ضلع خیبر:کیا واقعی 14 سالہ شاہ زیب کے خون کا سودا ہوا ہے؟

2f728c47-db69-4c1c-965a-d89e44439c61.jpg

اسلام گل آفریدی

پشاور صد ر کے تھانہ عربی میں 14 سالہ شازیب کے خودکشی سے ہلاکت  واقع سامنے آیا اور ردعمل میں صوبے بھر اور خصوصاً اُن کے آبائی علاقے ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ کے سیاسی اتحاد، اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی اور علاقے عمائدین کے طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ کے ایس ایچ او دوست محمد اور دیگر اہلکاروں کے خلاف درج ہوا اور کئی دن جیل میں گزرنے کے بعد تمام ملزمان کی ضمانت عدالت نے منظور کرکے اُن کو رہا کردئیے گئے۔

پچھلے کئی ہفتوں سے پشاور کے سیاسی رہنماء اور معززین ایس ایچ او اور شاہ زیب کے خاندان کے درمیان راضی نامے کے لئے کوششیں کررہے  تھے اور اس سلسلے میں دوسرا اہم نشست تحصیل باڑ ہ میں آفریدی  قبیلے کے ذیلی شاح برقمبر خیل کے قومی کونسل کے سربراہ سعید اللہ خان آفریدی کے حجرے میں منعقد ہوا۔سماجی رابطے کے ویب سائیٹ پر جاری ایک وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنماء اور سابق ممبر صوبائی اسمبلی صابر حسین اعوان، ممبر صوبائی اسمبلی بلاول آفریدی، عوامی نیشنل پارٹی کے عمران آفریدی، باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر شاہ فیصل آفریدی سمیت پولیس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ دیگر سرکاری اہلکار بھی موجودتھے۔ا س موقع پر شاہ زیب کے خاندان کے لوگ موجود نہیں تھے۔چند ایک صحافی کو بھی دعوت دیا گیا تھا۔

اس نشست کے بعد علاقے کے سماجی، سیاسی اور صحافی برادری کے جانب سے سیاسی اتحاد اور برقمبر خیل قومی کونسل پر شاہ زیب کے کیس میں راضی نامہ کی الزام لگا کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تاہم اس سلسلے میں بر قمبر خیل قومی کونسل کے چیئر مین سعید اللہ خان نے رابطے پر بتایا کہ سیاسی اتحاد کے  صدر نے اُنہیں بتایا کہ شاہ زیب کےقتل میں نامزد ملزم دوست محمد راضی نامے میں مدد کےلٸے برقمبرخیل قبیلے کو جرگہ لیکر آنا چاہتےہیں جس پر میں نے پشتون روایات کے مطابق ہاں کردیا اور یہ سارے لوگ افطاری پر اکٹھے ہوئے۔ اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ علاقے کے عمائدین نے یہ واضح کردیا کہ اس فیصلے کا مکمل اختیار شاہ زیب کے خاندان کے پاس ہے البتہ اس سلسلے میں کچھ وقت مانگاگیا ہے اوراس دوران قومی کونسل مشاورت کے بعدلائحہ عمل طے کرکے شاہ زیب کے خاندان کے ساتھ رابطہ کیا جائیگا۔

14مارچ کو پشاور صدر کے تھانہ غربی میں 14 سالہ شاہ زیب کی گرفتاری اور حوالات میں خودکشی کا واقعہ سامنے آیا اور علاقے کے سیاسی اور سماجی لوگوں نے واقع کے خلاف اور ملوث اہلکاروں کے خلاف ایف آئی ار درج کرنے کے ساتھ گرفتاری کا مطالبہ تھاجس پر حکومت نے عمل درآمد کیا۔واقع کے بعد باڑہ سیاسی اتحاد کے طرف سے احتجاج اور پولیس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ کئی ملاقاتیں بھی ہوئی تاکہ واقع میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جاسکے۔ ذرائع کے مطابق صوبے کئی اہم شحصیات اور پولیس کے اہلکاروں نے راضی نامے کے لئے شاہ زیب کے خاندان کے ساتھ کئی بار رابطے کرچکے ہیں ا س کے علاوہ سیاسی اتحاد کے ساتھ بھی چند دن پہلے رنگ روڈ پشاور میں بھی تھانہ غربی کے ایس ایچ او کے طرف سے ایک جرگے نے ملاقات کیا تھا۔

