نابینا بچوں کیلئے پختونخوا میں پہلا بریل پرنٹنگ پریس کے منصوبے پر کام شروع

14f4e2b0-629f-424a-bae3-89e1dba19d4f.jpg

اسلام گل آفریدی

محکمہ زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور وومن امپاورمنٹ خیبر پختونخواکے طرف سے صوبے میں بصارت سے محروم بچوں کے درسی کتابوں کے چھپائی کے لئے پریل پرنٹنگ پریس کے قیام کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ معلومات کے مطابق درکار تمام مشنری بیرونی ملک سے درآمد کیا گیا ہے۔ مشینری پشاور میں قائم نابینا سکول پہنچ دیاگیا ہے اور ماہرین کے موجود گی میں مشینری کو فغال کیاجارہاہے جبکہ تجرباتی بنیاد پر کتابوں کی چھپائی بھی کیا جارہا ہے۔

 

محکمہ زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور وومن امپاورمنٹ خیبر پختونخوا کے مطابق اب تک صوبے میں بریل پرنٹنگ پریس موجود نہیں تھا جس کے وجہ سے صوبے میں قائم بصارت سے محروم نو تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کو اپنے پڑھائی میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور ہرسال پنجاب یا سندھ کے درسی کتابیں منگوائے جاتے تھے۔ رواں مالی سال کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں 4کروڑ 30 لاکھ روپے بریل پرنٹینگ پریس لگانے کے لئے مختص کردئیے گئے تھے اور مشینری کے خریداری کے لئے باقاعدہ ٹینڈر گیا اور مختلف کمپنیوں کے جانب سے کاعذات جمع ہونا شروع کردی گئی تھی جبکہ چھان بین کا عمل 10 فروری تک مکمل ہواتھا۔

محکمے کے مطابق مشینری بیرون ملک سے درآمد کیا گیا جو دو تین ماہ کی مدت میں پاکستان پہنچادیا گیا۔پرنٹینگ پریس کے تمام کام رواں مالی سال کے خاتمے یعنی جون سے پہلے ختم کرنے کا حدف مقرر کیا گیا تھا تاہم معلومات کے مطابق مشینری تمام مشنری کو فعال کردیاگیا ہے اورجلد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اس کا باقاعدہ افتتاح کرینگے۔ معلومات کے مطابق پرنٹنگ پریس کے قیام کے بعد صوبے پہلے سے موجود درسی نصاب کی چھپائی کا عمل شروع ہوجائیگا۔

بصارت سے محروم نویں جماعت کا طالبعلم امجد کا تعلق پشاور سے ہے اُس کی پڑھائی خیبر پختونخوا کے بجائے پنجاب میں بصارت سے محروم بچوں کے سکول میں جاری ہے کیونکہ اُنہوں نے جب اپنے گھر کے قریب سکول سے پرائمری تک تعلیم مکمل کردی تو مزید تعلیم کے حصول میں دیگر مسائل کے ساتھ بڑا مسئلہ بصارت سے محروم بچوں کی پڑھائی کے لئے ضروری بریل کتابوں کی عدم دستیابی تھی۔اُنہوں نے کہاکہ کئی سال پہلے تک پوری کورس میں چند ہی کتابیں بچوں کو دئیے جاتے تھے اور سال کے ختم ہونے پر واپس سکول انتظامیہ کو جمع کی جاتی تھی۔

پنجاب اور سندھ میں پہلے سے صوبائی حکومتوں کے جانب سے بریل پرنٹنگ پریس قائم کیے گئے جوکہ باقی ملک کے ضروریات بھی پورا کرتا ہے۔محکمہ زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اوروومن امپاورمنٹ خیبر پختونخواکے اعداد وشمار کے مطابق سوائے سات ضم قبائلی اضلاع کے علاوہ باقی صوبے سے 1 لاکھ 48 ہزار کے خصوصی افراد کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔ ادارے کے مطابق مذکورہ اعداد وشمار میں 83 ہزار جسمانی اور 2 ہزار ذہنی معذور ہیں جبکہ20 ہزار سننے اور گویائی سے محروم ہیں۔

قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد محکمہ سماجی بہبود کو قبائلی اضلاع میں اپنا کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیاگیا۔جس کے نتیجے میں اب تک قبائلی اضلاع میں ادارے کے ساتھ پندرہ ہزار تک خصوصی افراد کے رجسٹریشن ہو چکی ہیں تاہم باجوڑ سے جنوبی وزیر ستان تک ان افراد کے لئے کوئی تعلیمی یا ہنر سیکھنے کے لئے ایک بھی ادارہ موجود نہیں۔

ادارے کے مطابق خصوصی افراد کے رجسٹرڈ تعداد سے اصل تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے جبکہ صوبے میں خصوصی افراد کے لئے 44 تعلیمی ادارے کام کررہے جن میں 3 ہزار 600 بچے زیر تعلیم ہیں لیکن مذکورہ تعداد بھی انتہائی کم ہے اور مستقبل میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے لائحہ عمل طے کرلیا گیا ہے اور اس کے لئے ہر ایک ضلعی افسر اپنے تمام عملے کے ساتھ آگاہی مہم چلائینگے تا مقامی لوگوں میں اس حوالے سے شعور اُجاگر کیا جاسکے۔

