قبائلیوں کو بھی اپیل ، دلیل اور وکیل کا حق حاصل ہوگیا

c05d7d6d4a36894edfdd35dc318a3957.jpg

محمد طیب

پشاور: ڈی جی جوڈیشل اکیڈمی فضل سبحان نے کہا کہ قبائلی علاقہ جات کو عدالت کا سہولت مل چکا ہے اور اب قبائلی عوام بھی باقی پاکستان  کی طرح عدالتی نظام سے مستفید ہونگے۔

ان خیالات کا اظہار ڈی جی جوڈیشل اکیڈمی فضل سبحان  نے ججوں کے تربیتی  پروگرام کے اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں جوڈیشل اکیڈمی میں ضم شدہ اضلاع میں تعینات ہونے والے 28جوڈیشل افسران کیلئے چار روزہ ٹریننگ پروگرام کا انعقاد کیا گیاجبکہ خصوصی ورکشاپ کا مقصد شرکاء کو ان اضلاع سے متعلق خاطر خواہ آگاہی اور وہاں درپیش مسائل کے حل کا سدباب ہے۔

ڈی جی اکیڈمی نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں سب سے بڑا چیلنج وہاں کی جعرافیائی حیثیت ہے لیکن آپ لوگوں کا مثبت پہلو یہ ہے کہ تعینات ہونے والے زیادہ تر ججز کا تعلق انہی اضلاع سے ہے اور آپ کو اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے ان چیلنجز سے نمٹنا ہے۔

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں صوبے میں نئے ضم ہونے والے اضلاع میں تعینات جوڈیشل افسران کے لئے چار روزہ ٹریننگ پروگرام مکمل ہو گیا ہے جبکہ اس ضمن میں سابقہ فاٹا کا انضمام اس سے جڑے مسائل اوران مسائل کا حل کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں سابق جسٹس پشاور ہائی کورٹ یحییٰ زاہد گیلانی، رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ خواجہ وجیہہ الدین، سیکرٹری فنانس خیبر پختونخوا شکیل قادر، ڈی آئی جی پولیس محمد کریم خان، سینئر قانون دان عبد الطیف آفریدی، ڈی جی اکیڈمی فضل سبحان سمیت پشاور ہائی کورٹ اور اکیڈمی کے دیگر افسران شریک ہوئے۔

ڈین فیکلٹی جوڈیشل اکیڈمی ڈاکٹر شکیل اعظم نے اپنے خطاب میں ٹریننگ پروگرام اور ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ آئین اور قانون کی بالادستی اور حاکمیت قائم کرنا ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔

سینئر قانون دان عبد الطیف آفریدی ایڈوکیٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ سابقہ فاٹا کے اضلاع میں انصاف کی فراہمی کا عمل شروع ہونے جارہا ہے اور ان اضلاع میں تعینات جوڈیشل افسران وہاں جوڈیشل سسٹم کو متعارف کرانے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اضلاع کے بہت سارے لوگ موجودہ عدالتی نظام یا قوانین سے واقفیت رکھتے ہیں۔

عبدالطیف آفریدی نے کہا کہ ہمارے جوڈیشل سسٹم میں مقدمات کا التواء ایک اہم چیلنج ہے اور ضم شدہ اضلاع میں تعینات ججزکو اس چیلنج سے احسن طریقے سے نمٹنا ہوگا۔

رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ خواجہ وجیہہ الدین نے شرکاء کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں تعینات ججزگیارہ مارچ پیر کے روز سے باقاعدہ کام کرنا شروع کردیں گے اور اس سے قبل زیر تجویز مقدمات متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججزکو حوالے کر دیئے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top