جامعات کی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کرینگے،صدر فپواسا خیبر پختونخوا

0.jpg

پشاور:فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک سٹاف ایسوسیشن صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر ڈاکٹر سرتاج عالم کاکا خیل نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اساتذہ کی رائے جانے بغیر جامعات کے قوانین میں ظالمانہ تبدیلی کی گئی تو اس کے ردعمل کی ذمہ داری حکومت وقت پر ہوگی۔

میڈیا کو جاری پریس ریلیز کے مطابق صدر فپواسا  نے کہا کہ اگر حکومت نے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی تبدیلی کی تو  ایسے یکطرفہ اقدامات صوبہ پختونخوا کے پروفیسرز کو کسی طور پر قبول نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کہ موجودہ حکومت نے پہلے پنجاب میں ایک آرڈیننس کے ذریعے جامعات کے ایکٹ میں تبدیلی لانے کی کوشش کی تاہم وہاں کی جامعات کی طرف سے انتہائی سخت ردعمل سامنے کے بعد حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور مذکورہ آرڈیننس کو واپس لیا گیا۔

ڈاکٹر سرتاج عالم نے صوبائی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت بھی پنجاب حکومت کی طرح کسی قسم کے ایڈونچر کی کوشش کرے گی تو صوبہ بھر کی جامعات کے ہزاروں پروفیسرز اور دوسرے انتظامی عملہ کی طرف سے جو بھی ردعمل ہوگا،اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

صدر فپواسا نے حکومت کی طرف سے جامعات پر جاری پابندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح حکومت نے بڑے ہی احسن انداز میں جامعات پر موجود پابندی کو ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے،اسی طرح فپواسا یہ امید رکھتی ہے کہ حکومت وقت جامعات کے قوانین بارے بھی تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے گی۔

اُن کا مزید کا کہنا تھا کہ فپواسا حکومت کے کسی قسم کے ظالمانہ اقدام کی حمایت نہیں کرے گی اور حکومت کا ہر وہ اقدام جو جامعات کی خود مختاری  میں مداخلت کرے،فپواسا اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

فپواسا کی بیان پر جب ‘دی پشاور پوسٹ’ نے ماہر تعلیم اور پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) کی سابق صدر ڈاکٹر جمیل چترالی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹیز کے معاملات میں جب بھی افہام وتفہیم اور مشاورت سے ترامیم آئی ہے تو وہ ہمیشہ دیرپا ثابت ہوئی ہے۔

انہوں نے ‘خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ماڈل ایکٹ 2012’ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ ایکٹ تھا جو باہمی مشاورت سے وجود میں آیا تھا،2013 میں جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو حکومت کی طرف سے ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں 2012 کے ایکٹ میں موجود کچھ  سقم جو رہ گئے تھے اُن کی اصلاح کی کوشش کی گئی۔اس حوالے سے کچھ میٹنگز بھی ہوئی جس میں تمام سٹیک ہولڈرز بھی شامل تھے لیکن بعد میں دوسرے سٹیک ہولڈرز کو بائی پاس کیا گیا اور بیروکریسی نے  کچھ ترامیم کی اور پھر اُس کے بعد ان ترامیم کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو کہ تاحال جاری ہے۔

ڈاکٹر جمیل چترالی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی ایکٹ میں بہت سارے تضادات موجود ہیں جس کے درستگی کے حوالے سے حکومتی نظر حق بجانب ہے ابھی حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے اس حوالے سے ایک دفعہ پھر اصلاح کی کوشش کیلئے ایک کمیٹی ترتیب دی گئی جس میں دوسرے احباب کے ساتھ ساتھ پیوٹا کے موجودہ صدر بھی شامل تھےکہ اچانک وہ سلسلہ روک دیا گیا لیکن ابھی بات ہورہی ہے کہ حکومت پارلیمان کے ذریعے سے بھی نہیں بلکہ ایک آرڈیننس کے ذریعے احکامات جاری کرینگے جس پر اساتذہ کرام کے معروضات اور خدشات بلکل جائز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات درست نہین کہ کوئی حکومت اساتذہ کے سامنے سرنڈر ہو جائے کیونکہ حکومت عوام کے مینڈیٹ پر وجود میں آتا ہے لیکن اگر حکومت ایسے تمام معاملات مشاورت سے کام چلائیں تو یہ خود حکومت کی ساکھ میں اضافہ کرے گی اور تمام سٹیک ہولڈرز کا حکومت پر اعتماد بڑھنے سبب بنے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top