پشاور سے تعلق رکھنے والی مصنفہ آسیہ جمیل کا ناول ‘ایمازون’ میں شائع

bc8f32bb-976a-42c2-9846-9d6b9a9cf7b7.jpg

اسلام گل آفریدی

پشتون معاشرے میں خواتین اور خواجہ سراء کو درپیش مسائل پر بات کرنا انتہائی حساس مسئلہ سمجھا جاتا ہے لیکن پشاور سے تعلق رکھنی والی آسیہ جمیل نے انتہائی خوبصورت انداز میں ان مسائل کو ایک انگریزی ناول” اے پرنس ہو ڈسٹرائیڈ مائی لائف “ایک شہزادے نے میر ے زندگی کو کیسے تباہ کردیا کے عنوان سے لکھا۔

اُن کے لکھی ہوئی ناول جس کو عالمی اشاعتی ادارے ایمازون نے شائع کرکے اُن کو پہلی پشتون مصنفہ کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔مصنفہ نے پشتون خاندانوں میں سنائے جانے والے روایتی کہانیوں کو جدیدشکل میں دنیا کے سامنے رکھا۔

آسیہ جمیل نے کہاکہ لڑکی کو بچپن ہی میں گڑیا دیکر اُس کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ آپ نے مستقبل میں صرف بچے ہی پیدا کرنا ہے لیکن مذہب اور اپنے ثقافت کے دائرے میں رہ کرخواتین کو معاشرے کے ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اُن کاکہنا ہے کہ ناول میں ایک لڑکی ُ’پاغوندہ ‘کا مرکزی کردار ہے جس کا ایسے بندے کے ساتھ شادی ہوتی ہے جو اُن سے عمر میں بیس سال بڑا ہے لیکن کہانی میں تشدد کے بجائے یہ دکھایا گیا ہے کہ اُن کے شوہر کو اس بات کی سمجھ ہوتا ہے کہ اُن کی بیوی کو گھر چلانے کا تجربہ نہیں تو وہ پوری طریقے سے اُس کی مدد کررہا ہے۔ آسیہ کاکہنا ہے کہ ’پاغوندہ ‘ کو صحت کے مسائل کا تب سامنا کرنا پڑجاتاہے کہ جب خاندان اور رشتہ دارو ں کے جانب سے بچوں کے پیدائش کے حوالے سے باتیں شروع ہو جاتی ہے۔

ناول میں بھی وہی پشتون روایات کے مطابق شوہر اور ساس بہو سے صرف لڑکے ہی پیدا کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ’پاغوندہ ‘کے دو بیٹیا ں پیدا ہوجاتی ہیں لیکن خاندان والے اس پوری عمل سے کافی پریشان ہوتے ہیں۔ آسیہ کاکہنا ہے کہ ُ’پاغوندہ ‘ کے ساس نے اُن کو واضح الفاظ میں کہہ چکے تھے کہ اگر آنے والے بھی بیٹی ہوگی تو اُس کی حمل کو ضائع کیا جائیگا جو اُن کے زندگی میں ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ وہ کہتی ہے کہ نہ تو مذہب اور نہ ہی ہمارے روایات اس قسم کے اقدام کی اجازت دیتا ہے۔

کہانی آگے جاکر جب ’پاغوندہ ‘ تیسری بچے کی اُمیدوار ہوجاتی ہے تو اُن کی ساس اُس کے ساتھ الٹرا ساؤنڈ کے لئے ساتھ چلی جاتی ہے تاکہ پیدائش سے پہلے اُس کے جنس کومعلوم کیا جاسکے۔ڈاکٹر کے جانب سے رپورٹ میں اُن کو کہا جاتا ہے کہ بیٹی نہیں، تاہم اُن یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ بیٹا بھی نہیں۔ اس پیش رفت کے بعدخاندان میں خوشی منانے کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیاجاتا ہے۔

کہانی میں آگے بتایا گیا ہے کہ جب ’پاغوندہ ‘ کی تیسرا بچہ خواجہ سراء پیداہوجاتا ہے اور خاندان کے سارے لوگ یہی کہتے تھے کہ اُس کو ماردیا جائیگا کیونکہ اس کو گھر لانا بڑی شرم کی بات کی ہے تاہم ’پاغوندہ ‘ اور اُس کی سہیلی بڑی عقل مندی کے ساتھ اُس بچہ کی پرورش کرکے مستقبل میں وہی خواجہ سراء معاشرے اور ملک کے ترقی میں مثالی کردار ادا کرتے ہیں۔

