ماحولیاتی تبدیلی:سوات میں ایشیاء کے بڑے ٹراؤٹ ہیچری کو خطرات لاحق

DSC_8838-scaled-e1589007718231.jpg

اسلام گل آفریدی

چالیس سالہ محمدیعقوب کے ذرائع آمدنی کا براہ راست تعلق آب ہوا سے ہے لیکن پچھلے کئی سالوں سے دن بدن اُس کے مسائل میں اضافہ ہورہاہے۔ اُنہوں نے سترہ سال پہلے ٹراؤٹ مچھلی پالنے کے لئے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے دورافتادہ پہاڑی گاؤں چیل میں برساتی نالی پر فارم تعمیر کیا تھا، لیکن 2010 کے تباہ کن سیلاب نے سب کچھ بہا کے لے گئے۔اُنہوں نے پانچ سال پہلے مالی مشکلات کے باوجود دوبارہ فارم کو تعمیر کیا لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ یعقوب کے مطابق سیلاب کے بعد مچھلیوں کے بیماریوں میں اضافہ ہو گیا تھا اور برساتی نالہ میں اُتارچڑھاؤختم ہونے سے پانی میں آکسیجن کے مقدار کم ہوگیا جس کی وجہ سے مچھلی کی پیداوری صلاحیت بری طرح متاثر ہورہاہے۔

محکمہ ماہی پروری خیبر پختونخواہ نایاب اور قیمتی مچھلی ٹراؤٹ کے تحفظ اور بہترین افزائش نسل کے لئے ضلع سوات کے تحصیل بحرین کے علاقے مدین چیل روڈپر برساتی نالے کے کنارے تحقیقاتی مرکز،ہیچر ی اور فارم قائم ہے۔ یہاں پر فارم کے مالکان اورزمینداروں کے تربیت کے ساتھ بیماریوں کے روک تھام میں بھی مدد فراہم کیا جاتاہے۔جہان شیرخان اس مرکز میں ڈپٹی ڈائریکٹرکے طورپر کام کررہا ہے اُن کے بقول پچھلے کئی سالوں سے موسمیاتی تبدیلوں جن میں خشک سالی،آبی آلودگی، برساتی نالے میں پانی کا کم مقدار اور درجہ حرات میں اضافے کے وجہ سے ٹراؤٹ مچھلی کے بیماریوں میں اضافہ ہوچکا ہے جبکہ چھوٹے مچھلیوں کے اموات میں اضافہ اور پیداواری صلاحیت ماضی کے مقابلے میں 15سے 20 فیصد تک متاثر ہوچکا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ مچھلیوں میں چند پراسرار بیماریوں کی شکایت بھی موصول ہورہی ہے جس کے تشخص کے لئے نہ صرف ملک کے بہترین لیباٹریوں کو بلکہ بیرونی دنیا کو بھی نمو نے بھیج دئیے گئے ہیں جس کے نتائج سامنے آنے پر لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔

ٹراؤٹ مچھلی کئی لحاظ سے دوسرے مچھلیوں سے مختلف ہے کیونکہ یہ انتہائی نازک،نایاب اور قیمتی ہیں جوکہ صرف بہتے تازہ ٹھنڈے پانی اور 18 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت تک زندہ رہ سکتے ہیں لیکن چھوٹے مچھلیوں کے لئے درجہ حرارت 12 ڈگری سینٹی ہی آخری نقظہ ہوتا ہے۔ ٹراؤٹ مچھلی کے پرورش کے لئے مناسب آب ہوا کی وجہ سے صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع سوات میں ایشیاء کا سب سے بڑا ٹراؤٹ ہیچری موجودہے۔

صوبائی محکمہ ماہی پروری کے مطابق سوات میں ٹراؤٹ پالنے کی ابتداء 1960 میں والی سوات کے زمانے میں تب ہوئی جب اُنہوں نے خود انگلستان سے مذکوررہ نایاب نسل کو در آمد کیا تھا۔ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع سوات کے کالام،کیدام، میاندام، بحرین مانکیال، مالم جبہ،لالکوویلی اوربہارورینگاڑوویلی میں 200تک ٹراؤٹ مچھلی کے فارم قائم ہیں جن میں لگ بھگ پانچ ہزار لو گ برسر روزگار ہے۔ ادارے کے مطابق سالانہ 2لاکھ50ہزارکلوگرام ٹراؤٹ مچھلی پاکستان کے مختلف شہریوں میں فروخت کئے جاتے ہیں جس کی مالیت25کروڑ روپے بنتی ہیں جبکہ علاقے میں سیاحوں کے آمد میں اضافہ، بہتر مارکیٹنگ اور مقامی زمینداروں کے حوصلہ افزائی سے یہ مقدار اور بھی بڑھایا جاسکتا ہے۔

