باجوڑ کے معذور شخص کی کرونا وبا کے دوران قابلِ تحسین خدمات

a25479d4-481c-46f8-a97e-b7dff5c6b4a4.jpg

شاہ خالد

خود ایک مہلک بیماری پولیو کا شکار قبائلی ضلع باجوڑ کا 43 سالہ حضرت ولی شاہ کرونا وباء کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔انہوں نے کئی مشکلات کے باوجود نے نہ صر ف کرونا وباء کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھی بلکہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنی کمیونٹی ، جو ان جیسے خصوصی افراد پر مشتمل ہے، میں ایک مہم کے تحت کرونا وباء سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی بھی فراہم کی۔انہوں نے ایسے مزدوروں اور معذور افراد کو جن کے روزگار کرونا وباء کے دوران متاثر ہوئے مالی امداد کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات اٹھائے۔ حضرت ولی شاہ نے ہم سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حالات میرے لئے بہت تکلیف دہ تھے کیونکہ میرے پاس وسائل کی کمی تھی اور خود بھی مالی حالت ایسی نہیں تھی کہ ان لوگوں کی مدد کرسکتا۔ یہ میرے لیے ایک امتحان تھا مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور کمر کس کر میدان میں اترا اوراپنی مدد آپ کی تحت ان خصوصی افراد کی مدد شروع کی جو ابھی تک جاری ہے۔

دوسروں کی مدد میں ہمہ وقت مصروف ولی شاہ عید کے دنوں میں باجوڑ کے تحصیل سلارزئی گاؤں ڈاگ قلعہ سے تعلق رکھنے والا رحمت اللہ نامی ایک مزدور کے پاس ایسے وقت پہنچا جب وہ حادثے میں اپنی ٹانگ گنوا کر مفلسی اور بھوک کے سبب اپنے بچوں کو عید کی تیاری کروانے سے قاصر تھا۔ ولی شاہ نے نئے کپڑوں اور راشن کے ساتھ ساتھ کرونا وباء سے بچاؤ کے لئے ماسک اور سینٹائزر بھی اس فیملی کو فراہم کیے۔ اس کے استعمال کے طریقے بھی بتائے کہ کس طرح ماسک اور سینٹائزر کو استعمال کرنا ہے۔ اور اس بات پر زور دیا کہ ایس او پیز پرمکمل عمل کیا جائے اور طب کے ماہرین کے مشوروں پر عمل کریں۔اور وبا سے محفوظ رہنے کے لیے افواہوں پر عمل نہ کریں۔

ضلع باجوڑ کی آبادی 12لاکھ کے قریب ہےجس میں رجسٹرڈ کرونا مریضوں کی تعداد 1991 ہےجن میں سے 1868 صحتیاب ہوئے جبکہ 84 جاں بحق ہوئے۔7 مریض داخل، 38 ایکٹیو اور14 مشتبہ ہے۔اب تک 136000 لوگوں نے ویکسین لگوائی ہے۔
ولی شاہ نے کرونا وباء کے پہلی لہر سے لیکر چوتھی لہر تک 117 خصوصی افراد تک فوڈ پیکجز پہنچائے۔عید الفطر اور عید الضحیٰ کے مواقعوں پر 93 غریب گھرانوں کو عید پیکجز دیئے۔ 100سے زیادہ غریب اور خصوصی افراد کو حکومتی احساس پروگرام میں شامل کروانے کیلئے کوشش کیں جو بار آور ثابت ہوئیں۔ جبکہ ان کے بقول ان لوگوں کی تعداد ان کو معلوم نہیں جس کو انہوں نے راستوں، مساجد، بازاروں اور عوامی مقامات پر کرونا ایس اوپیز ،ماسک،سینٹائزر صابن ا ور اس کے استعمال کے بارے میں آگاہی دی ہے۔

ولی شاہ کی خدمات سے فائد ہ اٹھانے والوں میں پولیو کا شکار شخص 30سالہ نعمت اللہ بھی ہے۔نعمت اللہ تین بچوں کا باپ ہے۔ کرونا وباء سے پہلے وہ جناح بس ٹرمینل خار میں موچی کا کام کرتا تھا۔ لیکن کرونا کی پہلی لہر میں لاک ڈاؤن کے وجہ سے اس کا کام بند ہوا جو آج تک بند ہے۔ جس کے وجہ سے مالی مشکلات میں اضافہ ہوا جبکہ وہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا اور نہ ہی اس کے پاس کرونا سے بچاؤ کیلئے ماسک وغیرہ تھے۔ لیکن ولی شاہ نے اس کو کرونا وباء سے بچاؤ کے لئے ماسک، سینٹائرز اور صابن دئیے اور کرونا سے بچاؤ کے بارے میں تفصیلی معلومات دیں۔اس کے ساتھ ایک سولر پینل، بیٹری، پنکھا، فوڈ پیکج دیا جس کے وجہ سے اس کی مشکلات میں کافی حد تک کمی آئی۔

