شکر ہے دس سال بعد جنازہ پڑااور تدفین کرلی،اب سکون ملے گا

019cea82-c060-4cc2-a2fd-982c2abb3a5e.jpg

اسلام گل آفریدی

2018 میں قبائلی اضلاع میں کام کرنے والے کان کنوں کے مسائل کے حوالے سے ایک تحقیقاتی کہانی کے سلسلے میں ضلع خیبر کے علاقے کلاخیل جانے کا موقع ملا۔وہاں پر کوئلے کے کانوں میں مصروف مزدورں کے ساتھ بات چیت ہوئی لیکن وہاں پر ایک اہم مسئلے کے طرف توجہ دلائی کہ ہمارے سولہ ساتھی 29سمبر 2011 سے لاپتہ ہوچکے ہیں جبکہ اُن کے گھروالے کافی مشکل زندگی گزررہے ہیں۔ بعض مزدور ایسے بھی تھے کہ لاپتہ افراد میں اُن کے راشتہ دار بھی شامل تھے اور ان کا کہنا تھاکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کے انتظار میں اس اُمید کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں کہ ایک دن وہ ضرور واپس آئینگے۔

چونکہ یہ واقع ایسے وقت میں رونما ہوا تھا کہ علاقے میں شدت پسندوں کے سرگرمیاں عروج پر تھی اور مقامی آبادی میں اکثریت نے اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں کو منتقل ہوگئے تھے جبکہ علاقائی ذمہ داری کے تحت عسکری قیادت اور مقامی قبائل کے درمیان علاقے میں قیام امن اور کوئلے کے کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے حفاظت کے لئے مسلح لشکر تشکیل دیاگیا تھا۔ مقامی افراد نے بتایاکہ ہر ایک کان پر پندرہ سے بیس افراد پہرا دیں رہے تھے کہ ایک رات مسلح شدت پسندوں نے کانوں میں کام کرنے اور علاقے میں تعمیر ہونے والے سڑک کے تعمیر میں مصروف مزدور کو اسلحہ کے نوک پر اغوا کیں۔

تمام مزدروں کی تعداد 32بتایا گیا لیکن ان میں سولہ تین ماہ بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جبکہ باقی یرغمال افراد کے بارے میں بتایا کہ گیاکہ وہ ایک مسلح کاروائی میں ماردئیے گئے جن کو ایک اجتماعی قبر میں مقامی لوگوں نے دفن کردئیے ہیں۔ان افراد کے بارے میں وہاں پر کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ لوگ کون ہے اور کس مقصد کے لئے ان کو یہاں پر یرغمال بنا کر قتل کردئیے گئے ہیں البتہ یہ لاشوں کے ساتھ پڑے شناختی کارڈ میں درج پتہ خیبر پختونخوا کا ضلع شانگلہ کے تھے۔

دہشت گردی کے شدید لہر کی وجہ سے کلاخیل کے علاقے میں کوئلہ کانوں کے مالکان کو بھاری مالی و جانی نقصان اُٹھانا پڑا لیکن حکومتی اداروں کے جانب سے مدد کے حفاظت اور مدد فراہم کرنے کے بجائے ان کو مزید مسائل سے دوچار کردیا اور مزکورہ کاروبار سے وابستہ افراد کو بڑا مالی نقصان اُٹھانا پڑا۔ واقعے کے بعد علاقے میں کوئلہ نکلنے کا کام مکمل طور پر بند ہوا اور تمام کان کن علاقہ چھوڑ کر چلے گئے۔تقریبا ایک سال تک کام بعد رہنے کی و جہ زیادہ تر کانوں میں آگ لگ چکے تھے جبکہ کچھ کان بارشوں اور حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے بیٹھ گئے تھے۔

علاقے میں دوبارہ کوئلہ نکلنے کے لئے متعلقہ سیکورٹی ادارو ں کے ساتھ مقامی عمائدین کے طویل مشاورت ہوئی اور آخرکا ر کئی شرائط جن میں دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث افراد کو کام کی اجازت نہ دینا، باہر سے مزدوروں کے تمام ذمہ داریاں مقامی ٹھیکدار اور عمائدین کی ہوگی، امن وامان قائم رکھنے میں مقامی لوگ سیکورٹی اداروں کے کی مدد کرئینگے اور کسی بھی ناخوشگوار واقع کے صورت میں قریب سیکورٹی چیک پوسٹ کو بروقت اطلاع مہیا کرنا شامل تھا۔ بعض مقامی پر سرکاری آفسران کے جانب سے پیسوں کے پر لوگوں کو کا م کرنے کی ناکارہ ہوگئے اور کوئی مزدور علاقے میں کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہورہاتھا جبکہ دوسرے جانب سیکورٹی ادروں کے جانب سے مقامی آبادی پر بھی شدید دباؤ تھا کہ کسی شدت پسند کو کام کے لئے نہ رکھا جائے۔