کاظم اللہ آفریدی بینائی سے محروم اور پشاور بورڈ سے دسویں جماعت کے امتحان دینے کے تیاری میں مصروف ہے۔ اُنہوں نے پشاور میں نابینا بچوں کے لئے پشاور میں قائم سکول سے ابتدائی تعلیم بریل نظام ہی میں حاصل کرلیا ہے۔اُنہوں نے کہاکہ بریل اُن کے آنکھیں اور کان ہیں اور اگر یہ نظام نہ ہوتا تو اُن جیسے لوگ لاکھوں بچے دنیا میں بغیر علم کے زندگی گزرتے۔

دنیا بھر میں بصارت سے محروم لوگوں کے پڑھائی کیلئے فرانس کے ایک طالب علم لوئی بریل نے1829 میں پڑھائی کا نظام متعارف کروایا جس میں چھ نکات کے مدد سے کاغذ میں سوراخ کرکے لکھائی کیا جاسکتاہے اور ہاتھ کے اُنگلیوں کے مدد سے اُبھرے ہوئے الفاظ کے پڑھائی کی جاتی ہیں۔ نابینا بچوں کو بریل کے بنیادی اصول بتائے جاتے ہیں جبکہ تیسری جماعت میں بچے خود بخود بریل کے لکھائی اور پڑھائی کرسکتے ہیں جبکہ آگے تحریر اور پڑھائی کے رفتار کو تیز کرنے کے لئے مزید محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔یہی بچے قرآن اور دیگرمختلف موضاعات پر کتب بھی بریل پڑ ھ سکتا ہے۔

بریل پرنٹینگ پریس کو پشاور شہر میں جی ٹی روڈ پربصارت سے محروم بچوں کے سکول میں لگایا جارہاہے جبکہ معیاری مشینری بیرونی ملک سے درآمد کیاگیا ہے۔پرنٹینگ مشین ایک گھنٹے میں اٹھارہ سو صفحات چھاپ سکتے ہیں اور ایک مستند کمپنی سے مشینری خریدی جائیگی۔ جن کمپنی کو مشینری خریدنے کا ٹھیکہ ملاتھا تواُن کے ساتھ یہ معاہدہ بھی ہوا تھا کہ وہ عملے کو باقاعدہ تربیت دی گئی اور ساتھ کسٹمائز سافٹ وئیر بھی مہیا کریگی جس کے مدد سے باآسانی کے ساتھ اُردو، انگریزی اور پشتو کے کتب چھاپ سکے۔ درسی کتابوں کے علاوہ جنرل نالج اور اسلامی کتب کے چھپائی بھی صوبے میں شروع ہو جائیگی۔

بصارت یا نابینا بچوں کے لئے خیبر پختونخوا میں اپنا نصاب موجود نہیں البتہ محکمہ زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اوروومن امپاورمنٹ کے مطابق میٹرک تک نصاب تیارکرکے باقاعدہ متعلقہ اداروں سے اُن کی منظوری ہوچکی ہیں۔ ادارے کے مطابق بریل پرنٹینگ پریس کے قیام کے بعد پہلے فرصت میں صوبے کے اپنے نصاب کی چھپائی کا عمل شروع ہوجائیگا۔

ادارہ شماریا ت کے اعداد وشمار کے مطابق 2017 میں مکمل کیے گئے چھٹی مردم شماری میں ملک بھر 32لاکھ 86،ہزار،630خصوصی افرادموجود ہیں جن میں 8.06 فیصد لوگ بصارت سے محروم یا نابینا ہیں۔ادارے کے مطابق خیبر پختونخوا میں 3لاکھ،75ہزار 752ہے اور ان میں بصارت سے محروم افراد7.224فیصد ہے۔

۔
قبائلی اضلاع کے محکمہ سماجی بہود کے مطابق دنیا بھر اور ملک کے دیگر حصوں میں اعداد شمار کے مطابق خصوصی افراد کے تعداد دس فیصد ہے جبکہ قبائلی اضلاع میں بدامنی اور دیگر مسائل کے بناء پر مذکورہ افراد کے تعداد پندرہ فیصد ہے۔معلومات کے مطابق صوبے میں زیر تعلیم نابینا بچوں کے رجسٹریشن اور امتحان فیڈرل بورڈ سے ہی ہوتا تھا تاہم محکمہ سماجی بہود خیبر پختونخوا نے صوبے میں موجود خصوصی افراد کے تمام تعلیمی اداروں کے الحاق قائم سات بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ساتھ کردی ہے اور تمام تعلیمی امور متعلقہ بورڈ کی ذمہ داری ہوگی۔ اس اقدام کے ساتھ رجسٹریشن، امتحان، ایمگریشن اور دیگر دفتری اُمور خصوصی افرادکو مفت مہیا کئے جارہے ہیں تاہم بورڈ میں خصوصی افراد مسائل کی شکایت کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top