نشست کے انتخاب کی نامزدگی فارم کی فیس پچاس ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن اعلامیہ کے مطابق یہ فیس ناقابل واپسی ہے اور سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ اب اپوزیشن جماعتوں نے اپنے امیدوار کو سترہ اضلاع میں کھڑے کر دیئے ہیں اور ساتھ میں انتخابی مہم کا آغاز بھی زور و شور سے جاری کیا ہے، اپوزیشن کے بقول حکومتی جماعت میں اندر لڑائی چل رہی ہے ٹکٹوں کے معاملے پر کافی اختلافات ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کئی اضلاع پر ان کو ویننگ امیدوار نہیں مل رہے ہیں۔ اس کے برعکس حکومتی نمائندگان کہتے آرہے ہیں اور دعوے کرتے ہیں کہ جب الیکشن ہوں گے تو ہماری جماعت یعنی پاکستان تحریک انصاف متحدہ اپوزیشن کے خلاف پوری صوبہ میں کلین سویپ کرے گی،

اس کے علاوہ جو سب سے فخریہ بات ہے وہ یہ ہے کہ اس الیکشن میں جو کہ 19 دسمبر کو ہونے جارہا ہے۔ سب سے بڑی تعداد میں خواتین،نوجوان،اور باقی قبائلی عوام اس انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں اور اس کے لیے کافی پر جوش دیکھائی دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خوش آئند بات یہ ہے کہ پہلی دفعہ قبائلی علاقوں میں نچلی سطح پر ان کو اختیارات ملے گی، میرے خیال میں ان انتخابات میں جو کہ کثیر تعداد میں عوام اور ساتھ میں خواتین حصہ لے رہی ہیں اس کے بعد ان لوگوں کے یکطرفہ بیانیے کو مسترد کرتے ہیں جو کہ گئی برسوں سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ قبائلی عوام تشدد پسند، مزاحمت کار، اینٹی ڈیموکریسی اور ان کو دہشتگرد بولتے آرہے تھے۔

مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ یہ انتخابات ہماری قبائلی عوام کے لیے خوشحالی لے کر آئی گی اور امن کی فضا قائم ہوگی، ایک نئی مثبت سوچ اُبھرے گی بلکہ پورے پاکستان میں ایک نئی مثبت سوچ اُبھرتی نظر آرہی ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top