اپنے مدد آپ کے تحت کان کنوں کے حفاظت کے لئے سیکورٹی کا انتظام کردیا گیا باجود اس کے پوری علاقے میں سیکورٹی اہلکارو ں کی بڑی ۔جن خاندانوں کے افراد اغوا ہوئے تھے تو طویل انتظار کے بعد جب علاقے میں امن قائم ہواتو مختلف ذرائع سے اس بات کی تصدیق سولہ اغوا افرد ایک کاروائی میں ماردئیے گئے ہیں۔ علاقے کے مقامی افرا د نے تمام لاشوں کو ایک اجتماعی قبر میں دفن کردئیے گئے لیکن کسی کویہ معلوم نہ ہوا کہ یہ لوگ کون تھے اور کس مقصد کے لئے یرعمال بنائے گئے تھے تاہم لاشوں کو دفناتے وقت اُن کے شناختی کارڈ میں ضلع شانگلہ کا پتے درج تھے۔

کالاخیل کے مقامی عمائدین، کان کن رہنماء اور کان مالکان نے متاثر ہ خاندانوں کے مالی معاونت کے لئے چار چار لاکھ روپے کے مد میں کُل 64لاکھ روپے نقد امدادی رقم ادا کردیا گیا تھا۔مزدور رہنماؤ کا کہنا ہے کہ اغوا افراد کے بدلے 60روپے تاوان ادا کرنے کا مطالبہ کیاگیا تھا لیکن غربت کی وجہ سے مزدروں کے خاندان اتنا بڑا رقم نہیں کرسکتاتھا جبکہ کان مالکان اور حکومت نے بھی اس میں کچھ نہیں کیا۔

متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کے تلاش کے لئے سول اورعسکری قیادت کا ہر دورازہ کھٹکھٹایا لیکن ایک جگہ سے بھی ان کو کوئی حوصلہ آفز ء جواب نہیں ملا۔یہاں تک ان لوگوں کو یہ بھی نہیں بتایا جارہاہے تھا کہ تمام اغوا لوگ مارے جاچکے ہیں۔ حکومتی ادارے آگر اس بات کی تصدیق کرتے تو باقاعدہ طور پر ان خاندانوں کو شہد پیکچ دیاجاتا۔ اجتماعی قبرسے لاشیں ملنے اور صرف ہڈیوں کو تابوت میں ڈال کر لوحقین کے حوالے کرکے اپنے آبائی ضلع شانگلہ میں ادا کرنے کے بعد صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی جن کا انتخابی حلقہ بھی مزکورہ ضلع ہے فیس بک پہ آکر متاثر خاندان کو دس دس لاکھ مالی معاونت کا اعلان کیا۔

خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے واقعے کے بارے میں بتایا کہ ضلعی حکومت نے انسانی باقیات کو ایک قبر سے نکالنے کے لیے رابطہ کیا تھا اور اُس کے لئے آپریشن کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی افراد نے پہاڑی علاقے میں بوسیدہ انسانی اعضا اور ایک شناختی کارڈز دیکھ کر مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی تھی۔لاشوں کے شناخت کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ شناختی کارڈز کی بنیاد پر ورثا کو اپنے لوگوں کے جسد حوالے کی گیا۔
ضلع شانگلہ کے اکثریتی لوگوں کے کمائی کا زریعہ کاکنی ہے اورپاکستان کے مختلف علاقوں یہ لوگ برسرروزگار ہے تاہم پاکستان میں مختلف مسائل کے کے بناء معدنیات نکلانا ایک خطرناک کام ہے۔

معراج خان پاکستان تحریک انصاف ضلع شانگلہ کے رہنماء ہے اور اُن کا بھائی نیک محمدجوکہ کالاخیل کے علاقے میں کام کے دوران ایک کن میں پھنس جانے بعد اپنے مد دآپ کے تحت پچھلے سال فروری میں 102دن بعد اُن لاش نکلا گیا تھا۔ معراج نے کہاکہ ریسکو آپریشن کے تمام احرجات صوبائی حکومت نے برادشت کرنے کا وعدہ کیا اور یہ کچھ شوکت یوسفزئی کے کہنے پر ہوا تھا لیکن اب تک اُس پر کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا۔ اُنہو ں نے کہاکہ سولہ لاشوں کا ملنا اور اس پہلے جتنے بھی واقعات رونما ہوچکے ہیں تواُ س میں حکومت نے صر ف وعدیں ہی کیں ہیں اورمزدور یونین صرف احتجاج کرکے بات ختم ہوجاتا ہے۔

سولہ میں ایک لاش شمس اللہ کے بھتجے کا تھا۔ اُنہوں نے کہ تقریبا سال کا انتظار پوری خاندان کے لئے انتہائی تکلیف دہ عمل تھا۔سوال پوچھنے پر وہ ابدیدہ ہوئے اور کہاکہ شکر ہے اتنے عرصے جنازہ پڑھا اور تدفین کرلی کچھ سکون اب تو زندگی میں محسوس کرئینگے۔جب بھی کوئی واقع ہوجاتاہے توخیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والے ہزاروں کان کن احتجاج شروع کردیتے ہیں جبکہ حکومت کے جانب سے مطالبات کے حل کے یقینی دہانیوں کرائی جاتے اور اسطرح لوگ دوسرے واقع تک خاموش ہوجاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top