کرونا وائرس:خواتین کا سائیکلنگ کی طرف رحجان کیسے بڑھ گیا؟

DSC_0952-scaled-e1602819342341.jpg

اسلام گل آفریدی

ثمرین خان سڑک پر سائیکل چلا کر اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین کے قبولیت میں مدد مل سکے لیکن وفاقی دارلحکومت اسلام آباد جیسے علاقے میں بھی اُنکوا ور دوسرے خواتین کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہی ہے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ثمرین خان ملک کے مختلف علاقوں میں سائیکل مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوا چکی ہیں بلکہ پاکستان میں امن اور سیاحت کے حوالے سے آگاہی اُجاگر کر نے کے لئے بھی شمالی علاقہ جات او روادی سوات کی سفر کرچکے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ سکو ل کے زمانے میں بھائی کے سائیکل سے شوق پورا کرنے کی کوشش میں سائیکل چلنا تو سیکھ لیا لیکن گھر کے صحن تک محدود رہا۔چارسال پہلے اسلام آباد میں اُنہوں نے مردوں کے ساتھ سائیکل کے ایک کلب میں اکیلی خاتون کے حیثیت سے اُس میں شامل ہوئی۔ کلب کے ممبران کے مشورے سے مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی سائیکل سیکھنے کی ذمہ داری ثمرین کو سنوپ دی گئی لیکن یہ تجربہ ناکام ہوا۔

“مجھے نہیں معلوم کہ یہ کوشش کیوں ناکام ہوا لیکن شاید والدین نے اپنے بچیوں کو اس وجہ سے اجازت نہیں دیا کہ وہاں پر مر دوں کے ساتھ دوستانہ ماحول دستیاب نہیں تھا۔ اکثر والدین اوردوست یہی کہتے تھے کہ اگر آپ اتنے اچھا سائیکل چلاتے اور دوسرے کو سیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں تو کیوں نہ آپ لڑکیوں کے لئے ایک الگ کلب قائم کر لیتے۔ خواتین کو سائیکلنگ کے طرف لانے کے لئے دسمبر 2019 میں”گرلز سائیکلنگ سکواڈ پاکستان”کے نام اپنے سرگرمیاں شروع کیں اور آج پچاس سے زیادہ خواتین سائیکل سیکھنے کے لئے یہاں پر آتے ہیں جو کہ کافی خوش آئند ہے”۔

ثمرین 2019کے اوائل میں دوسرے کھلاڑیوں کے ہمراہ امریکہ گئی تھی جہاں پر اُنہوں نے مختلف سپورٹس ایسوسیشنزکے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کیں اور ان لوگوں نے پاکستان کے دورے کے دوران ایف نائن پارک میں گرلز سائیکلنگ سکواڈ کے افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھیں۔

خواتین کو گھر سے باہر نکل کر کام کرتے وقت مردوں کے جانب سے اُن کو مختلف مسائل کا سامناکرنا پڑتا ہے لیکن سارے مرد اُن کے ترقی میں حائل نہیں ہوتے ہیں۔ثمرین کاکہنا ہے کہ جب وہ مردوں کے ساتھ اکیلی خاتون سائیکلنگ کرتی تھی تو کچھ لوگ تھے جن کو میر ی ذہانت اور جنس سے خوف محسوس ہونے لگا اور مختلف مسائل سامنے لانے کے ساتھ جنسی ہراحسیت کا بھی سامناکرنا پڑی لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور آج نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ دنیا بھر میں اپنا ایک مقام حاصل کرلیاہے۔اسلام آباد کے سڑکوں پر سائیکل دوڑتے وقت ثمرین کو اکثریتی لوگوں کے طرف حوصلہ افزائی ملتی ہیں لیکن کبھی کبھار قریب سے تیز رفتار موٹر سائیکل گزار اپنے موجودگی کا احساس ضرور دلاتا ہے۔

” جب میں نے جنسی ہراسیت کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرلیا تو وہاں پر بھی مردوں کے اثرورسوخ کیوجہ سے کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی لیکن اگر ایک طرف چند لوگوں کی وجہ سے مایوسی ملی تو دوسرے طرف چند مردوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے پاکستان میں خواتین کو سائیکلنک کے لئے ایک باب کھول دیا گیا ہے، اگر میں ہمت ہارتی تھی تو ایک خاتون کے پسماندگی کے طرف جان نہیں تھا “۔

