صوبائی حکومت جامع تعلیمی پالیسی کا اہتمام کریں، پروفیسر محمد ابراھیم

IMG_20190307_135026.jpg

محمد طیب

پشاور:نیشنل ایسوسی ایشن فار ایجوکیشن( نافع) نے خیبرپختون خوا میں پرائمری اور مڈل کے لیے نئی امتحانی نظام کو بیرونی ایجنڈہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف صوبے میں تعلیمی نظام پر تجربے نہ کریں، فوری طور پر جماعت پنجم اور جماعت ہشتم کے بورڈ امتحانات کا فیصلہ واپس لیں ۔

ان خیالات کا اظہار نیشنل ایسوسی ایشن فار ایجوکیشن( نافع) پاکستان کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں موثر نظام امتحانات کے حوالے سے سمینارمیں مقررین نے کیا ۔ سمینار میں تمام نجی سکولوں کے سربراہان اور نجی تعلیمی تنظیموں کے سربراہان نے شرکت کی۔

پرو گرام کے مہمان خصوصی سابقہ سنیٹر اور جماعت اسلامی کے  تعلیمی کمیٹی کے چیئر مین پروفیسر ابراھیم  نے سیمینار سے خطاب کے دوران کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے جماعت پنجم اور جماعت ہشتم کے بورڈ امتحانات کا فیصلہ کیا ہے جو کہ انتہائی حیران کن ہے انہوں نے کہا اس سے بچوں کے تعلیمی ساخت بہت متاثر ہوگی اور ہمارے تعلیمی نظام میں پہلے سے ہی بہت مسائل ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بیرونی ایجنڈہ اور ایڈم سمتھ کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر تعلیمی نطام میں جان بوجھ کر تبدیلیاں کر رہی ہے جس سے صوبے کے نجی سکولوں اور نجی تعلیمی تنظیموں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایڈم سمتھ ادار ہ دنیا کے بعد اس صوبے میں سب سے زیادہ فنڈنگ کر رہا ہے جو کہ تشویش کی بات ہے انہوں نے کہ بد قسمتی سے اس ملک میں تعلیم کی وزارت اکثر نااہل لوگوں کو دیا جاتاہے جس سے بیرونی ادارے فائدہ اُٹھا کر ہمارے نظریاتی اور اسلامی شناخت پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتا ہے ۔

نافع کے ڈائریکٹر ہدایت خان نے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا تعلیمی میدان میں خیبر پختون خوا میں الگ ایجنڈا ہے اور صوبہ پنجاب میں الگ ایجنڈا ہے ۔ انہوں نے کہا کہاس صوبے کے تعلیمی نظام میں ملک کے نظریاتی اور اسلامی شناخت پر حملے کیے جارہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں جماعت پنجم کے بورڈ امتحانات کا سسٹم نہیں ہے صرف اس صوبے میں یہ سسٹم رائج کیا جا رہا ہے جاپان اور فن لینڈ کے ترقی کا راز تعلیم ہے وہاں پر پرائمری تک امتحانات کا تصور نہیں ہے بلکہ بچوں کو اخلاقیات سکھائے جاتے ہیں لیکن اس صوبے میں بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر نت نئے تجربے کیے جا رہے ہیں ۔

مقررین نے کہا  کہ خیبر پختون خوا ریگو لر ٹری اتھارٹی کے ذریعے سے نجی تعلیمی اداروں پر بے جا جرمانے لگائے رہے ہیں جو اداروں اور بچوں کو مالی طور پر متاثر کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو تعلیمی نصاب نظریہ پاکستان کے مطابق ترتیب دینا چاہئے نہ کے نظامی امتحانات میں رد و بدل کر کے دوسرے مسائل کھڑے کریں ۔

مقریرین نے وزیراعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور وزیر تعلیم خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ کہ صوبے میں تعلیمی مسائل کو سنجیدگی سے حل کیئے جائے اورنجی تعلیمی اداروں کی کار کردگی کو فعال بنانے کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائیں ۔ تمام تعلیمی بورڈز میں غیر متعلقہ افسران کی تعلیمی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں ، مقررین نے یہ بھی مطالبہ کیا صوبائی محکمہ تعلیم جماعت پنجم اور ہشتم کے بورڈ امتحانات لینے اور جماعت نہم اور دہم کے اکھٹے امتحا ن لینے کا فیصلہ واپس لیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top