اورکزئی:دہشتگردی سے متاثرہ علاقے میں سیاحت حکومتی توجہ کی منتظر

656951c4-5efc-4c19-b3a2-2aad3b85e474.jpg

اسلام گل آفریدی

ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں،گنے درخت اور چشموں کے بہتے پانی کے کنارے سے اُٹھنے والے موسیقی کے یہ سُر  ایسے علاقے میں سنائی دی رہاہے جہاں پر لوگ موجودہ امن او رسکون محسوس کررہاہے لیکن چند سال پہلے یہ تصور ممکن ہی تھا۔ اورکزئی کے علاقہ چپر ی ہے جہاں پر دوردرز علاقوں لوگ سیر کے لئے آتے ہیں۔

محمد حامد موسیقی کے محفل سے دور اپنے دوستوں کے ساتھ لطف انداز ہورہے ہیں اُنہوں نے اپنے دو دساتھیوں کے ساتھ پچیس کلومیٹر موٹرسائیکل پر طے کر یہاں پر پہنچے ہیں۔ اُنہوں نے  کہا کہ جب موقع ملتا ہے تو وہ مختصر سیر کے لئے اورکزئی اور وادی تیراہ کے مختلف علاقوں کے سیر کے لئے آتے ہیں۔ اُن کے بقول کچھ عرصہ قبل علاقے میں بدامنی کے وجہ سے لوگوں کے آمد ممکن نہیں تھا۔

زاہد چپری کا رہائشی ہے او ر دہشت گردی کے خلاف فوجی کاروائی کے نتیجے میں اُنہوں نے آٹھ سال انتہائی مشکل میں کوہاٹ کے قریب کیمپ میں گزرایں۔اُن کے لئے اپنے علاقے میں سیاحوں کے آمد سکون اور دوبارہ آبادی کاری کی اُمید ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہاں پر جتنے بڑی تعداد میں لوگ سیر کے لئے آئینگے تو اتنی ہی یہاں پر امن کو فروع ملے گا اور مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقعیں میسر آئینگے۔چار سال پہلے اورکزئی کے بے گھر افراد کے واپسی کا عمل شروع ہوا تھا لیکن بدامنی کے وجہ علاقے میں تمام بنیادی سہولیات کو کافی نقصان پہچا تھا جس کے دوبارہ بحالی کا کام اب بھی جاری ہے۔

امجد علی کوہاٹ سے اورکزئی سیر کرنے آیا ہے اُن کاکہنا ہے کہ جیسے ہی علاقے میں سہولیات بڑھ رہے ہیں تو لوگوں کے سیاحوں کے تعداد میں اضافہ ہورہاہے۔اُنہوں نے بتایاکہ کئی مہینے پہلے علاقے میں کوئی ہوٹل اور دوسرے ضروریات پورا کرنے کے لئے دوکان وغیرہ نہیں تھے جس کے وجہ سے بھی لوگوں کو کافی تکلیف کا سامناکرنا پڑتاتھا لیکن موجودہ وقت میں تمام ضروری سہولیات علاقے میں موجود ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پوری اورکزئی قدرتی طور پر بہت خوبصورت ہے لیکن علاقے میں کئی مقامات سیاحوں کے لئے انتہائی دلچسپ ہے اور بڑی تعداد میں لوگ خاص موقعوں پر یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

سلامت خیل آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے اور یہ شاید اُن کے تعلیم کا آخری سال ہوکیونکہ علاقے میں کوئی ہائی سکول نہ ہونے کے وجہ سے بڑی تعداد میں لڑکے آگے تعلیم کے حصول سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اُنہوں نے بتایاکہ جن کے پاس پیسے ہو تو وہ اپنے بچوں کو کوہاٹ یا پشاور میں پڑھائی کے لئے بھیج دیتے ہیں لیکن بہت کم لوگ ایسا کرتے ہیں کیونکہ لوگوں کے مالی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جب ہم کئی سال بعد اپنے گھر آئے تو پورا گھر تباہ ہوگیا تھا لیکن حکومت کے جانب سے چار لاکھ روپے معاوضہ ملنے کے بعد اب سرچھپانے کا انتظام ہوگیا ہے۔سلامت کے گھر کی تعمیر اب بھی مکمل نہیں لیکن وہ کیمپ کے مشکل زندگی کو یاد کرکے اپنے علاقے میں خوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

سیر کے لئے آنے والے لوگ خوبصورت مقامات جاتے جہاں پر وہ کھانے تیار کرتے ہیں اور موسیقی کے محفل سجاتے ہیں۔

محمدآمین قبائلی ضلع کرم کے رہائشی ہے اور پچھلے پندرہ سالوں سے موسیقی کے شعبے سے وابستہ ہے،اُنہوں نے پہلے بار اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایسے علاقے میں موسیقی پروگرام کرلیا جہاں پر پہلے مذہبی شدت پسندوں کے جانب سے موسیقی سنے پر مکمل پابندی تھی۔اُنہوں نے کہا کہ ایسے پرفضاء ماحول میں موسیقی کا اپنا ایک لطف ہوتا ہے اور لوگ بڑے شوق سے سنے کے لئے آتے ہیں۔

چپری کے علاقے کو ایک سڑک ضلع خیبر کے مرکز باڑہ اور دوسرہ کوہاٹ سے جاتاہے۔سیاحوں کے سہولیات کے لئے دس سالوں سے بند واحد شین عر ہوٹل سات ماہ پہلے دوبارہ کھول دیا گیا۔ہوٹل کے مالک امجد گل نے بتایا کہ اُنہوں نے2004میں ہوٹل بنایا اور بدامنی کے وجہ سے 2010 میں بند کردیا گیا۔

اُن کے بقول چار سال مالی مسائل کے وجہ سے وہ نہیں کرسکتاتھاکہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کرسکے لیکن یہاں پر بڑی تعداد میں آنے والے سیاحوں کے مشکلات  کو دیکھ کر ہوٹل دوبارہ کھول دیا اور آج کل روزانہ بڑی تعداد میں لوگ سیر کے لئے آتے ہیں جہاں پر اُن کو کھانا، چائے اور آرام کے سہولت باآسانی مل جاتاہے۔موجودہ وقت میں پندرہ مزدور ہوٹل میں کام کرتے ہیں جبکہ قریب دس دوکانیں بھی کھول چکے ہیں جہاں پر روز مرہ کے ضرورت کے سامان باآسانی مل جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top