ضلع باجوڑ کے محکمہ سوشل ویلفیئر کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق باجوڑ میں ان کے ساتھ کل 5575 رجسٹرڈخصوصی افراد موجودہیں جبکہ ولی شاہ کے مطابق غیر رسمی اعداد و شمار 8000 کے قریب ہے۔ خصوصی افرادکرونا وباء کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ان میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے ولی شاہ محکمہ سوشل ویلفیئر باجوڑ کے ساتھ مشترکہ اقدامات کیلئے مسلسل رابطے میں ہیں۔
سوشل ویلفیئر باجوڑ کے سینئر کلرک فضل آمین نے بتایا کہ کرونا وباء کے دوران وہ کمیونٹی بیس آرگنائزیشن کے ساتھ کام کر رہے تھے جس میں تنظیم بحالی معذوران باجوڑ کے صدر ولی شاہ کی خدمات قابل داد ہیں۔ انہوں نے عام لوگوں سے زیادہ اچھے طریقے سے اپنی کمیونٹی کی خدمت کی۔ فضل آمین کے مطابق محکمہ سوشل ویلفیئر نے ولی شاہ کو ماسک، سینٹائزر وغیرہ وقتاً فوقتاً فراہم کئے اور انہوں نے صحیح حقداروں کو پہنچایا تھا اور ان کے ساتھ آگاہی سیشن بھی منعقد کرائے تھے۔ ان کے کام سے ہم بہت مطمئن ہیں.

ولی شاہ کے مطابق افواہوں پر یقین کرنے کی وجہ سے وہ پولیو کا شکار ہوا۔ اگر اس کو پولیو ویکسین دی جاتی تو وہ اس موذی مرض سے محفوظ ہوتا۔ ان افواہوں کے وجہ سے باجوڑ میں 1800 مرد و خواتین پولیو کی وجہ سے معذور ہوچکے ہیں۔اسی طرح کرونا وباء اور اس کی ویکسین کے بارے میں بھی طرح طرح کے افواہیں پھیلائی جارہی ہے ہیں۔ لوگ ان پر یقین نہ کریں کیونکہ کرونا وباء ایک حقیقت ہے اور اس سے بچاؤ کرونا ویکسین کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ولی شاہ نے مزید بتایاکہ وہ ایک سکول ٹیچر بھی ہے اورسکول میں بچوں کو کرونا وباء سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی نشستیں کرواتے ہیں جبکہ بچوں کے والدین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ضرور کرونا ویکسین لگوائیں اور اس کے متعلق افواہوں پر کان نہ دھریں تاکہ اس موذی مرض سے نہ صرف خود محفوظ ہوسکیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی بچائیں۔

کرونا وباء کے دوران ولی شاہ کی خدمات کا اعتراف باجوڑ میں کام کرنے والے مقامی فلاحی تنظیمیں بھی کررہی ہے۔اس بارے میں جب ہم نے باجوڑ کی دو مقامی تنظیموں کمیونٹی والنٹیئرنیٹ ورک کے چیئرمین عطاء اللہ درانی اور جبران ویلفیئر فاؤنڈیشن کے چیئرمین نیک رحمان سے بات کی تو ان دونوں نے بتایا کہ ولی شاہ نے بہت منظم طریقے سے لوگوں کو کرونا وباء سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی دی اور اس کے ساتھ خوراکی موادمیں مدد بھی کی۔ کیونکہ باجوڑ میں ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں جو کرونا وباء کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کر رہے ہیں لیکن ولی شاہ نے ان کو ویکسی نیشن کی افادیت کے بارے میں آگاہی دی اور ان کے خدشات دور کئے۔ اس نے ہمیشہ بے لوث خدمت کی ہے۔ولی شاہ کو ان کی خدمات پر جتنی بھی داد دی جائے تو وہ کم ہے۔

ولی شاہ کی کروناوباء کے خلاف مہم میں خدمات کے بارے میں جتنے بھی لوگوں سے ہم نے بات کی سب نے ان کی تعریف کی اور ان کو داد دی۔ اس لئے حکومت کو بھی چاہئے کہ اس کی مزید حوصلہ افزائی کریں تاکہ نہ صرف یہ کہ وہ مزید اپنا کام جذبے سے کریں بلکہ دوسرے قبائلی افراد بھی کروناوائرس کے خلاف جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔

(یہ مضمون اکاؤنٹیبلٹی لیب کی کرناوائرس سوایکٹس مہم کاحصہ ہے،اکاؤنٹیبلٹی لیب کامضمون نگارکی آراء سے متفقہ ہوناضروری نہیں)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top