اب تک پاکستان کے مختلف حصوں میں ہونے والے سائیکلنگ کے مقابلوں میں ثمر ین نے اکیلی پاکستان کی آدھی آبادی کے نمائندگی کررہی ہے۔مالم جبہ تا مینگورہ ،گلگت تا خنجراب، دامن کوہ، مونال، ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن کے طویل، خطرناک اور مشکل ٹریک کو کامیابی کے ساتھ سر چکی ہے۔”

گرلز سائیکلنگ سکواڈ کے سرگرمیاں خواتین فیس بک اور انسٹاگرم پر دیکھ کر باقاعدہ سائیکل سیکھنے اور چلانے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اوریہی دو پلیٹ فارمز ثمرین کے ساتھ خواتین کے لئے رابطے کا بہت ہی آسا ن ذریعہ ہے۔

“میں مسلسل اپنے سرگرمیاں جاری رکھتی ہوں جس کو ملک کے مختلف علاقوں میں خواتین دیکھ کر اُن کو حوصلہ ملتاہے کہ میں اتنے طویل اور مشکل سفر سائیکل سے کیسے طے کرتا ہوں اور اس بنیاد پر وہ ہم سے رابطہ کرکے خصوصاً اسلام آباد میں رہنے والے لڑکیاں باقاعدہ کلب میں سال کی ممبر شب حاصل کرلیتی ہے۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ جیسا آپ نے دیکھاکہ یہاں پر پار ک میں دوسرے بچیو ں کے ساتھ کلاس کے دوران دو لڑکیوں نے ہم کو دیکھا اور پھر وہ باقاعدہ ہمارے سکواڈ کا حصہ بنی۔ اس کے علاوہ باہرجب کسی جگہ پرخواتین ہمیں سائیکل چلاتے دیکھ لیتی ہے تو وہ رابطہ نمبر لیکر ہمارے اکیڈمی میں آجاتے ہیں “۔

ثمرین کے بقول سائیکل صرف شوق نہیں بلکہ تیراکی کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر صحت افزاء سرگرمی ہے جس سے نظام تنفس بہتر، ذہنی دباؤ میں کمی، بلندفشار خون پر قابو اور گھر سے باہر پُر فضاء ماحول میں آپ کے پریشانیوں میں کمی کا سبب بنتا ہے۔اُن کے بقول اُن کے پاس سائیکل سیکھنے کے لئے ہر عمر کے خواتین آتے ہیں جن کو مناسب فیس پر پورا سا ل ممبر شپ دیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ خواتین کے کم تعداد سائیکلنگ کے طرف آنے کا بنیادی وجہ معاشی مسائل ہے جبکہ کچھ لو گ اس وجہ سے بھی نہیں آتے کہ میں اتنا کچھ پیسے خرچ کرکے میں سیکھ بھی سکتاہوں یا نہیں۔

“ہم باقاعدہ طور پراپنے ممبرز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں جس سے ہمیں اس بات کا اندازہ لگتاہے کہ وہ باقاعدہ طور سائیکل چلانے کے مشق کو جاری رکھتی ہے کہ نہیں۔ہم نے پچھلے چارسالو ں میں دیکھا کہ زیادہ لڑکیوں کو سائیکلنگ فیلڈ جوائن نہ کرنے کی بنیادی وجہ معاشی مسائل ہے جس میں تیس سے چالیس ہزار تک سائیکل کی خریداری اور بعد میں سیکھنے کے لئے گھر سے اکیڈمی تک آنا جانا شامل ہے۔ہم لڑکیوں کے ہرممکن مدد کررہے ہیں،اکیڈمی میں کچھ اضافی سائیکل ہمارے پاس ہے جو لڑکیاں پہلے مرحلے خریدنے کی استعاعت نہیں رکھتے تو اُن مشق کے دوران مہیاکیاجاتا ہے۔ جب وہ سیکھ جاتی ہے تو والدین خوش ہوکر اُن کو سائیکل بھی خرید لیتے ہیں جوہماری بڑی کامیابی ہے”۔

