پی ٹی ایم ایک متشکل سیاسی مستقبل کی تلاش میں ہے

84924611_10219561645725950_1244687217507434496_n-e1588776083234.jpg

پروفیسر جمیل چترالی: تجزیہ کار

“خدائی خدمتگار تحریک سے براستہ نیشنل عوامی پارٹی موجودہ عوامی نیشنل پارٹی تک کے سفر، منزلت اور تحریک کے اغراض و مقاصد کے علاوہ اسکے طریقہ کار میں آنے والے مدوجذر کو بھی دیکھنا ہوگا” کچھ عرصہ پہلے پی ٹی ایم کے ایک دوست نے مچھ سے اس تحریک کے مستقبل پر سوال کیا تھا اور اس سوال میں ہی اسے خدائی خدمتگار تحریک کے احیاء کے طور پر پیش کیا، مندرجہ بالا سطور میرے جواب کا سرنامہ تھا.

خدائی خدمتگار تحریک جس کے روح رواں خان عبدالغفار خان المشہور باچاخان تھے یقیناً ایک متعلقہ اور عین زمینی حقائق پر قائم تھی یعنی جس قوت کو للکارا گیا پوری برصغیر کو اس پر اتفاق تھا کہ یہ ایک خارجی اور قابض قوت ہے (انگریز سامراج) ۔اگر سیاست ہو رہی تھی تو وہ مزاحمت کے طریقہ کار اور بعد از انخلاء ریاستی خدوخال پر تھا۔ جس میں جمعیت علماء ہند، جماعت اسلامی، کانگریس اور خدائی خدمتگار تحریک سمیت کچھ پرتشدد تحریکیں بھی شامل تھیں۔ اور 1947 کے بعد کے برصغیر کی موجودہ سیاسی جغرافیے میں ان سب کا کردار رہا ہے۔ درحقیقت خدائی خدمت گار تحریک تو بنیادی طور پر سیاسی شعور کی غیر پارلیمانی تحریک تھی جسے گاندھی اور دیگر اکابرین نے بات چیت کے ذریعے پارلیمانی سیاسی کردار کی طرف مائل کیا۔

خیر اس بحث پر نہ میرا عبور ہے اور نہ یہاں ضرورت۔ بات ہو رہی تھی پی ٹی ایم اور خدائی خدمتگار تحریک میں مماثلت کی تو یقیناً سیاسی شعور بیدار کرنے اور نوجوان نسل کو غیر متشدد جمھوری، قانونی اور آئینی بنیادی حقوق پر تو یہ تحریک کافی حد تک مشابہت رکھتی ہے اور منظور پشتین کا حوصلہ اور دھیمہ لہجہ بھی کافی مسحور کن ہے۔ نوجوان بلخصوص وسطی اور جنوبی پختونخواہ کے نوجوان (بشمول قبائلی اضلاع) میں ان کی پیروی کافی حیران کن اور مقتدر قوتوں کیلیے پریشان کن ہے۔
لیکن بات یہاں پر آکر رک جاتی ہے۔ اور چند سوالات جنم لیتے ہیں۔

1۔ کیا آج کے پشتون نوجوان”غاصب اور استعماری قوت” کے معاملے پر اسی طرح متفق ہیں جیسے پی ٹی ایم پیش کر رہی ہے تو جواب ہے کہ نہیں ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا یا وہ حالات نہیں ۔ انگریز اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں مماثلت کیلیے لاکھوں پشتوں نوجوان سننے کیلیے بھی تیار نہیں۔ اور وہ حق بجانب ہیں کیونکہ جس سٹرکچرل استعماری طریقہ کار کی بات ہو رہی ہے اس پر تو باچاخان کے پیروکاروں کو دہایاں لگ گئی ۔ بات تمام پشتونوں کو کیا سمجھانی تھی ۔ کافی حد تک انھوں نے ہی راہ بدل ڈالی۔

2۔ پھر باچاخان نے ایک تربیتی اصلاحی پروگرام حجرے اور اصلاحی مدرسے کی شکل میں شروع کیا تھا۔ حجرے کے متبادل کے طور پر ہم سوشل میڈیا مان لیتے ہیں لیکن وہ منظم پروگرام جو اصلاحی مدرسے کا تھا وہ تاحال ناپید ہے اسکا کوئی متبادل اگر آج ہو سکتا ہے تو وہ سیاسی منشور ہے یعنی مستقبل کا نقشہ۔

3. پی ٹی ایم کو وضاحت کرنی ہوگی کہ وہ کیا چاہتے ہیں یعنہ اگر 1973 کے آئین پر من وعن عمل ہوجائے اور ایک عام معذرت یا معافی نامہ یا ایسی کو متشکل دستاویز آجائے تو انکی سیاسی تحریک ختم ہوجائیگی؟ جبکہ باقی تمام سیاسی قوتیں اور جماعتیں قائم رہینگی۔کیونکہ ان کا تو ایک دائمی پروگرام ہے ایک منشور ہے جو حکومت حاصل کرکے لاگو کرنا ہے!

4۔ پارلیمانی سیاست اور غیر پارلیمانی جدوجہد پر بھی وضاحت درکار ہے۔ اور دونوں حکمت عملیوں کی وجوھات بھی بتانی چاہیے کیونکہ اگر باچا خان اپنی تحریک غیر پارلیمانی رکھ رہے تھے تو وہ انگریز کو غاصب قوت سمجھتے تھے جوان کو کسی بھی صورت (جتنی بھی آئین اور قانون کی عملداری ہوجائے) برصغیر میں بطور حکمران ماننے کو تیار نہ تھے چاہے حکومت جمھوری ہو یا نہ ہو!

5۔ تو پنجاب کے حوالے سے پی ٹی ایم ایسی ہی کوئی سوچ رکھتی ہے؟ یا بات ریاست ہائے متحدہ پاکستان کی ہو رپی ہے جسکا مطلب ایک نیا سیاسی عمرانی معاہدہ…ہر صورت پی ٹی ایم ایک متشکل سیاسی مستقبل کی تلاش میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top