مکالمے کے ذریعے تمام مسائل کا حل ممکن ہے،پروفیسر ڈاکٹر قبلہ آیاز

eeee.jpg

سیدرسول بیٹنی

پشاور:اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر قبلہ آیاز نے کہا ہے کہ مکالمے کے ذریعے تمام مسائل کا حل ممکن ہے، تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ،معاشرے میں بین الامذاہب رواداری اور برداشت کا پیغام عام کرنا ہوگا تاکہ دیرپا امن کیلئے راہ ہموارہوجائیں۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار شعبہ فلاسفی کے زیر اہتمام سماجی بہبود اور پُر امن معاشرے کے قیام کے حوالے سے منعقدہ فیلوشپ پروگرام کے دوران کیا جس میں صوبہ خیبرپختونخوا اور سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے 60 نوجوان طلباء وطالبات اور پروفیشنلز نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی نصاب میں انسانی ہمدردی کے موضوعات شامل کرنے ہونگے تاکہ لوگوں اور معاشرے میں امن اور بھائی چارے کا پیغام عام ہوجائیں۔

پروگرام سے سابق ڈائریکٹر ایریا سٹڈی سنٹر (جامعہ پشاور) ڈاکٹر سرفراز خان نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہا کہ ریاست اس وقت کو ایک نئی عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے جس کے اندر ملک میں آباد تمام چھوٹی قوموں کو بھی منصفانہ حقوق ملے تاکہ محروم طبقات میں پائی جانے والی احساس محرومی کو ختم کیا جاسکے۔

پروگرام کے اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران شعبہ فلاسفی کے چیئرمین ڈاکٹر شجاع احمد نے کہا کہ اس فیلوشپ کا بنیادی مقصد صوبہ خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے نوجوان طلباء وطالبات کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرکے اُنکی شخصیت سازی کی جائے گی تاکہ اُن میں قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اعتماد اور دور اندیشی پیدا ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ فیلوشپ کے ساتھ ساتھ طلبہ کی پلیٹ فارم “دی مرر آف سوسائٹی” کی ڈیجیٹائزشن بھی پروگرام کا حصہ ہے۔

فیلوشپ میں شریک ضلع کرم سے تعلق رکھنے اور جامعہ پشاور کے شعبہ معاشیات کے ایم فل سکالر قرۃ العین نے فیلوشپ کے حوالے سے “دی پشاور پوسٹ” کو بتایا کہ اس سات روزہ پروگرام سے میں نے بہت کچھ سیکھا کیونکہ پروگرام میں شرکت کرنے والے ماہرین نے انتہائی خوبصورت اور پُرمغز لیکچرز دئیے جس میں سیکھنے کیلئے بہت کچھ تھا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اس پہلے معلوم نہیں تھا کہ ہم نوجوان نسل اتنی اہمیت کا حامل ہے،فیلوشپ میں جامعہ پشاور کے مختلف شعبہ جات کے سربراہان نے سماجی بہبود کے حوالے سے اپنی اپنی مشاہدات اور تجربات بیان کئے جس سے نوجوان طلباء وطالبات کو تحقیق کرنے میں بڑا مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس تربیت سے نوجوانوں کو اپنے مسائل کی نشاندہی اور انکی حل بارے میں آگاہی ملے گی جو کہ علاقے میں امن کی دوبارہ بحالی میں کام آئیگی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top