محکمہ موسمیات خیبر پختونخوا کے پچھلے دس سالوں کے اعدادو شمار کے مطابق ضلع سوات کے تحصیل کلام میں درجہ حرات میں تقریبا 2.5سے 3 ڈگری تک اضافہ ہوچکا ہے جس کے وجہ سے گرمیوں کے موسم میں گلیشئر پگھلنے کی رفتا ر میں معمول سے کئی گنا اضافہ ہونے کی وجہ سے دریا سوات کے قریب علاقوں میں ہر سال مقامی آبادی کو کافی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔

عثمان کا تعلق ضلع سوات کے علاقے مدین سے ہے اور پچھلے 27 سال سے ٹراؤٹ مچھلی پالتے ہیں۔ ملک کے دیگر شہروں کو مچھلیوں کی سپلائی کرتا ہے ملک کے دوسرے شہروں میں فروخت کیساتھ سوات ہی کے علاقے چیل میں ایک ہوٹل بھی چلارہاہے جہاں پر دیگر علاقوں سے آئے ہوئے سیاحوں کو فرائی فش مہیاکیاجاتاہے۔ اُن کاکہنا ہے کہ2010 میں سیلاب نے ایسے تباہی اپنے ساتھ لائی کہ جس کے اثرات بیماریوں، چھوٹے مچھلیوں کے زیادہ اموات اور پیداوار میں کمی جیسے مسائل ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔اُنہوں نے کہاکہ اپنے فارم کے ہیچری میں سالانہ دس سے پندرہ لاکھ چھوٹے بچے پیدا ہوتے ہیں لیکن بمشکل پندرہ سے سولہ ہزار زندہ بچ جاتے ہیں کیونکہ تین مختلف بیماریوں کی اب تک تشخص نہ ہونے کی وجہ کافی پریشانی کا سامناکرنا پڑرہاہے۔ مچھلیو ں کے اموات پچھلے سالوں کے نسبت تقریبا پندرہ سے سترہ فیصد زیادہ ہوچکا ہے۔

فارم مالکان کے مطابق ایک انچ ٹراؤٹ مچھلی چھ،دوانچ اٹھارہ، تین انچ اٹھائیس اور چارانچ بتیس روپے میں فروخت ہوتاہے۔ عام مچھلیوں کے نسبت ٹراؤٹ مچھلی پالنا کافی مہنگا اور مشکل کام ہے کیونکہ کھانے کے فیڈ کو فیصل آباد سے مہنگے داموں خریداجاتا ہے جبکہ بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ادویات کا بھی وقوتاًفوقتاً استعمال کیا جاتا ہے اوران کے نشونما کا عمل کافی سست ہوتاہے کیونکہ ڈیڑھ سال میں اس مچھلی کا وزن صرف250گرام تک پہنچتاہے۔ بعض فارم میں دس کلو گرام سے بڑے مچھلیاں بھی پائے جاتے ہیں۔

جہا ن شیرخان کے مطابق سوات میں سرکاری اور نجی سطح پر ٹراؤٹ کے سیڈیا بچوں کے سالانہ پیداور 20سے 25لاکھ ہے جن کو موجودہ وقت میں بیماریوں سے شدید خطرات لاحق ہیں جن کو قابو کرنے کے لئے ہنگامی بنیادیوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اُن کے بقول پانی کے نمونے، چھوٹے اور بڑے بیمار مچھلیوں کو تشخیص کے لئے اندرون ملک کے بہتر لیباٹریوں جن میں PARC،VRIاور PCSIRسمیت بیرون ملک بھی بھیج دئیے گئے ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر اموات کے وجوہات کو معلوم کیا جاسکیں۔ہوٹل مالکا ن کے مطابق ٹراؤٹ مچھلی سرکاری فارم میں ایک ہزار سے گیارہ سو فی کلو جبکہ نجی فارم میں پندرہ سوتک فی کلو فروخت کیا جاتا ہے جبکہ فرائی مچھلی اٹھارہ سو سے دو ہزار تک فی کلوملتا ہے۔

