دُنیا ! بعد از کورونا

dddd.jpg

تحریر: ماہ نُور فخری

کو رونا وائرس نا صرف ایک مہلک بیماری ہے بلکہ یہ کہنا بےجا نہیں، کہ یہ اعصابی، معاشی لحاظ سے بھی کمزور کر رہی ہے ۔ دنیا بہر میں جس انداز سے اس بیماری نے پنجے گاڑے ہیں اگر اس کے اثرات پر نظر ڈالی جائے تو وہ بھی یقیناً اسی رفتار سے انسانیت پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔ موجودہ صورتحال میں جہاں ماہرین، حکومت وقت ، اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تگ ودو میں لگے ہیں، وہیں یہ نقطہ بھی مزید اہمیت کا حامل ہے کہ انشاءاللہ جب پاکستان بھی چین کی طرح معمولات زندگی کی طرف لوٹ آئے گا تو ان حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا؟ اور کرونا کے بعد معمولات زندگی کیسے ہوں گے۔

اگر ہم کورونا وائرس سے پہلے حالات پر نظر ڈالیں تو انسانی زندگی اپنے ڈگر پر راہ روان تھی ، بچوں کا صبح سکول جانا، عید تہواروں پر خریداری، میل جول ، بے خوف ملنا، درآمدات اور برآمدات ،معیشت ، اور اسی طرح ہزاروں دیگر سرگرمیاں جو اپنے معمولات پر رواں دواں رہیں، ایک وائرس کے باعث تھم گئ ۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ مجموعی طور پر اگر مختلف نقاط کو زیر غور لایا جائے تو کسی بھی ملک کے لیے اس کی معیشت اہمیت کا حامل ہے ان حالات سے بڑا اثر دنیا کی معیشت پر پڑا ہے اس وقت معیشت کا پہیہ رکا ہوا ہے۔پوری دنیا لاک ڈاون ہے۔کاروبار،انڈسٹری،مارکیٹ،سب کچھ بند ہے۔جب یہ پہیہ دوبارہ سے چلے گا تو ایسا لگ رہا ہے کہ ہر ایک کو ایک بار پھر زیرو سے آغاز کرنا ہوگا۔مارکیٹ،کارخانہ وغیرہ کا پورا نظام بدل جائے گا۔

دنیا آج تک حد سے زیادہ توجہ اپنی سرحدوں کی حفاظت پر دیتی رہی۔لیکن اس وباء نے اسے مجبور کیا ہے کہ اب ۔طویل لاک ڈاون،کمزور معیشت،بیروزگاری انسانی المیوں کو بھی جنم دے رہی ہے جس سے غربت اور افلاس میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ اثرات طویل عرصے تک محسوس کئے جائیں گے۔غریب،کمزور معیشت والے اور جنگ زدہ ممالک زیادہ متاثر ہوں گے کہ یہ ممالک پہلے ہی بدحالی کا شکار ہیں۔اور زیادہ تر عالمی اداروں کی امداد کے سہارے اپنا نظام چلا رہے ہیں۔سکڑتی ہوئی معیشت کی وجہ سے ان ممالک کی امداد بھی خطرے میں پڑ جائے گئی۔

بہتر روزگار اور تابناک مستقبل کا خواب لئے اکثر غریب اور خانہ جنگی کی شکارممالک سے لوگ متمول ممالک جیسے امریکہ اور یورپ کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔کرونا کی وجہ سے اب امریکہ اور یورپ نے بھی مائگریشن پر سخت اقدامات لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ بھی رکنے کا خطرہ ہوگا۔جو اقوام متحدہ جیسے ادارے کے لئے بھی تشویشناک بات ہوگی۔
معیشت کے بعد اگر کرونا کے بعد کی زندگی پر روشنی ڈالیں تو یہ سال تعلیمی اعتبار سے طلباء کے لیے کٹھن ثابت ہوا ۔اس تعلیمی سفر کے دوبارہ آغاز میں یقیناً مختلف مشکلات درپیش ہوں گی ۔ان رکاوٹوں سے نپٹنے کے لیے اساتذہ،طلباء اور حکومت کو سنجیدگی سے لائحہ عمل طے کرنا ہوگا تا کہ مذید وقت کو ضائع نہ کیا جائے اور طلباء کو ایک نے جذبے سے تعلیمی دوڑ میں شامل کیا جائے ۔

مسلسل لاک ڈاون میں رہنے اور کرونا کے پھیلنے اور اس سے اموات کی خبروں نے یقیناً کمزور اعصاب کے حامل لوگوں یا نفسیاتی پہلو سے بھی انسانوں کو ذہنی دباؤ کا شکار بنایا ہے تو ممکنہ طور پر اس وائرس کے ختم ہونے کے بعد بہی لوگوں میں ایک ڈر و خوف پایا جائے گا۔ ڈاکٹر ٹیلر جو کے ‘سائیکالوجی آف پینڈیمیک ‘کی مصنفہ ہیں کا کہنا ہے کہ کرونا کے بعد کی انسانی زندگی کو اعتماد اور خوف و ہراس کی دیوار کو گرانے کا ایک یہ بھی حل ہے کہ حکومتی سطح پر اعلان کیا جائے اور اپنی قوم کو اعتماد میں لیا جائے کہ ‘ مصافحہ کرنا اور ہوٹلوں میں جانا اب خطرہ نہیں ہے ‘ یہ یقینا نفسیاتی پہلو سے بھی مثبت ثابت ہوگا اس پہلو کا موازنہ کرونا کے پہلے حالات سے کیا جائے تو یقینا ایک نیا طرز زندگی دیکھنے کو ملے گا اور اگر اس رخ کو مثبت سوچ سے جانچا جائے تو ہمیں آگے کی زندگی اس حدیث پر عمل پیرا ہونے کا موقع فراہم کرے گا کہ ‘صفائی نصف ایمان ہے ‘ ۔

اللہ کی ذات پر یقین اور حفاظتی اقدامات پر عمل پیرا ہو کر یقیناً اس مہلک بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔تاہم ایک روشن مستقبل کی امید اور روشن خیالی سے معمولات زندگی کو مذید جدوجہد کے ساتھ اس مہلک بیماری کے خاتمے کے بعد بڑھایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top