کیا تین نئے راستوں پر ٹرانزٹ ٹریڈ کے اجازت سے پاک افغان تجارت بڑھ جائیگا؟

afghan-studies-center-kabul-islamabad.jpg

اسلام گل آفریدی

افغان سرحد پر واقع قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مقامی آباد ی کو بھاری جانی اور ما لی نقصانات کا سامنا ہوا جس سے پاک افغان تجارت بھی بری طرح متاثر ہوا۔ضم اضلاع اور خیبر پختونخوا کے علاقوں سے گزرنے والے اٹھارہ سرحدی گزر گاہوں میں طورخم کے علاوہ باقی مکمل طور پر بند ہے اور یا محدود تجارتی مقاصد کے سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جاتاہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت بڑھنے کے لئے پاکستان کے اعلیٰ حکام دعوے تو بہت زیادہ کررہے ہیں لیکن حقیقت میں تاجر برادری انتہائی مایوسی کا شکار ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور سابق سفیر محمد صادق خان نے حال ہی میں شمالی وزیر ستان میں غلام خان، جنوبی وزیر ستان میں انگور اڈہ اورضلع کرم میں خرلاچی سرحدی گزر گاہوں پر ٹرانزٹ ٹریڈ کے مد میں پاکستان سے تجارتی سامان کی ترسیل اور افغانستان سے تجارتی سامان لانے کاباقاعدہ اعلان کیا ہے۔ صادق خان کے مطابق افغانستا ن کے ساتھ ہونے والے تجارت کے 80فیصد طورخم جبکہ 20فیصد حصہ دوسرے سرحدی مقامات سے بھیج دیاجاتا ہے جس کے وجہ سے طور خم میں رش کے ساتھ مسائل میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔

شمالی وزیر ستان کے تاجر رہنماء حاجی عبداللہ خان نے بتایا کہ مقامی تاجر وں کا طویل عرصے سے یہی مطالبہ تھا کہ غلام خان کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کی اجازت دیا جائے تاکہ علاقے میں دہشت گردی سے متاثر معیشت کے بحالی میں مدد مل سکے۔ اُنہوں نے حکومت کے حالیہ اعلان کو خوش آئند قراردیا تاہم اُن کے بقول ان اعلانات کی ثمرات تب آنا شروع ہوجائینگے کہ جب سرحدی مقامات پر تاجروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیا جائے۔

جنوبی وزیر ستان میں واقع سرحدی گزرگاہ انگور اڈہ بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے فروغ کے لئے انتہائی اہم راستہ ہے تاہم حکومتی اداروں کے عدم توجہ کے بناء پر اس گزرگاہ پر نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارت پر کافی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں بلکہ مقامی افراد کو بھی معاشی فوائدسے محروم کیا جارہاہے۔

وانا ٹریڈ یونین کے صدر سردار علی وزیر نے کہا کہ انگور اڈہ پر ہونے والے تجارتی سرگرمیاں آج کل اہم مسائل کا شکارہیں جس کے وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان انتہائی محدود پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ خراب سڑک کے وجہ سے مال بردار گاڑیوں کو سرحد تک پہنچنا ناممکن سا ہوگیا ہے۔ اُن کے بقول تجارتی معاملات میں کسٹم اہلکاروں کے بجائے سیکورٹی ادارے مداخلت کررہے ہیں جس کے وجہ سے تاجروں اور گاڑیوں کے مالکان کو کافی مسائل کاسامنا کرنا پڑ رہاہے۔

مقامی تاجروں کے مطابق موجودہ وقت انگوراڈہ میں پاکستان سے پرچون سامان سے بھرے پندرہ سے بیس گاڑیاں افغانستان جاتے ہیں جبکہ وہاں سبزیاں اور میوہ جات کے دس سے پندرہ گاڑیا ں پاکستان آتے ہیں۔ تاجروں کے کہنا ہے پاکستان سے تجارتی سامان افغان لے جانا انتہائی مشکل اور تکلیف دہ عمل ہے کیونکہ ایک چیک پوسٹ پر پولیس گاڑی کو روکتا ہے کہ فلاں مال لے جانے کی اجازت نہیں، کئی گھنٹوں کے بعد گاڑی کو جانے کی اجازت مل جاتاہے تو تھوڑے ہی فاصلے پرایف سی اور بعد میں فوج کے جانب سے یہی عمل دہرا یا جاتا ہے۔ کسٹم برائے نام ادارے کے طورپر موجود ہے اور دوطرفہ تجارت میں تاجروں کو سہولیات مہیاکرنے میں بری طرح ناکام ہے۔

غلام خان سرحدی گزرگاہ جون 2014میں شمالی وزیر ستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی فوجی آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے بند کردیا گیا جبکہ دو بڑے تجارتی مراکز میرانشاہ اور میرعلی جس میں تقریبا بیس ہزارسے زائد دوکانیں مکمل طور پر مسمار ہوئے یا اُن کو جزوی نقصان پہنچا۔ مقامی تاجروں کے کمائی زیادہ انحصار سرحد پر دوطرفہ تجارتی سرگرمیوں سے تھا۔تاجر برادری کے علاقے میں تباہ شدہ معیشت کے بحالی کے لئے غلام خان کے راستے تجارتی بڑھنے کے مطالبے طویل عرصے سے کررہے ہیں۔

