کیا پاکستان سوشل ورک کی اہمیت جان چکا ہے؟

DSC_0048-scaled-e1590977631476.jpg

پاکستان میں شعبہ سوشل ورک کی تعلیم اوراہمیت کے بارے میں آگاہی دینے اور نوجوان طلباء کو اس جانب متوجہ کرنے کیلئے جامعہ پشاور کی جانب سے “پہلا عالمی کانفرنس آف سوشل ورک” کا انعقاد کیا گیا۔

تین روزہ کانفرنس کا عنوان “سوشل ورک ایجوکیشن اینڈ پریکٹس:گلوبل ایجنڈا اور لوکل چیلنجز تھا جس کا مقصد ملک بھر کے  سوشل ورکروں میں انسانی خدمات کے حوالے سے  آپس میں اتفاق رائے ، روابط اور اس کے علاوہ بین الاصوبائی ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔اس کے علاوہ کانفرنس میں پاکستان کے اندر شعبہ سوشل ورک کا مستقبل ، تعلیمی نصاب میں اہمیت اور درپیش مشکلات کو حل کرنے پر غور کرنا تھا۔

کانفرنس جامعہ پشاور کے شعبہ سوشل ورک اور فلاحی ادارے کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیاء،اسلامک ریلیف ،روزن، پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسیشن (پیوٹا) اورشعبہ سوشل ورک یونیورسٹی آف کیلگری (کینیڈا) کے  مشترکہ کاوشوں سے ترتیب دیا گیا تھا جس میں پاکستان بھر سے آئے ہوئے ملکی اور غیر ملکی ریسرچ سکالرز نے شرکت کی اور اپنے اپنے تحقیقی مقالات پیش کئے۔اس کے علاوہ کیمپس کے چار بڑے جامعات کے طلباء نے کثیر تعداد میں حصہ لیا۔

کانفرنس کے پہلے روز جامعہ پشاور کے  وائس چانسلر ڈاکٹر محمد آصف خان،انٹرنیشنل فیڈریشن آف سوشل ورکرز کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر روری جی ٹروئل اور جارج واشنکٹن یونیورسٹی کے پروفیسر و بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ مائیکل برنٹ  مہمان خصوصی تھے۔

تین روزہ کانفرنس میں سوشل ورک کے ماہرین اور محقیقین نے نوجوان طلباء وطالبات کے ساتھ مختلف سیشنز میں شعبہ سوشل ورک کی اہمیت،معاشرے کے ترقی میں نوجوان نسل کا کردار،سوشل ویلفیئر ایڈمنسٹریشن،صنفی تشدد،نشے آور چیزوں کی روک تھام اور نشے کے عادی افراد کا علاج،میڈیکل سوشل ورک،سپیشل پرسنز،یوتھ ڈیولپمنٹ،کرائم اینڈ کریمنل جسٹس سسٹم  اور معاشرتی ترقی کے مختلف موضاعات پر اپنے اپنے تحقیقی مقالات جات  پیش کئے۔ کانفرس میں شریک سٹوڈنٹس اور سوشک ورک کے ماہرین نے ان ریسرچ پیپرز میں خوب دلچسپی لی اور سکالرز سے اُن کے تحقیق کے متعلق  سوالات پوچھے۔

کانفرس کے آرگنائزر اور جامعہ پشاور کے شعبہ سوشل ورک کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ابرار نے بتایا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کے مختلف یونیورسٹیز میں زیر تعلیم سوشل ورک کے ماہرین کو ایک نکتہ پر اکھٹا کرنا تھا تا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کراپنی اپنی ریسرچ شئیر کرلیں اور نئی مواقع تلاش کر سکیں اور آپس میں تبادلہ خیال کے ذریعے ایک دوسرے کے مشاہدات اور تجربات  کے متعلق جان سکیں تاکہ پاکستان میں سوشل ورک کی فیلڈ کو مزید پروان چڑھانے کیلئے ایک مشترکہ حکمت عملی تشکیل دے سکے۔

افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس کے مرکزی میزبان  اور چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف شعبہ سوشل ورک  جامعہ پشاور ڈاکٹر شکیل احمد نے  مہمان خصوصی اور ملکی اور غیرملکی ریسرچ سکالرز کو  پشاور آنے پر خوش آمدید کہا اور شرکاء کے ساتھ پاکستان میں سوشل ورک تعلیم کی اہمیت،شعبہ کو درپیش مشکلات اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر تفصیل کے ساتھ بات کی ۔

انہوں نے افتتاحی تقریر کے دوران مندوبین پر زور دیا کہ مثبت سماجی رویوں کو سماجی تبدیلی میں بدلنا ایک چیلنج ہے جس کیلئے وہ ہم تن تیار ہیں۔اس موقع پر انھوں نے کانفرنس کے آرگنائزر ڈاکٹر محمد ابرار خان کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر ابرار کی کوششوں سے کانفرنس کے انعقاد کو ممکن بنایا گیا ہے۔شعبہ سوشل ورک کی تاریخی پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شکیل احمد نے کہا کہ بیسویں صدی کی ابتدا میں سوشل ورک کی پیشہ ورانہ شناخت پر ایک بحث شروع ہوئی اورموجودہ علمی پس منظر میں یہ پروفیشن سماجی بہبود کے نظریہ سے لیس زندگی کوآسودہ اور پائیدار بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ پشاور کے شعبہ کریمنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر بشارت حسین نے کہا کہ سوشل ورک ایک پیشہ ورانہ مضمون اور ایسا مطالعاتی میدان ہے جو سماجی علوم سے گہری وابستگی کے ساتھ ساتھ دیگر علوم سے بھی جداگانہ انداز میں مواد اخذ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل ورک کی اپنی مخصوص اقدار،علمی بنیاد، اصول، علم اور مہارتیں ہیں جن کی بنیاد پر یہ ایک پیشہ کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ کسی بھی پروفیشن کی تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ اس پروفیشن کی بنیادی تفہیم میں انسانی ضروریات، سماجی مسائل، سماجی خدمات کی جوابدہی، سماجی خدمات کا فائدہ اٹھانے والے اور پیشہ ورانہ مداخلت کے مباحث شامل رہیں۔ڈاکٹر بشارت حسین نے مزید کہا کہ پاکستان میں سوشل ورک کی مستقبل روز روشن کی طرح عیاں ہے لیکن حکومتی سطح پر اس شعبے کی ترقی کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہیں۔

افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی انٹرنیشنل فیڈریشن آف سوشل ورکرز کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر روری جی ٹروئل نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ سوشل ورک ایک عملی شعبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ شعبہ سوشل ورک بیک وقت کئی حوالوں سے اپنی ایک منفرد اہمیت رکھتا ہے کیونکہ سوشل ورک اگر ایک طرف معاشی ترقی پر زور دیتا ہے تو دوسری طرف  انسانی حقوق کو پامال کرنے سے روکتا ہے۔ڈاکٹر روری جی ٹروئل نے کانفرنس کے آرگنائزرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ پشاور جیسے مہمان نوازی کا تجربہ کہیں بھی نہیں ہوا ہے اور یہ لمحات میرے زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ خطے جو جنگ اور یا دوسرے قدرتی آفات سے متاثرہ ہو تو وہاں سوشل ورکرز کی اہیمت اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سوشل ورکر مذہب،نسل،فرقہ پرستی سے آزاد ہوکر کام کرتا ہے اور ایک پر امن معاشرے اور انسانیت کے ترقی کیلئے کوشاں رہتا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  جارج واشنکٹن یونیورسٹی کے پروفیسر و بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ مائیکل برنٹ نے کہا کہ موجودہ صدی کی ترقی گزشتہ دو صدیوں کی سوشل ورک کی مرہون منت ہے کیونکہ انسداد غلامی کی تحریک سے لے کر آئی ای آر سی کا قیام سوشل ورکرز کی مرہون منت ہے۔انھوں نے مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کو غیر سیاسی وابستگی برقرار رکھنا پر زور دیا۔ مائیکل برنٹ نے مزید کہا کہ موجودہ امریکی صدر کی امیگریشن مخالف سرگرمیوں نے سوشل ورکرز اور کمیونٹی ورکرز کو ایک پلیٹ فارم پر لاکھڑا کیا ہے جس سے مثبت تبدیلیوں کا امکان ہے۔