آسیہ نے ناول میں پشتو کے اُن گانوں کو بھی شامل کیا ہے جن میں خواتین کے خدمات، حقوق اور معاشرے میں اُن کی اہمیت کے پہلو کو اُجاگر کیا گیا ہو۔پشتون آبادی میں خواتین مصنفین کے تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اس وجہ سے مر د ہی اُن کے مسائل پر کم اور حسن و جمال کے حوالے سے زیادہ لکھتے ہیں۔

آسیہ جمیل کا کہنا ہے کہ خواتین کو درپیش مسائل خواتین ہی اچھے انداز میں اُجاگر کرسکتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے خود قریب سے ان مسائل کا سامنا کیاہوتا ہے۔ آسیہ نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے پشتون علاقوں میں خواتین کو صرف بچے پیداکرنے اور گھر کے کام کاج سنبھالنے کے ذمہ داری تک محدود سمجھاجاتا ہے جوکہ ایک غلط تاثیر ہے۔اُن کے بقول بچیوں کو تعلیم کی سہولت دیاجائے اور اُن کو معاشرے میں ذمہ داری کا احساس دلاکر ملک اور معاشرہ ترقی کرسکتاہے۔
انگریزی ناول کو جلد پشتو میں ترجمہ کیا جائیگا۔

بحیثیت خاتون مصنفہ اُن کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پورے ملک اور خصوصاً پشتون علاقوں میں شعر اور نثر کے تحریر میں خواتین کے تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جسکی وجہ سے مرد اپنے نقطہ نظر سے دنیا کے سامنے خواتین کی مسائل اُجاگر کرنے کے بجائے صرف حسن وجمال تک ہی محدود رہتاہے۔ اپنے تجربے کے بنیاد پر اُنہوں نے کہا کہ تحریر میں نے جن میں مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے وہ خود اس پورے عمل کو قریب سے دیکھ چکی ہے جس کی بنیاد پر میں کہتی ہوں کہ خواتین کے نمائندگی صحیح معنوں میں مرد نہیں کرسکتا۔

 

آسیہ جمیل کو ن؟

آسیہ جمیل جن کو خاندان والے ایمان جمیل کے نام سے جانتے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے انگریز ی ادب میں ماسٹر کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ازدواجی زندگی کا آغاز کیا تاہم بچپن سے انگریزی زبان سے محبت کم نہیں ہوا اورحال ہی میں ایم فل کی ڈگری مکمل کرلی۔ اپنے خاندان میں وہ پہلی خاتون ہے جنہوں نے نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ابتداء میں درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئی لیکن زمانہ طالب عملی سے فلاحی کاموں میں حصہ لیتی اور یہی وجہ تھی کہ اُنہوں نے مستقل طورپر اپنا مشن بنالیااور پچھلے پندرہ سالوں سے پاکستان اور خصوصاً قبائلی اضلاع میں بچوں اور خواتین کے حقوق کے لئے کام کررہی ہے۔ آسیہ کا یہ سفر نے خاندان اور دوسرے رشتہ داروں میں لڑکیوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوئی۔

زمانہ طالب عملی میں گھر کے اندر اپنے بڑوں سے روایتی کہانیاں سنتیں تھیں ا ور اس کے بنیاد پر اُنہوں نے کہانیان لکھنا شروع کیا۔گھرمیں ماں، خالہ اور خاندان کے دوسرے بڑے عمر کے خواتین میں خدادادصلاحیت موجود تھا اُن کو بہت سارے کہانیاں زبانی یاد تھے لیکن ناخواندگی کے بناء پر وہ ان کو تحریرکے عمل سے محروم تھے۔

آسیہ ان کہانیوں کو جمع کرنا شروع کیا اور اس کو باقاعدہ تحریر کے شکل میں محفوظ تو ضرور کرلیا لیکن اُس میں ہمیشہ مظلوم خاتون کے روپ کو تبدیل کرکے اُس کو ایک باوقار اور معاشرے میں اس کے ترقی کے لئے کردار کو اُجاگر کیا۔

اُنہوں  نے بچوں کے بہتر ذہنی نشوونما کے لئے روایتی مصنفوں سے ہٹ کے تحریر کی ہے جس میں اُن کومعاشرے میں امن وترقی کے لئے اُن کے کردارکو موضوع بحث بنایا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top