حاجی عبداللہ خان نے موجودہ وقت میں غلام خان کے راستے افغانستان سے ہونے والے تجارت میں درپیش مسائل کے بارے میں بتایا کہ غلام خان پر ٹرانزٹ ٹریڈ کے اجازت نہ ہونے کی وجہ سے محدود پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں ہوتے ہیں۔ اُن کے بقول یہاں پرطورخم اور چمن کی طرح سہولیات موجود نہیں ہیں جس کے وجہ سے تاجروں اور گاڑی مالکان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تاہے۔اُنہوں نے کہاکہ افغانستان سے آنے والے مال بردار گاڑیوں کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دیاجاتا اور سرحد پر مال کودوسرے گاڑی میں منتقل کردیاجاتا ہے جس سے کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے اور مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔

غلام خان پر کسٹم حکام کے مطابق روزانہ پاکستان کی جانب سے سو سے ایک سو دس مال بردار گاڑیا ں جن میں بڑی مقدار میں سیمنٹ، کیلا اور زرعی اجناس برآمد کیا جاتا ہے جبکہ افغانستان سے چالیس گاڑیاں گزرگاہ کراس کرتی ہے جن میں تازہ میوہ جات اور سبزیاں لاتے ہیں تاہم محر م کے بعد انگور کے سیزن میں گاڑیوں کی یہ تعداد مزید بڑھ جاتاہے۔

افغانستان کے ساتھ سرحدی گزر گاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں متعلقہ اداروں کے بجائے غیر متعلقہ سرکاری اداروں کے مداخلت کے شکایت سامنے آرہے ہیں اور دوطرفہ تجارت دن بدن کمی واقع ہورہی ہے۔

طورخم کے کسٹم ایجنٹس کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کے شرط پر بتایاکہ طورخم میں ایک ہزار سے زیادہ مال بردار گاڑیو ں کے پار کنگ کی گنجائش تھی لیکن پچھلے پانچ سالوں سے این ایل سی ٹرمینل کے تعمیرمیں مصروف ہے جس کے وجہ سے سینکڑوں کے تعداد میں گاڑیاں لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ میں سڑک کے کنارے دو،دو ہفتوں تک انتظار کرتے ہیں۔

پاک افغان و سنٹر ایشاء ٹریڈز کے کنوونیئر شاہد شینواری کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی یہ کوشش ہے کہ افغانستان کے تجارت میں اضافہ ہو او ر اس مقصد کے لئے کرونا کے پیش نظر تقر یباً چار مہینوں تک بند سرحدی گزرگاہوں کو مسلسل کوششوں کے بعد کھول دیا گیا۔ اُنہوں نے کہاکہ روزانہ سات سوگاڑیاں پاکستان سے افغانستا ن اور تقریبا ساڑھے تین سو گاڑیاں فغانستان سے پاکستان آتے ہیں۔ طور خم میں گاڑیوں کے رش اور مسائل کے بارے میں اُن کاکہناتھا کہ چمن سرحدی گزرگاہ کے پچیس دنوں کے بند ش کے وجہ سے طورخم میں گاڑیوں کے تعداد میں اضافہ ہوا۔اُن کے بقول گاڑیوں کے تعداد روزانہ سترہ سوتک بڑھنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی ہدایت کے مطابق ستمبر سے غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ کے سرحدی گزرگاہوں پر ٹرانزٹ ٹریڈ کے سرگرمیاں شروع ہوجائینگے اور گاڑیوں کے تعداد ایک دن میں سولہ سو گاڑیا ں سرحد پار جائینگے۔ بظاہر یہ ناممکن دکھائی دیں رہا ہے۔

نادراکے دفاتر صرف چمن اور طورخم پرموجود ہے جس کے وجہ سے انگوراڈہ، خرلاچی اور غلام خان پر عام لوگوں کے آمد ورفت ممکن نہیں جس کے وجہ سے تاجربرادری کو بھی کافی مسائل کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔

ضلع کرم میں تاجربرادری کے رہنماء مصنف رحمان نے کہاکہ تین سرحدی گزرگاہوں میں صرف خر لاچی پر افغانستا ن کے ساتھ محدود پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پرچون اشیائے خوردنوش کے ساتھ تعمیراتی مواد کے روزانہ چالیس سے پچاس گاڑیاں پاکستان سے افغانستان جاتے ہیں جبکہ کوئلہ، میوہ جات اور سبزیوں سے بھرے تیس سے چالیس ٹرک پاکستان آتے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ خر لاچی کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ سے دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا لیکن یہ تب ممکن ہے کہ وہاں پر کسٹم حکام کو جدید سہولیات دی جائے اور نادرا آفس قائم ہو سکیں کیونکہ موجودہ وقت میں تاجراور عوام کو سرحد پر آنے جانے کی اجازت نہیں ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق کے غلام خان راستہ مخصوص اور بااثر تاجروں کو بڑی مقدار میں سیمنٹ افغانستان برآمد کرنے کی اجازت ہے جبکہ دوسرے تاجروں کو سرکاری حکام کے جانب سے مسائل پیدا کرکے اُن کو کاروبار چھوڑنے پر مجبور کیاجاتا ہے۔

مرکزی حکومت کے جانب سے انگور اڈہ، خرلاچی اور غلام خان کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کے اجازت کے فیصلے پر طورخم کے مقامی تاجران پریشان دکھائی دے رہے ہیں اور اُن کا موقف ہے کہ مقامی تاجروں کو پچھلے کئی سالوں سے سرحد پر بہتر تجارت کے لئے مسائل دور کرنے کے مطالبے کئے جارہے ہیں لیکن بدقسمتی سے اُن کو دور کرنے کے بجائے اُس میں روز بروزاضافہ ہوتاجارہا ہے 18ستمبر 2019کو وزیر اعظم عمران کان نے دوطرفہ تجارتی حجم بڑھنے کے لئے طور خم گیٹ کو چوبیس گھنٹے کھلارکھنے کا باقاعدہ افتتاح کردیاتھا تاہم کوئی خاطر خوا نتائج سامنے نہیں آئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top