بھائی کے رہائی کیلئے ایک ماہ سے پولیس کا کام ہم خود کررہے ہیں،سردار پرویندر سنگھ

b3da0c24-8463-40e4-8971-e15df28682a3-e1619617612766.jpg

اسلام گل آفریدی

27 اپریل پشاور کے گور دوارہ بھائی جوگا سنگھ میں اوی ناش سنگھ کے بازیابی کیلئے آگنڈ پاٹ صاحب ارم ہیں۔آپ سب ساد سنگت سے بنتی ہیں کہ گوردورا صاحب آکر درشن دیں اور اوی ناش سنگھ کوبازیابی کا آرشوت دیں۔ یہ موبائل پیغام خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور ایک ماہ قبل لاپتہ تیس سالہ نوجوان سکھ اوی ناش سنگھ کے بھائی سردار پرویندر سنگھ کی جو اُس نے اپنے برادری کے لوگوں او ردوستوں کو بھیجا ہے۔ سردار پرونیدر سنگھ نے واقع کے بارے میں بتایاکہ اُن کا بھائی اوی ناش سنگھ 27مارچ کو گھر کے لئے ضروری سامان لینے نکلا لیکن رات دیرگئے تک واپس نہیں آیا اورموبائل نمبر مسلسل بند رہاتھا۔ رات بڑی پریشانی میں گزری اور صبح تھانہ گلبرگ میں بھائی کی گمشدگی کی رپورٹ چار افراد جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے کے خلاف درج کیاگیا۔


پشاورکے تھانہ گلبرگ کے ایک پولیس عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کردی کہ 28مارچ کو سردار پرونیدر سنگھ کے مدعیت میں اپنے بھائی اوی ناش سنگھ کے گمشدگی کا مقدمہ زیر دفعات پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 365، 164 اور 34 کے تحت درج کیا گیا۔اُ ن کے بقول اس میں چار افراد کو نامزد کردیا گیا جس ایک خاتون بھی شامل ہے۔پولیس کے مطابق واقعے کے حوالے سے تحقیقات عمل جاری ہے تاہم اس میں خاطر خواہ کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی او ر نامزاد افراد کو عدالت نے قبل از گرفتاری ضمانت منظور کرلی ہیں۔ایک سوال کے جوا ب میں اُنہوں نے کہاکہ اوی ناش کے گمشدگی کا مقدمہ جن لوگو ں کے خلاف درج کیاگیا وہ آپس میں رشتہ دار ہے اور یہ واقعہ خاندانی رنجش کا نتیجہ دکھائی دے رہاہے تاہم کوشش کی جارہی ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان تک جلد از جلد پہنچ کر اوی ناش کو بازیاب کرائے جاسکے۔

سردار پرونیدر سنگھ نے بھائی کی گمشدگی کے بارے میں پولیس کے کارکردگی کو مایوس کن قرار دیکر موقف اپنایا کہ جو کام پولیس کو کرنا تھا وہ ہم خود کررہے  ہیں کیونکہ اب تک  جو کچھ ہوا وہ ہمارے کہنے اور طویل انتظار کے بعد کیاگیا ہے۔ اُنہوں نے کہ پولیس اس کیس میں غفلت کا مظاہر ہ کررہاہے اور ہمیں حدشہ ہے کہ ہمارے بھائی کو کوئی نقصان نہ پہنچے جبکہ پولیس بھی کہتی کے ہم اس کیس میں کچھ زیادہ نہیں کرسکتے کیونکہ ہم پر اُوپر سے دباؤ جس کا ہمیں سمجھ میں آتاکہ کون لوگ ہے جو اس معاملے میں بے جا مداخلت کررہے ہیں۔ اُن کے بقول کئی دفعہ اس سلسلے میں پولیس کے اعلی حکام سے ملاقات کی کوشش کی لیکن تاحال ا س میں بھی کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔


اوی ناش سنگھ کے رہائی کے لئے دودن پہلے پشاور پریس کلب کے سامنے اُن کے خاندان اور برادری کے دوسرے افراد نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔
اوی ناش سنگھ کے اغوا میں نامزد ملزمان میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے من میت کور جن کا اصل نام مشال کور ہے بھی شامل ہے جوکہ ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بحیثیت رپوٹر کام کرچکی ہے۔ رابطے پر اُنہوں نے بتایاکہ اوی ناش سنگھ اُن کے قریبی راشتہ در ہے اور اُن کی اغوا کا مقدمہ بدنیتی کے بنیاد پر اُن کے اور خاندان کے دوسرے افراد کے خلاف درج کیاگیا ہے۔

من میت کو ر نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پچھلے سال مئی میں اوی ناش سنگھ نے اُن کے خاوند کو کسی بہانے بلا کر اُ ن کو مارپیٹا اور وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کردیا۔ بعد میں وڈیو ہٹانے کے لئے اُن سے پیسو ں کا مطالبہ کیا گیا لیکن انصاف کے لئے یہ کیس اُنہوں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبرکرائم پرانچ لے گئی، ساتھ پولیس تھانے میں بھی مقدمہ درج کردیا گیا۔اُنہوں نے بتایاکہ کیس فیصلہ جس دن اُن کے حق میں آیا تو اُس دن اوی ناش کے گمشدگی کی خبر سامنے آئی۔


پرویندر سنگھ نے اس بات کی تصدیق کردی کہ نامزد ملزمان کے خلاف ہمارا ایک سال سے ایف آئی اے میں بہنوں کی ہراسانی کا مقدمہ چل رہا ہے جس کا اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکاہے البتہ موبائل پیغامات کے تمام ریکارڈ ادارے کو مہیاکیاگیا ہے۔ اُن کے بقول اس کاروائی میں اوی ناش کافی سرگرم تھا اور شاید یہ سب کچھ اس وجہ سے ہی ہوا ہو۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ مقدمے میں نامزد من میت کور کے اعلی سطحی تعلق ہے جس کے وجہ سے پولیس گرفتاری یا دوسری کاروائی میں غفلت کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔

من میت نے اس قسم کے الزمات کو مسترد کردیا اور کہاکہ اب تک واقعے کے حوالے سے کوئی ایسا شواہد نہیں ملا ہے کہ اُس سے معلوم ہوسکے کہ اس میں وہ خود یا خاندان کے لو گ ملوث ہے۔ قبل از گرفتاری ضمانت منظور ی کے سوال پراُنہوں نے کہاکہ جس دن ا ہم عدالت میں حاضر ہوئے تواُس سے ایک دن قبل میر ی دوسری بیٹی پیدا ہوئی تھی، تو سارے صورتحال دیکھ کر خود جج بھی خیران ہوا اور ضمانت منظور کرلی۔

اوی ناش سنگھ کے خاندان والوں کو پولیس کے جانب سے یہ بتایاگیا کہ آپ لوگ زیادہ فکر نہ کریں وہ خود گھر واپس آجائیگا لیکن اُن کے بھائی پرویندر سنگھ کا کہنا ہے کہ آگر اُن کو تسلی بحش جواب مل جاتاہے کم از کم اس بڑی پریشانی کے حالت میں پوری خاندان کو سکون تو مل جائیگا۔
خیبر پختونخوا میں ہزاروں کے تعداد میں سکھ، مسیحی اور ہندووں آباد ہے لیکن جرائم کے حوالے سے پولیس تھانوں میں مقدمات کے حوالے سے نہ ہونے کے برابر اعداد شمار موجود ہے۔

اوی ناش انجینئرنگ کا طالب علم ہے اور دو سال پہلے اُن کی شادی میڈیکل کے ایک سٹوڈنٹس سے ہوئی تھی جو اب بھی زیر تعلیم ہے۔اوی ناش سنگھ کے گمشدگی کا واقع پولیس کے زیر تفتیش اور عدالت میں زیر سماعت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top