کولائی پالاس کا ضلعی ہیڈکوارٹر تبدیلی کے خلاف مقامی مکینوں کا احتجاج

5c1c1cfd88af8.jpg

طارق عزیز

بشام/شانگلہ: کوہستان کے کولائی ، مداخیل آباد اور بٹیڑہ کے رہائیشیوں نے کولائی پالاس  ضلع کے نئے ہیڈ کوارٹر کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ اس سلسلے میں ان علاقوں کے باشندوں نے منگل کے روز ضلع شانگلہ بشام میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی پچھلی صوبائی حکومت نے کولئ پالس کوہستان ضلع کے لئے بٹیڑہ کو ہیڈ کوارٹر مقرر کیا تھا تاہم موجودہ صوبائی حکومت نے بٹیڑہ کی جگہ پالس کو کولئ پالس کا ہیڈ کوارٹر مقرر کیا ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے تاہم ہم اس کو مسترد کرتے ہیں اور یہ ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے۔

صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مقامی رہنما کا کہنا تھا ” کہ۔ہم ضلعی انتظامیہ کو کسی صورت کولئ جانے نہیں دیں گے، اور اگر ہمارا مطالبہ نہیں مانا گیا تو شاہراہ ریشم کو مکمل بند کریں گے اور کسی بھی نقصان کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہوگی”

انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنا اعلامیہ واپس لے اور بٹیڑہ کو کولئ پالس کوہستان کا ہیڈ کوارٹر برقرار رکھے۔ مظاہرین نے دھمکی دی کہ اگر فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو اگلے لائحہ عمل کی طرف جائیں گے اور احتجاج کا دائرہ کار وسیع کردیں گے،اور مطالبہ ماننے تک کسی بھی حدتک جانےسے گریز نہیں کریں گے،  اور اگر احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کا جانی یا مالی نقصان ہوا تو اسکی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ محمود خان پر الزام لگایا کہ وہ دو قوموں کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ کوہستان تین اضلاع پرمشتمل ہے جس میں اپر کوہستان، لوئر کوہستان اور کولائی پالاس  کوہستان شامل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top