کانفرس کے پہلے روز کے افتتاحی سیشن کے چیف گیسٹ  وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان نے اپنے خطاب میں کہا  کہ سوشل ورک دنیا کے تمام علوم کو انسانی ترقی ، سماجی انصاف اور فلاحی امداد کیلئے بروئے کار لاتا ہے جس سے انسانی تمدن و تجربات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔انھوں نے اس موقع پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف سوشل ورکرز کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر روری جی ٹروئل کی آمد کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ جامعہ پشاور کے دروازے علمی تعاون کیلئے ہمیشہ کھلے ہیں اور اب ملکی سیکورٹی صورتحال بہتر ہونے پر ان جیسی کانفرنس منعقد ہو سکیں گی۔

ڈاکٹر محمد آصف خان نے کہا کہ نوجوان نسل اس ملک کا قیمتی سرمایہ ہے انکو ایک ایسے اکیڈمک اور تخلیقی سمت کی طرف لانا ہے تاکہ وہ بے کار سرگرمیوں میں اپنی توانائی صرف کرنے کی بجائے تعمیری اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول ہوسکیں اور مملکت خداد کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ سٹوڈنٹس نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیل کود،ثقافی تقریبات اور تنقیدی مباحثوں میں بھی شرکت کیا کریں تاکہ آپ لوگ ہر طرح کے حالات اور واقعات کا مقابلہ کرسکیں۔وائس چانسلر نے کہا کہ اس جیسے کانفرنسز اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کی بہتر مستقبل کیلئے فیوچر لیڈرز اور سکالرز پیدا کرنا مقصود ہیں جو کہ بنیادی طور پر معاشرے کی ترقی و امن کی بحالی اور علاقائی سالمیت کے لئے اپنے اپنے حلقوں میں بھرپور کام کرسکیں۔

کانفرس کے دوسرے روز سوشل ورک اور شخصیت سازی کے موضوع پر تحقیق مقالہ پیش کرتے  ہوئے  ڈاکٹر نقیب حسین شاہ ،چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک جامعہ کوہاٹ نے کہا کہ اس شعبے میں شخصیت سازی نہایت اہمیت  کا حامل ہے  ایک سماجی کارکن کیلئے ضروری ہے کہ وہ  معاشرے میں دوسرے انسانوں کے تصورات، احساسات،افکار اور رویوں  کی بارے میں تفصیل کے ساتھ پڑھیں تاکہ فلیڈ ورک میں اُسے کسی قسم کے مشکل  کا سامنا نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ سوشل ورک کا دوسرے مضامین جیسے کہ نفسیات،عمرانیات اور معاشیات کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے لہذا ضرورت اس امر کی ایک سماجی کارکن کو کچھ نہ کچھ معلومات اِن تمام متعلقہ شعبوں کے متعلق ہونا چاہئے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ چیئرپرسن شعبہ سوشل ورک جامعہ پشاورڈاکٹرسارہ صفدر نے کہا کہ سوشل ورک کا مکمل تصور اورتوجہ انسانی مسائل پر مرکوزہے،اس کی بنیاد ہی عوام کی فلاح و بہبود کے جذبے پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سوشل ورک کے لٹریچر کو باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو تب  اس فیلڈ کی ہمہ گیریت اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس بات کا بھی پتہ چل جاتا ہے کہ ایک پائیدار معاشرے کی تعمیر کے لیے ایک سوشل ورکر منظم انداز میں انسان کے نفسیاتی ،سماجی اور معاشی مسائل پر قابو پانے کی کوششوں میں کیسے  مصروف عمل رہتا ہے۔ڈاکٹرسارہ صفدر  نے کہا کہ سوشل ورک ایک ایسا پیشہ ہے جو مکمل طور پر انسانوں کے مجموعی مسائل کی شناخت اور حل کرنے پر یقین رکھتا ہے اس لیے اس کو ایک ایسے مدگار پروفیشن کے طور پر دیکھا گیا ہے جو انسانی ضرورتوں کو اپنے دائرہ کار میں لاتا ہے۔

