کیا گدھے بھی بادشاہوں کا کھیل “پولو” کھیل سکتے ہیں؟

96-e1600785700963.jpg

گل حماد فاروقی

پولو کو بادشاہوں کا کھیل یا کھیلوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔بادشاہوں کے اس کھیل کیلئے شاہی سواری یعنی گھوڑا بھی ضروری ہوتا ہے مگر آج کل گھوڑا نہایت مہنگا ملتا ہے جب گھوڑ ا دستیاب نہ ہو یا پھر مزے کیلئے بھی بعض اوقات بروغل کے لوگ اس شاہی کھیل کو گھوڑوں کی بجائے گدھوں سے بھی کھیلتے ہیں۔

وادی بروغل میں دیگر کھیلوں کے ساتھ ساتھ گدھا پولو کے بھی مقابلے ہوئے یہ دلچسپ کھیل صوبائی حکومت کے محکمہ سیاحت کے ادارے ٹورزم کارپوریشن خیبر پحتون خواہ کے مالی تعاون سے منعقد کرائے گئے۔ گھوڑا پولو نہایت آسان ہے جس میں کھلاڑی تربیت یافتہ گھوڑے کو اپنی مرضی سے دوڑا کر بال کو قابو کر لیتا ہے یا اس پر کیک مارکر گول کردیتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں گدھا پولو نہایت مشکل کھیل ہے۔

گدھا پولو کے دوران کھیل کا میدان اس وقت میدان زار زعفران بن جاتا ہے جب کوئی ضدی گدھا ہٹ دھرمی کرتے ہوئے میں نہ مانوں کہہ کر آگے بڑھنے سے انکار کرے۔بچارا کھلاڑی ہزاروں جتن کرے مگر گدھا اسی جگہ کھڑے ہوکر ٹس سے مس نہیں ہوتا اور عین اسی وقت محالف ٹیم کا کوئی کھلاڑی آکر بال پر کیک مارتا ہے اور گول کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ادھر یہ کھلاڑی حیران و پریشان اپنے گدھے کو کھوستا ہے کہ کرے بھی تو کیا کرے۔یہ کھلاڑی صرف محو تماشا اپنے مد مقابل کھلاڑی کو دیکھ کر حسرت بھری نگاہوں سے اس کی کامیابی کو دیکھتا ہے۔

بروغل میں گدھا پولو کھیلنے والے کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ صدیوں سے اس روایتی کھیل کو اپنی مدد آپ کے تحت کھیلتے رہتے ہیں اور ان کی طرف سے بھی حکومت کی طرف سے مالی مدد ہونا چاہئے۔ شمشیر احمد پچھلے 8 سالوں سے گدھا پولو کھیلتا ہے مگر اس کے ساتھ ابھی تک حکومت کی جانب سے کسی قسم کا امداد نہیں ہوا ہے۔

اسلم بیگ بھی گدھا پولو کھیلتا ہے ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ ہمارے لئے کوئی وظیفہ مقرر کرے کیونکہ گدھے کیلئے چارہ اور اس کا علاج بہت مہنگا پڑتا ہے۔ بروغل تہوار میں رنگا رنگ تقریبات اور نہایت دلچسپ روایتی کھیلوں کو دیکھنے کیلئے آنے والے سیاحوں نے لمبے سفر اور سڑکوں کی حرابی کی شکایت کی ہے۔

گدھا پولو کھیلنے والے یہ کھلاڑی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی مالی مدد کی جائے یا ان کیلئے کوئی وظیفہ مقرر کیا جائے تاکہ وہ یہ صدیوں پرانا روایتی کھیل جاری رکھ سکے اور اسے حتم ہونے سے بچایا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top