نوجوان نسل ہی ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں،ڈاکٹر بشارت حسین

index-e1625047297825.jpg

سیدرسول بیٹنی

پشاور:جامعہ پشاور کے شعبہ کریمنالوجی اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار امیگریشن (آئی او ایم) کے پراجیکٹ کمیونٹی ریزیلنس ایکٹویٹی-نارتھ کے زیر اہتمام  ترتیب شدہ پانچ روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

تربیتی ورکشاپ کا عنوان “یوتھ ورکشاپ اینڈ لیڈرشپ ڈویلپمنٹ” رکھا گیا تھا جس میں قبائلی اضلاع خیبر،اورکزئی،کرم اور نارتھ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طلباء وطالبات نے شرکت کی۔

ورکشاپ کے مہمان خصوصی شعبہ کریمنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر بشارت حسین،آئی او ایم کے ڈسٹرکٹ لیڈر ضلع خیبر عرفان خان اور ریزیلنس آفیسر آمنہ خان ،محکمہ امور نوجوانان کے ڈپٹی ڈائریکٹر ارشد حسین اور شعبہ ریجنل سٹڈیز کے چیئرمین زاہد علی اور ٹریننگ کے آرگنائزر ڈاکٹر محمد ابرار نے شرکت کی۔

ورکشاپ پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرینر سید اعزاز علی شاہ نے “دی پشاور پوسٹ” کو بتایا کہ اس تربیت سے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوان طلباءوطالبات  میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا ہونگی جو اُنکو  فیصلہ سازی میں مدد دے گی تاکہ وہ کمیونٹی میں تخلیقی سرگرمیوں کو پروان چڑھائیں اور مثبت سوچ کو اپنا کر معاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

تربیتی ورکشاپ کے آرگنائزر  ڈاکٹر محمد ابرار نے بتایا کہ ٹریننگ کا مقصد نوجوان نسل کو اپنی اہمیت کا احساس دلانا اور اُنھیں”فیوچر لیڈرشپ” کیلئے تیار کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پانچ روزہ پروگرام میں شرکاء کو معاشرے کی ترقی میں نوجوان نسل کا کردار،برداشت اور مکالمے کی فضاء کو فروغ،حقیقت پسندانہ سوچ کی اپنائیت اور معاشرتی ترقی کے مختلف موضاعات پر سوشل ورک کے تجربہ کار ماہرین نے شرکاء کو لیکچرز دیئے اور اُن کے ساتھ فیلڈ کے تجربات شیئر کئے۔

ڈاکٹر محمد ابرار نے مزید کہا کہ کیمپ میں ملک بھر سے شرکت کرنے والے شرکاء کو انسانی خدمات کے حوالے سے آپس میں اتفاق رائے،روابط اور اس کے علاوہ بین الاضلاعی ہم آہنگی کو تقویت دینے کیلئے بھی ایک مضبوظ حکمت عملی بنائی گئی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top