کانفرنس میں شرکاء کیلئے کلچر نائٹ کا بھی اہتمام کیا گیا جہاں تمام سکالرز نے خوبصورت لباس زیب تن کئے تھے۔کلچر نائٹ میں پختون طلباء کی طرف سے پختونوں کی روایتی رقص (اتنڑ) جبکہ پنجاپی طلباء کی طرف سے پنجابی بھنگڑا  پیش کیا، جس کو شرکاء نے بے حد پسند کیا۔

شعبہ سوشل ورک کے فورتھ سمسٹر میں زیر تعلیم نوجوان طالبہ مومنہ بشیر نے کانفرس میں شرکت کے حوالے سے بتایا کہ اس تین روزہ کانفرس سے میں نے بہت کچھ سیکھا کیونکہ یہاں آنے والے شعبہ سوشل ورک کے ماہرین نے انتہائی خوبصورت اور تازہ تحقیقی مقالہ جات پیش کئے جس میں سیکھنے کیلئے بہت کچھ تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس پہلے معلوم نہیں تھا کہ میرا شعبہ سوشل ورک اتنی اہمیت کا حامل شعبہ ہے۔کانفرنس میں ملکی اور غیر ملکی ریسرچرز نے سوشل ورک فیلڈ کے حوالے سے اپنی اپنی مشاہدات اور تجربات کے ساتھ شئیر کئے جس سے نوجوان طلباء وطالبات کو تحقیق کرنے میں بڑا مدد دے گا۔

کانفرس میں شریک سماجی کارکن جہانزیب خان نے کہا کہ ایسے سرگرمیوں سے نوجوان نسل تعمیری اور تخلیقی سوچ کی طرف متوجہ ہوگی اور اپنے معاشرے کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرینگے جس سے لوگوں کے درمیان امن اور بھائی چارے کی فضاء کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سوشل ورک کی ذمہ داریاں بہت زیادہ  ہیں۔یہاں غریبی، بیروزگاری، تعلیمی پسماندگی وغیرہ ایسے مسائل ہیں جہاں سوشل ورک کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ان تمام مسائل کے پیش نظر اس شعبے کی اہمیت بتدریج بڑھ رہی ہے۔

بہاولپور سے آئی ہوئی گورنمنٹ کالج فار وویمن کے شعبہ سوشل ورک کے اسسٹنٹ پروفیسر انجم نورین نے بتایا کہ پشاور یونیورسٹی کا یہ “پہلا عالمی کانفرنس آف سوشل ورک” طلباء وطالبات کے ساتھ ساتھ اس شعبے سے منسلک ماہرین کیلئے بھی بہت مفید رہا کیونکہ کانفرنس کے  تمام سرگرمیوں میں شرکاء نے خوب حصہ لیا اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھا۔انہوں نے کہا کہ طلباء کا نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینا واقعی ایک خوش آئند اقدام ہے۔انجم نورین نے کہا کہ پاکستان میں سوشل ورکرز کواپنا کیریئر بنانے کے لیے سرکاری اداروں، منافع بخش کمپنیوں غیر سرکاری تنظیموں، پرائیویٹ سیکٹر، اسپتال اور کلینک، اسکول، پولیس اور قانونی شعبوں میں وافر مواقع دستیاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ غربت، ماحولیات، تعلیم، روزگار، مختلف میدانوں میں تحقیق، ایڈووکیسی، میڈیکل، ویلفیئر سے متعلق کام کرنے والی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں میں خاص طور پر سوشل ورک کی ڈگری  مانگی جاتی ہے۔

