محفوظ بچپن:قسط نمبر 1: محفوظ گھر

hhhh-1.jpg

بشریٰ اقبال حسین،سینئر صحافی و بانی (محفوظ بچپن)

ہمارا ایمان ہے ہر دنیا میں انے والا بچہ اپنا رزق ساتھ لاتا ہے، بے شک اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے۔ لیکن کھانا پینا، پہننا اوڑھنا کے ساتھ ہر بچے کا بنیادی حق ہے کہ اس کی پرورش بہترین خطوط پر کی جائے۔ والدین اپنے بچوں کو کچھ بھی دیتے ہیں اس میں سب سے بڑھ کر تربیت ہے۔

پاکستان کی کل آبادی کا ماشاللہ پینتیس فیصد بچوں پر مشتمل ہے۔ اس طرح ہم اس خطے کی سب سے کم عمر اور معصوم قوم بن جاتے ہیں۔ اور ان معصوموں کو بہترین ماحول میں پروان چڑھانا اور ان کے بچپن کو محفوظ بنانے کی کوششیں کرنا ہی محفوظ بچپن نامی مہم کا مقصد ہے۔

محفوظ بچپن ایک آگاہی مہم ہے جو والدین، اساتذہ، صحافیوں، نوجوان طلباء اور دیگر شعبوں کے منسلک لوگوں کو اس بنیادی بات کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ بچے خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے بلکہ یہ ہم سماج مٰن رہنے والے ” بڑوں’ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی صحت کا خیال رکھیں۔ انہیں جنسی زیادتی کے ساتھ ساتھ دیگر نقصان دہ باتوں اور رویوں سے بھی محفوظ رکھیں۔

محفوظ بچپن میں سب سے پہلا مرحلہ ہے محفوظ گھر، یعنی جہاں جس گھر میں بچے کا جنم ہوا ہے وہاں کا ماحول بچے کے پرورش کے لئے ساز گارہو۔ خاص طور پر والدین کا اس بات کا مکمل کا مکمل فہم ہو اب ان کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے، جو ان کی پرانی معمولات کو یکسر بدل دے گی۔ اس کے لے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہوں۔ بچے کی آمد کے ساتھ ہی صرف خوشیاں منانا ہی اہم کام نہیں ہے بلکہ اس کی مناسب خوراک، لباس، گرمی سردی سے بچاؤ، آرام اور کھیل کود کے لئے مناسب اوقات کاز، سہلیات وغیرہ کا اہتمام بھی ضروری ہے۔ اس میں خاص طور پر ماں کی تربیت سازی بہت اہمیت کی حامل ہے اور اس کی مدد کے لئے باپ کا کردار بھی کلیدی ہے۔

کیا آپ اہنے بچے کا احترام کرتے ہین؟

اکثر والدین سے جب تربیتی ورکشاپ میں ملاقات ہوتی ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ وہ بچوں کی ہر خواہش اور ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جب ان سے پوچھا جائے  کیا وہ اپنے بچے کا احترام کرتے ہیں؟ تو اکثر اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک بچے سے محبت کی جاتی ہے اس پر وسائل خرچ کئے جاتے ہیں۔ جبکہ اس کے جواب میں بچے کا فرض ہے کہ وہ والدین کا احترام کرے۔ اور یہیں سے وہ بحث شروع ہوتی ہے کہ جیسا سلوک بچے سے روا رکھا جائے گا اسی طرح سے جوابآ پیش آئے گا۔ اس لئے بچوں کا ایک فرد کی طرح سے بات کرنے، رائے کا اظہار کرنے کا موقع ضرور دین۔ اس کو بات بات کر مار پیٹ اور ڈانت ڈپٹ کے بجائے ایک فرد کی طرح سمجھانے کی کوشش کریں۔ ہر بات کے مختلف پہلوؤں کو اس کے سامنے رکھیں، اسے فیصلہ کرنے کی عادت ڈالین۔ نا کہ بچوں کو اپنا غلام سمجھتے ہوئے ان پر اپنی دھونس جما کر رکھیں۔

