پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس جاری ،آرمی چیف بھی شریک

parliament-e1572414672831.jpg

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ان کیمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری ہے۔

 پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اِن کیمرا اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کررہے ہیں، اجلاس میں قومی سلامتی سے متعلق امور ایجنڈے کا حصہ ہوں گے، اس دوران افغانستان کی موجودہ صورتحال اور اس کے پاکستان پر اثرات کے حوالے سے بات ہوگی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید،ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار بھی اجلاس میں شریک ہیں۔

ڈی جی آئی ایس آئی اجلاس میں  ملکی داخلی صورت حال کے علاوہ افغانستان، بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بریفنگ دیں گے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی اجلاس میں شریک ہیں جب کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیراعلیٰ سندھ بھی اجلاس میں شریک ہیں۔

آرمی چیف بذریعہ ہیلی کاپٹر پہنچے

اس سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بذریعہ ہیلی کاپٹر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے باعث قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کوچھٹی دے دی گئی جب کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں کو داخلے سے روک دیا گیا۔

صحافیوں کا داخلہ بند

ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ میڈیا تب آتا ہے جب پارلیمنٹ کھلی ہو، جب پارلیمنٹ میں چھٹی کردی گئی ہے تو میڈیا والے آکر کیا کریں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر صحافی نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ اجلاس میں آپ کیا ان پٹ دیں گے؟ اس پر شہباز شریف نے کہا کہ بریفنگ کے بعد ہی دیکھیں گے، صحافی نے پوچھاکہ بلاول بھٹو نےآپ پر بجٹ اجلاس میں شریک نہ ہونے پر تنقید کی تھی؟ اس پر اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ میں لاہور میں تھا میرے علم میں نہیں ہے۔

دوسری جانب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اپوزیشن چیمبر آمد پر میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ پہلے ہم ان کی سنیں گے پھر ہم اپنا مؤقف دیں گے۔

وزیراعظم اجلاس میں شریک نہیں

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے صحافی کے سوال پر کہا کہ آج کے اجلاس میں وزیراعظم شریک نہیں ہوں گے، یہ طے ہوا تھا کہ دفاعی اورقومی سلامتی کمیٹی کے ارکان شرکت کریں گے، سیاسی جماعتوں کے لیڈرز کو کہا گیا تھا کہ اپنے ممبران کوخود منتخب کریں جب کہ دفاعی اور خارجہ کمیٹی کے ارکان شرکت کریں گے۔

ارکان سے موبائل فون لے لیے گئے

اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے شرکا کے موبائل فون ساتھ لے جانے پر پابندی عائد ہے جس کے باعث سیاسی رہنماؤں اور اعلیٰ حکومتی رہنماؤں سے موبائل فون لے لیے گئے۔

قومی اسمبلی ہال میں بریفنگ کے لیے بڑی اسکرین بھی نصب کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top