کانفرس کے تیسرے روز خیبر پختونخوا کے صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسیت رخشندہ ناز نے طلباء کو جنسی ہراسیت کے موضوع پر لیکچر دیا،جس میں انہوں نے کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والی جنسی ہراسمنٹ کا شکار خواتین بلا خوف اپنے مسائل صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکرٹریٹ کو رپورٹ کرنے والی متاثرہ خاتون یا مرد کا صغیہ راز میں رکھا جائے گا تاکہ اُسے معاشرے میں رُسوائی کا ڈر نہ ہو۔

صوبائی محتسب نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں خواتین کو ملازمت کی جگہوں پر ہراساں کرنے سے روک تھام کے لئے 2010 میں قانون نافذ کیا گیا تھا لیکن اس قانون کے نفاذ کے باوجود  بھی صوبائی محتسب کی تقرری نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو ہراساں کئے جانے کے حوالے سے انصاف کے حصول میں دشواری کا سامنا تھا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی نوکر پیشہ خواتین نے اپنی مسائل کو رپورٹ کرنا شروع کردیا ہے،جن کو اپنے اپنے شعبوں میں کام کرنے والے بااثر مردوں کی طرف سے جنسی حراسیت کا سامنا رہا ہے۔

صوبائی محتسب نے کانفرنس میں شریک نوجوان طلباء وطالبات پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے کمیونٹیز میں اس حوالے سے عام خواتین میں شعور اُجاگر کریں تاکہ خواتین بلا خوف اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور مسائل  کے بارے میں صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کو آگاہ کرسکیں۔ رخشندہ ناز نے مزید کہا  کہ وراثت یا جائیداد سے محروم خواتین صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسیت کے سیکرٹریٹ کے تعاون سے حاصل کرسکتے ہیں،کوئی بھی خاتون جو سمجھتی ہو کہ والدین یا دوسرے رشتہ داروں نے اُنکو اپنے جائز وراثتی حق سے محروم کیا ہے تو وہ ایک سادہ کاغذ پر درخواست  دے کر ہمارے دفتر کے ساتھ رابطہ کرسکتی ہے۔

کانفرنس کے تیسرے اور اختتامی روز کے مہمان خصوصی  جامعہ پشاور پروائس چانسلر  اور ڈین فیکلٹٰی آف سوشل سائنسز پروفیسر  ڈاکٹر جوہر علی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ موجودہ جدید وقت میں سوشل ورک کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ جامعہ پشاور کے موجودہ سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کی ترقی میں پروفیسر کرم الہی ، پروفیسر ڈاکٹر سارہ صفدر اور پروفیسر سید سجاد حسین شاہ کی علمی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

ڈاکٹر جوہر علی نے کہا کہ سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ میں سوشل ورک کی حامل تعلیمی پس منظر رکھنے والی شخصیات کا نہ ہونا موجودہ حکومت کی ناکامی ہے۔انہوں  نے صوبے میں  سوشل ورکرز کی حکومتی کوٹے کی کمی کی وجہ سے سماجی ترقی اورانصاف پر پڑنے والے منفی اثرات پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ایسے کانفرنسوں کے انعقاد سے نوجوان ریسرچ سکالرز کو اپنی تحقیق کے متعلق رہنمائی ملے گی۔

کانفرنس کے اختتامی تقریب کے آخر میں جامعہ پشاور کے پرووائس چانسلر ڈاکٹر جوہر علی نے تحقیق مقالہ جات پیش کرنے والے سکالرز اور آرگنائزرز میں اسناد تقیسم کی۔

کانفرس کے سفارشات:

کانفرنس کے آخری سیشن میں تمام شرکاء سے سفارشات طلب کی گئی جن میں چند ایک نمایاں ہے۔

1- پاکستان میں سوشل ورک کی تعلیم اور اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ایک مؤثر حکمت عملی اور جامع جدوجہد کی ضرورت ہے۔