کیا ہرایک سائیکل سے تربیت کی مطلوبہ ضروریات پورا کی جاسکتی ہے؟ جس کے بارے میں ثمرین کاجواب تھا بالکل نہیں،کیونکہ جب آپ نے سائیکل خریدنا ہوتا ہے تو آپ کسی ایسے بندے سے ضرور مشورہ کریں جو اس بارے میں جانتاہو۔ مارکیٹ میں زیادہ چائنہ کے بنے ہوئے سائیکل ملتے ہیں اور جس قیمت پر آپ وہ خریدتے ہیں تو اُس قیمت پر آپ کو امریکہ کا بنا ہوا اچھا معیاری سائیکل مل جاتا ہے۔

“میرے پاس جو سائیکل ہے تو یہ اچھے کمپنی کا ہے، ہلکا ہے اور استعمال شدہ، ایلومینم کابنا ہوا شاید دیکھنے میں یہ کسی کو اچھا نہیں لگے لیکن یہ بہت بہترین سائیکل ہے۔ پچھلے چند مہینوں سے سائیکل کے قیمتیں بڑھ گئے ہیں۔ پہلے جو سائیکل پچیس ہزار کا ملتا تھااب وہ چالیس ہزار کا مل رہاہے اور اگر آپ کی خریدنے کی استطاعت زیادہ ہے تو دو لاکھ تک بھی مل جاتا ہے”۔

باقاعدہ طور پر سائیکل چلانے کے اس چار سال مدت میں اتنے لوگ سائیکل سیکھنے کے طرف نہیں جتنے کرونا وباء میں لاک ڈاؤن کے دوران اور بعد میں آئے۔ اُنہوں نے کہاکہ کرونا کے وجہ سے سب کچھ بند ہوگیا اور لوگ گھروں تک محدود ہوئے تواُس وقت کافی لوگوں نے ممبر شپ کیں اور باقاعدہ سیکھنے کے طرف آئے۔

“جی بالکل کرونا کے وجہ سے لوگوں میں سائیکل چلانے کے رحجان میں کافی اضافہ ہوا جس کے وجہ سے مارکیٹ میں اچھے معیار کے سائیکل ناپید ہوگئے اور قیمتیں بھی بڑھ گئے۔جب لوگوں سے سائیکل چلانے کے بارے میں پوچھتے تھے تو اُن کا جواب ہوتا کہ کرونا کے اس مشکل صورتحال میں ایک تو آپ بیماری سے محفوظ سفر کر ینگے اور ساتھ آ پ کے جسم میں قوت مدفعت بھی بڑھ جائیگا”۔

حکومتی سطح پر ہونے والے سائیکلنگ کے فروغ کے لئے جو کچھ ہوتا ہے تو ثمرین اُس سے ہٹ کر اپنے مد د آپ کے تحت کام کررہی ہے۔ اُن کہناہے کہ حکومت صرف چند لوگوں کو سائیکل چلانے کا موقع فراہم کرتا ہے جو تیز رفتاری کے ساتھ سائیکل دوڑا سکتاہوں لیکن ہم ایسے یہ نہیں کرتے، سارے لوگوں کو صحت افزاء سائیکلنگ کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ثمرین کی سرگرمیا ں اسلام آباد تک محدود ہے لیکن وہ مستقبل میں ملک کے دیگر شہروں میں بھی خواتین کے سائیکلنگ کے حوالے منصوبہ بندی کررہی ہیں۔اُنہوں نے بتایاکہ سوشل میڈیا پر زیادہ خواتین پشاور،لاہور،کراچی،کوئٹہ اور دیگروں شہروں سے رابطے کرتے ہیں کہ آپ تو صرف اسلام آباد کے خواتین کے سائیکلنگ سیکھا رہی ہمارے لئے بھی کچھ کریں۔

“میراپلان ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں ایسے مراکز قائم کرلوں جہاں پر خواتین آکر وہاں پر سائیکل چلانے میں اُن کو بہتر ماحول مل سکے۔ابتداء میں پشاور ہی سے کرنا چاہتی ہوں کیونکہ وہاں سے بہت سے کالز اور پیغامات موصول ہوتے ہیں۔میرے خیال میں پاکستانی خواتین میں سائیکل چلانے میں کافی صلاحیتیں موجود ہیں جس کو بروئے کار لانا ضروری ہے جس کے بنیاد پر خواتین اپنے حقوق کی جنگ لڑ سکتی ہے لیکن ہمت کرکے اُن کو آگے آنا پڑیگی “۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top