اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل

hhhhh-ffff-222.jpg

جمیل اقبال: تجزیہ کار

بھینس کے آگے بین بجانے کا محاورہ تو آپ نے یقیناً سنا ھوگا،آپ اس محاورے کے مطلب اور اس کے پیچھے چپھی حقیقت سے بھی واقف ہوں گے بالکل یہی حال اس وقت ہماری پاکستانی حکومت اور ایوان کے اقتدار میں یبٹھے صاحب اختیار لوگوں کاہے۔سیاستدانوں کس حالت تو یہ ہے کہ وہ اپنے حلقے سے بھی بے خبر ہیں کہ موجودہ حالات میں ان کے حلقہ نیابت میں غریب،دیہاڑوں داروں،بےروزگاروں اور مزدورں کی حالات لیا ہے شاید سرکار اسی کو مثالی ریاست کا نام دیتے ہوں گے،میرا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور اس حوالے سے حکومت وقت کی مجرمانہ خاموشی سے پردہ اٹھانہ ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ ہم کافی دنوں سے دیار غیر میں پھنسے پاکستانیوں کے مصائب اور آرام کا ذکر کررہے ہیں لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور یہ بلکل بھینس کے آگے بین بجانے والی بات ہے۔اس وقت خلیجی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات،سعودی عرب،انڈونیشیا،ملیشیا اور یورپ کے مختلف ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی آپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں وہ گھروں،کمروں اور ہاسٹلوں تک محدود ہو چکے ہیں۔صرف یواےای میں ایسے افراد کی تعداد ساٹھ ہزار سے زائد ہے یو یا تو بےروزگارہوچکے ہیں یا پھر انھیں رخصت پر بھیج دیا گیا لیکن وہ اپنے وطن واپس نہیں جا سکتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فلائٹس اوّل تو ہیں نہیں اور اگر کبھی شازو نادر کوئی فلائٹ دستیاب ہو جاتی ہے تو اس میں سیٹ حاصل کرنے کے لئے کسی با آثر شحص کی پرچی ضروری ہے۔ اس کے باوجود بھی جانے والے پاکستانیوں کے مصبتیں کم نہیں ہوتی۔انھیں لاھور،کراچی یا اسلام آباد میں اتاراجاتا ہے جن میں سے اکثریت کا تعلق خیبر پختونخواسی ہے۔ انھیں ہوٹلوں میں قرنطینہ کیا جاتا ہے جہاں کا خرچہ بھی وہ خود برداشت کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ انہیں پشاور کیوں نہیں بھیجا جاتا؟اس کا جواب یہ ہے کہ پھر لاھور،کراچی اور اسلام آباد کے ہوٹلز کی آمدن کم ہونے کا خدشہ ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے وہ آئسولیشن کی مدت مکمل کرنے کے باوجود گھروں تک نہیں پہنچ پاتے۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ان اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ پاکستان اور یہاں کی ہر حکومت کی مدد کی،ان کے پیسوں سے ملک کی معیشت کو سہارا ملتا ہے لیکن آج ان کو حکومت کی سہارے کی ضرورت ہے تو حکومت نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ اس کا ایک نقصان تو یہ ہوا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے دلوں میں پی ٹی آئ اپنی ہمدردی کھو چکی۔دوسری بات یہ ہے کہ ان سے بات یہ ہے کہ ان سے دوگنا کرائے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اب جبکہ ان کی ملازمت بھی ختم ہو چکی ہے تو ان زیادہ پیسے مانگنا کہاں کا انصاف ہے؟ حکومت کو چاہے کہ ان کو جلدسے جلد اپنے خرچے پر وطن واپس لے کر جائے تاکہ یہ لوگ عید اپنے گھر والوں کے ساتھ منا سکیں۔یہاں میں مخیر حضرات سے اپیل کرروں گا کہ اپنے اردگرد ایسے خاندانوں پر نظر رکھیں جن کے گھر والے باہر کے ممالک میں ہیں۔انھیں اپنی مدد میں شامل کریں کیونکہ عام طور پر لوگ یہی کہتے ہیں کہ انھیں خیرات کی کیا صرورت ہے۔اسکے رشتہ دار تو باہر کے ممالک میں پیسے کماتے ہیں،حالانکہ ایسا نہیں ہے۔یہی سفید پوشی اس وقت ان کے لئے مصیبت بن گئی ہے۔ حکومت وقت کو چاہے کہ خدارا سیاسی چالبازیوں سے نکل کر اوورسیز پاکستانیوں کی طرف توجہ دے۔