2- سوشل ورک کے طلباء کو تحقیق اور فیلڈ ورک کیلئے رورل ڈیولپمنٹ کمیونٹی میں بھیجے جائیں۔

3- تمام صوبوں کے جامعات میں سوشل ورک  فیکلٹی ایکسچینج پروگرام کا آغاز کیا جائے تاکہ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جاسکیں۔

4- چائلڈ رائٹس  پروٹیکشن کورسز کو بڑھایا جائیں۔

5- کمیونٹی ڈیولپمنٹ میں مذہبی سکالرز کے  مثبت رول کو استعمال میں لانا۔

شعبہ سوشل ورک کے چیئرمین ڈاکٹر شکیل احمد کا پیغام

شعبہ سوشل ورک جامعہ پشاور کا قیام 1976ء وجود میں آگیا تھا جو کہ ابتدائی طور پر دو سالہ ماسٹر پروگرام ان سوشل ورک پیش کر رہی تھی،اس کے بعد یہ شعبہ کچھ سالوں تک شعبہ سوشیالوجی،انتھرپالوجی اور جینڈر سٹڈیز کے ساتھ مشترکہ طور پر ایک انسٹیٹوٹ میں ضم ہوگئے اور اپنے اپنے پروگرامز طلباء کیلئے پیش کر رہے تھے اور آخر کار 2014ء میں یہ تمام شعبہ جات کو اپنا ایک آزاد شعبہ کے طور پر کام کرنے کی حیثیت حاصل کی۔شعبہ سوشل ورک اس وقت چار سالہ بی ایس،دو سالہ ماسٹر،ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز پیش کر رہی ہے جس میں آٹھ اعلیٰ تعلیم یافتہ سٹاف پڑھا رہے ہیں جن میں تین اساتذہ کرام نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہیں اور باقی ایم فل اور پی ایچ ڈی میں ان رولڈ ہیں۔

شعبہ سوشل ورک کے طلباء تحقیق کے میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے،سوشل ورک کے محقیقین ،کریمینالوجی،کریمنل جسٹس،منشیات۔پبلک ہیلتھ،سوشل پالیسی،جینڈر اور ڈویلپنٹ کے مختلف پہلووں پر تحقیق کرتے ہیں۔شعبہ سوشل ورک  میں اس وقت 300 سے زائد طلباء وطالبات مختلف اکیڈمک پروگرامز میں زیر تعلیم ہیں۔یہ شعبہ ٹیچنگ اور ریسرچ کے علاوہ مختلف مضوعات پر سیمینارز،مکالمے اور ورکشاپس کا انعقاد کرتا ہے ان موضوعات میں ہماری معاشرے کو درپیش مشکلات پر بحث کیا جاتا ہے۔ڈیپارٹمنٹ نے تعلیمی سال2018  سے جامعہ پشاور کے 48 شعبہ جات اور 101 ایفلیٹیڈ کالجز کے  بی ایس اور ایم ایس سی کے طالبعلموں کیلئے ‘کمیونٹی سروس پروگرام’کا ایک جدید مضمون تیار کیا ہے جو کہ ہر ایک طالب علم کیلئے پاس کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔.

شعبہ سوشل ورک تحقیق پر خصوصی توجہ دیتا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ نے تعلیمی سال 19-2018 کیلئے 10 ایم فل اور 5 پی ایچ ڈی کے سیٹس اعلان کیے تھے لیکن سٹوڈنٹس کی سہولت اور شعبے کی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے اب تعلیمی سال 20-2019 کیلئے10 سے بڑھاکر  35 ایم فل اور 5 پی ایچ ڈی کے سیٹس اعلان کئے ہیں  جس میں 20 ایم فل سبجیکٹ بیسڈ اور 15 ریسرچ بیسڈ سبجیکٹ ایم فل ہیں۔ شعبہ سوشل ورک مختلف نامور قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ بھی مختلف پروجیکٹس پر کام کرتا ہے. جسمیں یونیسف،یونیسکو،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن،ڈبلیو ایف ایف،سپارک اور صوبائی محتسب سیکرٹریٹ نمایاں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top