پختون ہوں اس لئے؟

36942820_2167691916796257_5612127881854451712_o.jpg

روفان خان؛ صحافی وتجزیہ کار

پختون قوم کو ایک ملنسار اور بہادر قوم کے نام سے یاد کیا جاتاہے پختون قوم شروع دن سے ملکی دفاع میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور ملک کی خاطر لاتعداد مالی و جانی قربانیاں دے رکھی ہیں آج یہی وجہ ہے کہ ملک میں بسنے والے آزادی کا سانس لے رہے ہیں جس کا سہرا پختون قوم کو جاتا ہے جن کی قربانیوں سے کتابیں بھری پڑی ہیں تاریخ رقم کی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ ہرایک مذہب اورہر طبقہ پختون قوم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پختون قوم روز اول سے قربانیاں دیتی آرہی ہے کوئی بم دھماکے میں شہید ہواہے کوئی فائرنگ سے جام شہادت نوش کر چکاہے اور کوئی خودکش دھماکے میں جاں بحق ہوا ہے اور کوئی اغواء کرکے قتل کردیا گیا ہے آج تک اس صورتحال سے پختونوں کو نجات نہیں ملی ہے بدقسمتی سے آج بھی پختو ن قوم خطرناک حالات کا مقابلہ کررہی ہے سیکورٹی اداروں نے بھی ملک کی خاطر مبینہ دہشت گردوں کے خلاف بڑے آپریشنز کئے جن میں پاک فوج کے کافی آفیسرز اور سپاہی جام شہادت نوش کرچکے ہیں اورجنہوں نے جوابی کارروائی میں ہزاروں مبینہ دہشت گردوں کو ماراہے۔

بات کی جائے شمالی وزیرستان,سوات اور باجوڑکے آپریشن کی تو ان آپریشنز میں ملک کی خاطر مالی وجانی نقصانات ہوچکے ہیں امن کے قیام کیلئے کافی خون بہہ چکا ہے ملک کی خاطر لاتعدادقربانیاں دی گئیں ان قربانیوں کا درد متاثرہ خاندان محسوس کررہے ہیں مگر ان قربانیوں کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے پختون قوم آج بھی مشکلات میں گری ہوئی ہے شمالی وزیرستان کے آپریشن ضرب عضب میں دی جانے والی جانی ومالی قربانیوں پر نظر دواڑئیں کہ وہاں چونکہ آپریشن کیا گیا اور پختون قوم نے قربانیاں دیں مگر ان قربانیوں کا کتنا صلہ پختون قوم کو ملا ہے؟

یقیناً جانی نقصان کا بدلہ کوئی نہیں دے سکتا مگربات کی جائے مالی نقصان کی توآج بھی شمالی وزیرستان کے عوام مالی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔یہ سب ملک کی خاطر دی گئی قربانیوں کا صلہ ہے ان لوگوں کا ابھی تک دی جانے والی جانی قربانیوں کا درد ختم نہیں ہوا۔یہ وہ لوگ ہیں کہ آپریشن ضرب عضب سے قبل ملک کی خاطر اپنے علاقے سے ہجرت کی تھی اور سارا سامان گھرو ں میں چھوڑا تھااور تقریباًپانچ سال تک دربدر ٹھوکریں کھائی ہیں پانچ سال تک مبینہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہا جب آپریشن اختتام کو پہنچا اورحکومت نے واپسی کا اعلا ن کیا تو لوگ اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے گئے کچھ لوگ آج بھی آئی ڈی پیز کی زندگی بسر کررہے ہیں مگر قربانیوں کی یہ ساری باتیں اپنی جگہ مالی نقصانات کے معاوضے تو گھر کی دہلیز پرپہنچائے جا سکتے ہیں۔

موجودہ وقت میں شمالی وزیرستان سے جو بھی خبر آتی ہے تو وہ احتجاج اور مظاہروں کی ہوتی ہے کہ فلاں جگہ پر معاوضے کی ادائیگی کیلئے بارگین ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے احتجاجی مظاہر ہ کیا ہے فلاں جگہ پر پیٹرول پمپس ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے احتجاج کیا ہے فلاں جگہ پر یوتھ آف شمالی وزیرستان نے احتجاج کیا ہے ا ور فلاں جگہ پر تاجر سراپا احتجاج ہیں آخر کب تک اپنے حق کیلئے سراپا احتجاج رہیں گے۔کیا یہ اس لئے کہ یہ پختون ہیں؟ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اتنی قربانیوں کی بدولت ان کو نقصانات کے معاوضے اپنی دہلیز پر مل جاتے اور احتجاج نہیں کرنا پڑتے مگر افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ ان لوگوں نے ملک کی خاطر اتنی قربانیاں دے رکھی ہیں کہ ان کی مثالیں نہیں ملتیں مگر ان قربانیوں کے باوجود دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں حکومت ان لوگوں کو اپنی دہلیز پر اپنے حقوق پہنچائیں اور مزید احتجاج اور قربانیاں دینے پر مجبور نہ کریں۔

حکومت کو چاہئیے کہ یہاں کے عوام کو معاوضوں کی ادائیگی سمیت یہاں صحت اور تعلیم جیسے بنیادی حقوق فراہم کرے پیارے ملک کے اس خطے کو بھی ملک کے دوسرے شہروں کی طرح تمام بنیادی سہولیات دیئے جائیں۔یہاں کے عوام کی جو شکایات ہیں ان کا ازالہ کیا جائے کیونکہ امن تبھی قائم ہو سکتا ہے کہ جب انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور علاقہ کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کیا جائے بصورتِ دیگر اگر احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو نہ تو یہاں امن ہوگا نہ سکون نہ ترقی کا پہیہ گھومے گا اور نتیجہ پھر وہی ہوگا بد امنی، انتشار اور افراتفری۔

جس امن کی خاطر اتنی قربانیاں دینی پڑیں وہ امن بھی داؤپہ لگ جائے گا اور اس خطے کے لوگوں اور پاک فوج کی قربانیاں یوں ہی رائیگاں چلی جائے گی۔ اور مستقبل قریب میں شاید ہم ایک بار پھر قربانیاں دے رہے ہوں گے۔یہ مسائل آج اتنے برے نہیں ہیں ان مسائل کو افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے مل بیٹھ کر حل کیا جا سکتا ہے۔ بس تھوڑی سی سنجیدگی کا مظاہرہ درکار ہے۔کچھ امور پر متفق ہونا ہے اور پھر اس پر عمل در آمد یقینی بنانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top