بھینس کے آگے بین بجانے کا محاورہ تو آپ نے یقیناً سنا ھوگا،آپ اس محاورے کے مطلب اور اس کے پیچھے چپھی حقیقت سے بھی واقف ہوں گے بالکل یہی حال اس وقت ہماری پاکستانی حکومت اور ایوان کے اقتدار میں یبٹھے صاحب اختیار لوگوں کاہے۔سیاستدانوں کس حالت تو یہ ہے کہ وہ اپنے حلقے سے بھی بے خبر ہیں کہ موجودہ حالات میں ان کے حلقہ نیابت میں غریب،دیہاڑوں داروں،بےروزگاروں اور مزدورں کی حالات لیا ہے شاید سرکار اسی کو مثالی ریاست کا نام دیتے ہوں گے،میرا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور اس حوالے سے حکومت وقت کی مجرمانہ خاموشی سے پردہ اٹھانہ ہے۔صورتحال یہ ہے کہ ہم کافی دنوں سے دیار غیر میں پھنسے پاکستانیوں کے مصائب اور آرام کا ذکر کررہے ہیں لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور یہ بلکل بھینس کے آگے بین بجانے والی بات ہے۔

اس وقت خلیجی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات،سعودی عرب،انڈونیشیا،ملیشیا اور یورپ کے مختلف ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی آپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں وہ گھروں،کمروں اور ہاسٹلوں تک محدود ہو چکے ہیں۔صرف یواےای میں ایسے افراد کی تعداد ساٹھ ہزار سے زائد ہے یو یا تو بےروزگارہوچکےہیں یا پھر انھیں رخصت پر بھیج دیا گیا لیکن وہ اپنے وطن واپس نہیں جا سکتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فلائٹس اوّل تو ہیں نہیں اور اگر کبھی شازونازر کوئی فلائٹ دستیاب ہو جاتی ہے تو اس میں سیٹ حاصل کرنے کے لئے کسی با آثر شحص کی پرچی ضروری ہے۔ اس کے باوجود بھی جانے والے پاکستانیوں کے مصبتیں کم نہیں ہوتی۔انھیں لاھور،کراچی یا اسلام آباد میں اتارا جاتا ہے جن میں سے اکثریت کا تعلق خیبر پختونخواسی ہے۔ انھیں ہوٹلوں میں قرنطینہ کیا جاتا ہے جہاں کا خرچہ بھی وہ خود برداشت کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ انہیں پشاور کیوں نہیں بھیجا جاتا؟اس کا جواب یہ ہے کہ پھر لاھور،کراچی اور اسلام آباد کے ہوٹلز کی آمدن کم ہونے کا خدشہ ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے وہ آئسولیشن کی مدت مکمل کرنے کے باوجود گھروں تک نہیں پہنچ پاتے۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ان اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ پاکستان اور یہاں کی ہر حکومت کی مدد کی،ان کے پیسوں سے ملک کی معیشت کو سہارا ملتا ہے لیکن آج ان کو حکومت کی سہارے کی ضرورت ہے تو حکومت نے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ اس کا ایک نقصان تو یہ ہوا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے دلوں میں پی ٹی آئی اپنی ہمدردی کھو چکی۔دوسری بات یہ ہے کہ ان سے بات یہ ہے کہ ان سے دوگنا کرائے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اب جبکہ ان کی ملازمت بھی ختم ہو چکی ہے تو ان زیادہ پیسے مانگنا کہاں کا انصاف ہے؟ حکومت کو چاہے کہ ان کو جلدسے جلد اپنے خرچے پر وطن واپس لے کر جائے تاکہ یہ لوگ عید اپنے گھر والوں کے ساتھ منا سکیں۔یہاں میں مخیر حضرات سے اپیل کرروں گا کہ اپنے اردگرد ایسے خاندانوں پر نظر رکھیں جن کے گھر والے باہر کے ممالک میں ہیں۔انھیں اپنی مدد میں شامل کریں کیونکہ عام طور پر لوگ یہی کہتے ہیں کہ انھیں خیرات کی کیا صرورت ہے۔اسکے رشتہ دار تو باہر کے ممالک میں پیسے کماتے ہیں،حالانکہ ایسا نہیں ہے۔یہی سفید پوشی اس وقت ان کے لئے مصیبت بن گئی ہے۔ حکومت وقت کو چاہے کہ خدارا سیاسی چالبازیوں سے نکل کر اوورسیز پاکستانیوں کی طرف توجہ دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top