محمد یعقوب اپنے فارم میں موجود ہزاروں چھوٹے ٹراؤٹ کے پرورش کے لئے پریشان ہے کیونکہ بڑے مچھلیوں کے نسبت یہ انتہائی نازک ہو نے کی وجہ سے ان کو زیر سایہ پالے جاتے ہیں کیونکہ یہ سورج کے روشنی برادشت نہیں کرسکتے اور ا ن کو برساتی نالے میں بہتے ہوئے پانی میں پالنا ممکن نہیں کیونکہ اس میں درکار آکسیجن کی مقدار کم ہوتاہے اوردور سے پائپ کے ذریعے چشموں کے پانی مہیاکیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ چھوٹے مچھلیوں کو خاص قسم کے پرندوں سے بھی خطرات ہوتے ہیں کیونکہ وہ تالاب میں ایک مچھلی کو نشانہ بنانے میں کئی اور وں کو بھی مار دیتے تھے، جس سے بچانے کے لئے جال کا استعمال کیا جاتا ہے۔

سوات میں 200 ٹراؤٹ فش ہچری اور فش ویلج کے قیام کے حوالے سے صوبائی وزیر ماہی پروری محب اللہ خان کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹراؤٹ کے مانگ میں اضافے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے لئے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ محمود خان کی خصوصی ہدایت پر زرعی انقلاب پروگرا م کے تحت بالائی سوات کے مختلف علاقوں میں 200 ٹراؤٹ فش ہچری اور ٹراؤٹ فش ویلج کاقیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس منصوبے پر صوبائی حکومت ساٹھ کروڑ روپے خرچ کرینگے جس کے تحت سالانہ آٹھ لاکھ کلو گرام ٹراؤٹ مچھلی پیدا کی جائیگی جبکہ عوام کو سالانہ تقریبا ًدو ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔

فارم کوایک کنال اراضی پر بنایا جائیگا جس کی لاگت تیس لاکھ روپے بتایا گیا ہے اور آدھا رقم مالک جبکہ آدھا حکومت ادا کریگی۔ایک اندازے کے مطابق ایک فارم سے سالانہ پیداوار کے مد میں پچاس لاکھ روپے کی مچھلی مارکیٹ میں فروخت کرسکیں گے۔ مذکورہ منصوبے پر رواں سال عملی کام آغاز ہو جائیگا اور مرحلہ وار تین سال کے عرصے میں مذکورہ تعداد میں فارمز تعمیر کئے جائینگے۔برساتی نالے سے فارم کے تالابوں تک پانی مہیا کرنے کے لئے چھوٹے ندیاں تعمیرکرائے گئے ہیں لیکن بارش اور طغیانی کی صورت میں پانی کے مقدار بڑھنے، مٹی و ریت کے ساتھ دوسرے فضلاء ساتھ لانے کا بھی زیادہ اندیشہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک بندہ چوبیس گھنٹے پانی کے بہاؤ اور موسم پر نظر رکھتاہے۔مقامی فارم مالکان کا کہنا ہے کہ وادی میں سیاحوں کے تعداد میں اضافے کے ساتھ آبی آلودگی کافی بڑھ چکا ہے جو بڑے مچھلیوں کے صحت کے لئے خطرناک ہوتاہے۔

واجد علی جیسے کئی ماہر فارم مالکان نومبر،دسمبر، جنوری، فروری اور مارچ میں مخصوص مچھلیوں سے انڈے حاصل کرتے ہیں لیکن بچے پیدا کرنے کے لئے مناسب درجہ حرارت 12سے 13 ڈگری سینٹی گریڈہوتا ہے لیکن اگر اس سے درجہ حرات بڑھ جاتا ہے تو انکوبیٹرمیں انڈوں کے خراب ہونے کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ماضی میں ٹراؤٹ کے انڈوں کو بیرونی دنیا سے مہنگے داموں میں درآمد کیا جاتا تھا لیکن اب یہاں کے لوگ اتنے ماہر ہوگئے ہیں کہ نہ صرف مقامی سطح پر قائم فارم ملکان کو بچے مہیا کرتے ہیں بلکہ شمالی علاقہ جات سے بھی بڑے تعداد میں خریدار یہاں آتے ہیں۔اُن کے بقول پہلے کے نسبت گرمی کے شدت میں اضافہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے کوشش ہوتی ہے کہ سیڈ کے حصول سرد موسم میں ہی مکمل کیاجائے۔

