جنوبی وزیرستان کی ضلعی ہیڈ کوارٹر منتقلی کا خدشہ ، محسود قبائل کا احتجاجی تحریک پر غور

52991325_828073834201849_2539906391699619840_n.jpg

آوردین محسود

ٹانک: قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے محسود مشران نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کو محسود ایریا سے کسی اور جگہ منتقلی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائیگا،مشران کے مطابق بعض اعلی حکومتی عہدیداروں کا قومی تعصب پر مبنی رویہ کے باعث ضلعی ہیڈ کوارٹر کو علاقہ محسود سے کہیں اور منتقل کرنا چاہتے ہیں، صوبائی حکومت اس اہم مسئلے کا  نوٹس لیں۔

ان خیالات کا اظہار اے ڈی خان محسود ،ملک عطاء اللہ اور ملک محسود احمد ودیگر قبائلی مشران میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ انگریز دور سے لیکر اب تک محسود 3/4جبکہ احمد وزیر 1/4حصہ نفع و نقصان کے مالک ہیں جبکہ اسی وجہ سے جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کو اکثریت پر ممتاز حثیت حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر کو اکثریت والے علاقہ محسود سے اقلیت والے علاقہ وانا منتقل کرنے کی ساز باز ہو رہی ہے جبکہ اس ساز باز اور نا انصافی پر مبنی فیصلہ میں وزیر اعلی خیبر پختوان خواہ کے مشیر اجمل خان وزیر کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں جو قومی تعصب پر مبنی ایک گھناؤنی سازش ہے۔

قبائلی مشران نے گورنر خیبر پختون خواہ اور وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشیر وزیر اعلی اجمل خان وزیر کو ضلع جنوبی وزیرستان کے اندورنی معاملات میں اثر انداز ہونے سے باز رکھا جائے بصورت دیگر محسود قبائل حکومت کے خلاف ایک نہ رکنے والے احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top