ڈسپلن یا نظم و ضبط

اگر والدین خود ایک ڈسپلن یا نظم و ضبط کے تحت زندگی گذاریں گے تو لامحالہ بچے بھی اسے اپنا لیں گے، لیکن اگر آپ یک طرفہ طور پر حکم چلا کر بچوں کو جھوٹ بولنے سے روکیں گے، صبح جلدی اٹھانے کی کوشش کریں گے، موبائل سے دور رکھنے یا چلا کر اپنی بات منوانے سے منؑ کرنے کی کوشش کریں گے تو شاید وقتی طور پر بچے ڈر تو جائیں لیکن ان کی زندگی میں یہ روٹین بننا ناممکن ہے۔ بکلہ آئندہ زندگی میں وہ ہمیشہ طاقت ور کے سامنے سہم جائیں گے اور کمزور پر اپنا غصہ نکالیں گے ۔

بچوں کی نگرانی

محفوظ گھر میں بچوں کی ذندگی محفوظ ہوتی ہے۔ آپ نے اکثر سنا ہوگا بچے گھروں میں حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں، پانی کی ٹینکی میں ڈوب گئے، چھت سے گر گئے،بجلی کا کرنٹ لگ گیا، ماچس سے کھیلتے ہوئے آگ لگا لی، تیزاب یا کیمکل پی لیا۔ کیسی نوک دار میز یا کرسی سے زخمی ہو گئے۔  ایسے واقعات کا احتیاطی تدابیر اختیار کر کہ کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے باقاعدہ سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے۔ گھر میں چھوٹے بچوں کی موجودگی میں کس طرح ان کی پہنچ سے ضرر رساں اشیا دور رکھنی ہیں۔ اور گھر کے افراد کی ڈیوٹیاں لگائی جا سکتی ہیں کہ کس وقت کون بچوں کی نگرانی کرے گا۔ ماں ہر وقت میسر نہیں ہو سکتی،اس کو بھی ذہنی سکون کے لئے آرام اور کچھ وقت اپنے ساتھ گذارنے کا موقع ملنا چاہئے۔

والدین کی عدم موجودگی میں بچے کس کے حوالے ہوں گے؟

اس کا فیصلہ سوچ سمجھ کر، دیکھ بھال کر کیا جانا چاہئے۔ ترجیحی بنیادوں پر کسی کسی دوسرے پر بھروسہ کم سے کم کیا جائے ۔ ملازم یا دایہ کی صورت میں نگرانی کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جاسکتی ہے۔ یا گھر کے بزرگوں کو درخواست کی جاسکتی ہے۔ باہر کے ممالک میں بچوں کی نگرانی کے پیسے فی گھنٹہ ادا کئے جاتے ہیں، اور یہ ایک بہترین نظام ہے، اس طرح نگران بچوں سے آوزار محسوس نہیں کرے گا، بلکہ یہ ایک مختصر دورانیے کا روزگار سمجھا جائے گا۔

بچوں کو ہر کسی سے سلام کی عادت ضرور ڈالیں مگر انہیں مجبور نا کریں کہ وہ کسی کی سے لازمی ہاتھ ملائیں یا کوئی ان کے جسم کو چھوئے۔ گال پے چومے۔ بلکہ خود بھی بچوں کو لاڈ پیار کرتے ہوئے ان سے رسمی اجازت ضرور لیں تا کہ بچہ اگر نہیں جسمانی رابط چاہتا تو اسے زبردستی نا کی جائے۔ یہ رویہ آنے والے دنوں میں خدا نخواستہ کسی بری نیت والے شخص کی نا مناسب حرکت کو روکنے میں معاون ثابت ہوگا۔ بچوں کو کسی مرد کی گود میں بیٹھنے کی اجازت مت دیں۔

بچوں کے سامنے لڑنا، گالیاں دینا، مار پیٹ کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ اور بات بات پر بچوں کا دھمکانا، جھوٹے  ڈردلانا بھی غیر عملی کام ہے۔بچے جلد سمجھ جاتے ہیں کہ یہ گیڈر بھبکیاں ہے اور آپ کا رعب بچوں سے اٹھ جائے گا۔

ان تمام باتوں کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ والدین کو ایک راہنمائی مل جائے۔ لیکن آپ کو  اور بھی بہت سارے مسائل اور صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جس پر آپ اس وقت کی مناسبت سے فیصلہ لے سکتے ہیں۔

تمام تر احتیاط کے باوجود حادثات رونما ہو ہی جاتے ہیں، مگر ان کے امکان کو کم کرنے کی شعوری کوشش ہی محفوظ بچپن ہے۔ آیندہ قسط میں گھرکے باہر کی دنیا کا ذکر کیا جائے گا۔ اپنی رائے سے آگاہ کیجیے گا۔ (بشکریہ آئی بی سی اُردو)

https://www.facebook.com/MahfoozBachpan-2006071179654738/

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top