صوبائی وزیر ماہی پروری محب اللہ خان کے مطابق وفاقی حکومت کے تعاون سے سوات میں ملک کا پہلا ٹراؤٹ فش ریسرچ سنٹر بھی بنایا جائے گا جس میں چارمختلف لیبارٹریاں ہونگی اس سنٹر میں مچھلیوں کی مختلف النوع بیماریاں،افزائش نسل،متناسب خوراک،نئی اقسام پر تحقیق کے ساتھ ساتھ مچھلیوں پر موسمی اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔اس سلسلے میں پی ڈی ایس پی میں دو ارب روپے کے لگ بھگ رقم مختص کی گئی ہے جس میں ٹراؤ ٹ فش فارم بھی قائم ہونگے جبکہ پہلاٹراؤٹ فش ریسرچ سنٹر بھی بنے گا جبکہ ساتھ ہی تمام سات ہیچریوں کی تزئین وآرائش اور مناسب تعمیر ومرمت اور اپ گریڈیشن بھی ہوگی،نجی شعبہ میں صوبہ کی پہلی فش فیڈ مل پر بھی کام ہوگا۔مچھلیاں لانے اور لے جانے کیلئے مناسب گاڑیوں کا بھی انتظام کیا جائے گاکیونکہ ٹراؤٹ فش دوردراز علاقوں میں لے جانے کیلئے بہت زیادہ احتیاطی تدابیرکی ضرورت ہوتی ہے اسی منصوبے کے تحت نسل کشی کیلئے انکوبیٹرز بھی فراہم کئے جائیں گے ساتھ ہی پراسسنگ یونٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ اس پروگرام میں نوجوانوں کیلئے تربیتی پروگرام ہونگے، منصوبہ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹراؤٹ کی نسل کشی متعارف کرانے کیلئے اعلیٰ نسل کی مختلف ٹراؤٹ مچھلیوں کے انڈے درآمد کرکے کراس کئے جائیں گے تاکہ نئی نسل سامنے لائی جاسکے جوکم وقت اور کم خوراک میں زیادہ اور تیز بڑھوتری کی حامل ہوگی جس سے فارمز کا وقت اور سرمایہ بچ سکے گا۔ اس سلسلے میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کام کی رفتار تیز کئے جانے کا امکان ہے۔رابطہ کرنے پر صوبائی وزیر محب اللہ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں ٹراؤٹ فش کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ کیلئے منصوبے تیزی سے جاری ہیں جن کی تکمیل کی صورت میں صوبہ میں ٹراؤٹ میں ریکارڈ اضافہ ممکن ہوسکے گا،اسی سلسلے میں ملک کا پہلا ٹراؤٹ فش ریسرچ سنٹر بھی بنایا جائے گا۔

محمد یعقوب کے مطابق ٹراؤٹ کے بیماریوں کے روک تھام اور رہنمائی کے لئے علاقے میں موجود ماہی پروری کے مرکز سے مدد کے لئے رجوع کرتے ہیں جہاں سے محدود وسائل میں تو مدد فراہم کیاجاتا ہے۔ جدید آلات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی سے فارم مالکان مچھلیوں کے بیماریوں کازیادہ تر گھریلوں ٹوٹکو ں سے قابو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جہان شیر خان کے مطابق عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ مچھلیاں پالنے میں نئے مسائل کا سامنا کرناپڑ رہاہے جس پر قابو پانے کے لئے مختلف سطح پر کوششیں جاری ہیں جن میں جدید تربیت،آب و ہوا میں آلودگی کو قابو کرنے کے ساتھ بیماریوں کے روک تھا م کے لئے بھی کام جاری ہے۔

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top