باڑہ سیاسی اتحاد کے جنرل سیکرٹری زاہد اللہ آفریدی نے موقف اپناتے ہوئے کہا کہ شاہ زیب کے واقع میں راضی نامے کے لئے جو لوگ آئے تھے اُس میں سیاسی اتحاد کا کوئی کرادر نہیں تھا بلکہ اُنہوں نے براہ راست بر قمبر خیل قومی کونسل کے ساتھ رابطہ کیا تھا کیونکہ شاہ زیب کا تعلق آفریدی قوم کے ذیلی شاح برقمبر خیل سے تھا تو اس سلسلے میں پوری قبیلے سے اس سلسلے میں تعاون کا مطالبہ کیا گیا۔اُنہوں نے کہا کہ سیاسی اتحاد کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ نہ صرف شاہ زیب بلکہ علاقے کے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور فیصلے کا اختیار متاثر ہ خاندان کے ساتھ ہے۔اُنہوں نے کہاکہ باڑہ سیاسی اتحاد میں گیارہ جماعتیں موجود ہیں تو کیسے ایک جماعت شاہ زیب کے خون کا سواد کرسکتا ہے یا سیاسی فائدہ لے سکتا ہے۔اُن کے بقول کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے جس پر نفرت، اشتعال اور بے بنیاد  خبروں کے پھیلاؤ سے اجتناب کیا جائے۔

صحافیوں کو مدعو نہ کرنے کے سوال پر سعید اللہ خان  آفریدی  نے کہاکہ علاقے کے تین صحافیوں کو باقاعدہ دعوت دیاگیا تھا لیکن باقی ساتھیوں کو رمضان میں  تکلیف کو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں بو لایا گیا۔ اُنہوں نے اس تاثرکو رد کیا کہ شاہ زیب قتل کے واقعے کے حوالے سے کی جانے والے اقدمات میڈیا سے چھپائے جارہے ہین اور ایسا کچھ ہوتا تو گزشتہ رات منعقد کیے گئے جرگے کی وڈیو سوشل میڈیا پر نہ ہوتا۔اُن کے بقول شاہ زیب کے خاندان کو انصاف دلانے میں تحصیل باڑہ کے صحافیوں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

صدر باڑہ پریس کلب خادم آفریدی نے بتایا کہ شاہ زیب کے واقعے کے حوالے سے جاری صلح کے کوششوں کو میڈیا سے چھپانا سمجھ سے بالاتر ہے۔اُن کا کہنا تھاکہ شروع دن سے باڑہ پریس کلب کے صحافیوں نے موثر انداز میں اس خبر کو حکام بالا تک پہنچایا ہے اورمتاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لئے قائم کمیٹی میں وہ ایک ممبر کے حیثیت سے ہرایک اجلاس میں شریک رہے۔ ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ جب میڈیا کو ایک طرف کیا جاتا ہے تو ضرور لوگوں میں علط فہمیاں پیدا ہونگے اس لئے بہتر ہے کہ اس سلسلے میں میں تمام سرگرمیوں کے حوالے  سے میڈیا کو باخبر رکھا جائے۔

اس پوری صورتحال کے تناظر میں شاہ زیب کے والد خیال اکبر کے ساتھ بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن اُن کے موقف سامنے آنے میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔شاہ زیب کے قتل کے حوالے سے جرگے کا موقف رہا ہے کہ اس واقعے میں ایس ایچ او دوست محمد براہ راست ملوث نہیں البتہ بحیثیت تھانہ ایس ایچ او اور غفلت کی وجہ سے قانون کے مطابق ذمہ دار ہے۔ قمبر قومی کونسل کے طرف آئے ہوئے جرگے کو بتایاگیاکہ ایس ایچ او نے کیوں حوالات کے ساتھ سامنے پولیس اہلکارکو کھڑا نہیں کروایا اور سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی کیوں نہیں کرائی گئی جوکہ مجرمانہ عفلت کے زمرے میں آتا ہے۔

شاہ زیب کے واقعے کے بعد پشاور صدر کے تاجربرادری کے ایک رہنماء اکبر خان نے نہ صرف پولیس اہلکاروں کو سوشل میڈیا پر وڈیوز میں بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش بلکہ اس سلسلے میں باقاعدہ ایک ریلی کا بھی اہتمام کیا۔ عوام نے سوشل میڈیا اور باڑہ سیاسی اتحادکے طرف سے جلسوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنے کے بعد اُنہوں نے باڑہ سے ممبر قومی اسمبلی محمداقبال آفریدی کے حجرے جاکر اس پوری عمل پر معافی مانگی تاہم شاہ زیب کے والد اور سیاسی اتحاد نے اس عمل کو مسترد کردیاتھا اور اس پر باقاعدہ ایف آئی ار درج کرنے کی تجویزپیش کی تھی۔

جون2020میں باڑہ سے تعلق رکھنے والے سرکاری سکول کے اُستاد عرفان کو دہشت گرد قرار دیکر ماورائے عدالت قتل خلاف بھی سیاسی اتحاد نے باڑہ بازار میں دس دن تک احتجاجی دھرنا دیا تھا جس کے بعد حکومت نے تمام مطالبات تسلیم کئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top