سائبر کرائمز:ضلع کرم میں پولیس اہم اقدامات اٹھا رہی ہے،قریش خان

66942594-9ffb-44d6-9d17-f6e27b34c4b0.jpg

ضلع کرم کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٰ(ڈی پی او) قریش خان نے کہا ہے کہ نئے ضم شدہ اضلاع خصوصاً ضلع کرم میں سائبر کرائمز ہر قابو پانے کیلئے پولیس اہم اقدامات کر رہی ہے،اس حوالے سے ابتدائی مرحلے میں ضلعی پولیس نے منفرد اقدام اٹھاتے ہوئے پولیس بیک گراؤنڈ چیک (پی بی سی یو) کے نام سے ایک نیا یونٹ قائم کیا ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار پی بی سی یونٹ کے افتتاح کے موقع پر کیا۔

انہوں نے اس کامیابی بارے بتاتے ہوئے کہا کہ پی بی سی یونٹ کے زریعے پولیس ایک فرد کی نہ صرف علاقائی مشران و ملکان سے ان کے اباؤ اجداد کے بارے معلومات اکھٹی کرتا ہے بلکہ ان کے علاقے کے پولیس سٹیشن سے اور ڈی ایس پی دفتر سے ان کے جرائم کا ریکارڈ اور سوشل میڈیا چیک فارم کی بھی تصدیق کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا چیک فارم میں درخاست گزار پہلے اپنے اکاونٹس کی تصدیق کرتا ہے اور انگوٹھی لگاتا ہے جس کے بعد پی بی سی یونٹ ان اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرتا ہے کہ کہیں سائبر کرائم سے متعلق مواد تو پبلش نہیں کیا گیا۔نوجوانوں کو کسی قسم کی نوکری کی درخاست کے ساتھ پی بی سی یونٹ سے کلئیرنس سرٹیفیکیٹ لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

محمد قریش کے مطابق محکمہ پولیس کی جانب سے بیک گراونڈ چیک یونٹ سسٹم متعارف کرنے کا مقصد سوشل میڈیا پر نفرت آمیز مواد پھیلانے والوں کا مکمل کوائف یا ریکارڈ چیک کرنا اور سائبر کرائم کو کنٹرول کرنا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کرم میں سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ایک بہت بڑا مسئلہ رہا ہے ، اور خاص طور پر نوجوانوں کی جانب سے پچھلے کچھ عرصے سے نفرت انگیز  مواد شئیر کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو سائبر جرائم کے دائرے میں آتا ہے، لوگوں کو اس کے بارے میں شکایات عام تھیں۔ اور ان شکایات کی روشنی میں 10 مقدمات ایف آئی اے سائبر کرائم سیکشن کو بھی بھیجے گئے ہیں

انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم اور پی بی سی یونٹ کے حوالے سے کرم پولیس وقتا فواقتا آگاہی سیشنز بھی منعقد کرتی ہے تاکہ نوجوانوں اور وہاں کے عمائدین کو اس طرح کے جرم اور اس کے اثرات سے آگاہ کیا گیا۔ ڈی پی او کے مطابق کرم بار ایسوسی ایشن کو بھی نوجوانوں کو اس معاملات پر آگاہی دینے کے لئے شامل کیا گیا اور انکو بتیا گیا کہ سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال معاشرتی اقدار کے خلاف ہے اور اخلاقی اور قانونی جرم ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کا مندرجہ ذیل مقاصد ہے۔

1:- نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں زیادہ تر لوگ ایف سی آر کے خاتمے کے بعد سائبر جرائم کے قوانین حتی  کہ بنیادی قوانین سے بھی واقف نہیں ہیں۔

2:- سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال بنیادی طور پر قانونی لاعلمی کی وجہ سے ہے- نوجوان سب سے زیادہ تعداد میں سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اسی لئے ہماری بنیادی توجہ ان پر ہی ہیں ۔

3:- سابق فاٹا کے لوگوں کے لئے قانونی بیداری بہت ضروری ہے۔

4:- بیک گراونڈ چیک لسٹ نہ صرف سابقہ ، موجودہ جرائم کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال ہے بلکہ فرد کی بھی ہے۔ سائبر اسپیس میں انفرادی اقدامات بھی اہم ہیں … کیوں کہ سمارٹ فون رکھنے والے نوجوان اپنا زیادہ تر وقت کمیونٹی میں گزارے کی بجائے سائبر اسپیس میں صرف کرتے ہیں۔

5:- سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال پرامن اور محفوظ برادریوں کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

ضلع کرم کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد قریش نے دعویٰ کیا کہ  پی بی سی یو کے ذریعے دو ماہ کے اندر سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کافی حد تک کم ہوا ہے اور نوجوان کو اب معلوم ہے کہ ملازمت کی درخواستوں کے لئے  بھی پی بی سی یو کی تصدیق ضروری ہےاس اقدام کا تعلق مستقبل میں عوام کو پاکستان کا ایک ذمہ دار شہری بنانا اور میڈیا پلیٹ فارم کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف نوجوان کو آگاہی دی گئ ہے بلکہ سائبر جرائم ، ہراساں کرنے وغیرہ کی شکایات میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top