اٹھارویں آئینی ترمیم اور پاکستان کا مستقبل

99601402-594f-42a2-a7f6-633a8f9117ac.jpg

ماریہ زیب اعوان

مرحوم ولی خان بابا فرمایا کرتے تھے کہ کیا ہماری اور ہماری آئیندہ نسلوں کی زندگی ان یقین دہانیوں میں گزر جائے گی کہ ہم پاکستان کے وفادار ہیں غدار نہیں۔ پاکستان میں ساٹھ سال تک تو یہ مسئلہ چلتا رہا ہے کون وفادار ہے کون غدار ہے اور کون کم وفادار ہے کون زیادہ وفادار ہے اوریہ سر ٹیفکیٹ ہمیشہ پنڈی اور اسلام آباد سے تقسیم ہوتے رہے ہیں۔ پھر کچھ عرصہ بعد اس سرٹیفکیٹ میں مذہبی رنگ بھی چڑھنے لگا۔ اب آپ کے لیے مذہب کا سرٹیفکیٹ بھی اسلام آباد سے بن کر آتا ہے جو یہ ثبوت ہوتا ہے کہ آپ محب وطن بھی ہیں آپ مسلمان بھی ہیں یعنی وطن اور مذہب کا تعین یہ کام بھی اسلام آباد نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔

ان سب رسہ کشیوں میں ہم نے آدھا ملک گنوا دیا اور یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی اکثریت نے کسی اقلیت سے آزادی لی ہو ۔ بنگلہ دیش کے چھپن فیصد عوام نے چوالیس فیصد عوام سے آزادی حاصل کرنے کی ایک طویل جدوجہد کی اوراس جدوجہد میں وہ کامیاب ہوگئے اور انہوں نے اسلام آباد کی غلام گردشوں سے آزادی حاصل کی۔آدھا پاکستان گنوا دیا تب ہمارے حکمرانوں ، اشرافیاں اور سول ملٹری اسٹبلشمنٹ کو  احساس ہوا کہ ملک چلانے کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے، کوئی ڈھانچہ بنایا جاتا ہے۔ ایک آئین درکار ہوتا ہے اور طویل بحث ومباحثے کے بعد اُس وقت کے قومی سطح کے لیڈران جناب ذالفقار علی بھٹو صاحب ،ولی خان،مفتی محمود اور بہت سارے لوگو ں نے ملکر ایک طریقہ کار سے ایسا آئین بنایا جس پر تقریباً سب ہی متفق ہوئے اور یہ پاکستان کی پہلی بڑی کامیابی تھی۔

اس آئین کی رو سے یہ ملک ایک وفاق ہوگا اور وفاق کی اکائیاں ہونگی وفاق اور ان اکائیوں کے درمیان ایک ورکنگ ریلیشن ہوگا جسمیں بہت سارے اختیارات صوبوں کے پاس ہونگے اور بہت کم اختیارات مرکز کے پاس ہونگے چونکہ اس وقت پاکستان کے حالات ایسے تھے،آدھا ملک ٹوٹ چکا تھا یہ فیصلہ ہوا کہ دس سال بعد صوبوں کو خود مختیاری دی جائیگی اور دس سال میں بتدریج یہ عمل مکمل ہوگا لیکن پھر کیا ہوتا ہے فوج وزیراعظم ہاوس اور پارلیمنٹ ہاوس پر چڑھ دوڑتی ہے۔ اقتدار پھر انکے ہاتھ میں چلا جاتا ہے پھر ایک لمبی اور نہ ختم ہونے والی اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے ۔اس رسہ کشی میں ہم بہت سارا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں۔

بی بی کی شہادت کے بعد وفاق میں اور صوبوں میں عوامی نشنل پارٹی اورپپپلز پارٹی کی حکومت بنتی ہے بہت عرصے بعد ملک میں سنجیدہ قیادت ملک کے بنیادی مسائل کے حل اور بنیادی ڈھانچے کی تشکیل نو کے لیے مل بیٹھ کر کام کرنے پر تیار ہوتی ہے اور یہ پاکستان کی خوش قسمتی تھی اس وقت اقتدار کے ایوانوں میں آصف علی زرداری،اسفند یار ولی خان،مولانا فضل الرحمان جسے سنجیدہ لوگ موجو د تھے جو بہت سوچ وچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اس ملک کے آئینی اور انتظامی معاملات کو صیحح ڈگر پر لانے کی اشد ضرورت ہے ان سب کوششوں کا نتیجہ اٹھارویں ترمیم آئینی کی صورت میں نکلتا ہے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم ہے کیا؟ اٹھارویں آئینی ترمیم چھوٹے صوبوں کو یہ باور کروایا گیا یہ یقین دلایا گیا،انکو یہ آئینی حق دیا گیا کہ آپ اس وفاق میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ آپ کسی کے غلام نہیں ہیں یہاں پر کوئی بڑی اورچھوٹی قومیت نہی ہے یہ سب لوگوں کا مشترکہ پاکستان ہے۔اس اٹھارویں آئینی ترمیم میں وفاق سے اختیارات کو صوبوں تک منتقل کر دیا گیا۔

لیکن جیسے ہی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آتی ہے تو روزانہ کی بنیاد پر نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں کبھی صدارتی نظام کی بات ہوتی ہے کبھی اٹھارویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے کی بات ہوتی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم سے مسئلہ کس کو ہے تینوں صوبوں میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہے مرکز میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہے پھر کس کو مسئلہ ہے یہ مسئلہ انکو ہے جنکو اس ملک میں جمہوریت ہضم نہی ہوتی۔ مسئلہ پاکستان کی فوجی آمریتوں اور جرنیلوں کو ہے ان جرنیلوں کے لیے یہ بات ناقابل برداشت ہے کہ اس ملک میں سیاسی استحکام آئے اور انکےلیے چور راستے سے اقتدار پر قبضہ کرنے کے تمام راستے بند ہوں۔ یہ پورا دن انہی سازشوں میں لگے رہتے ہیں کسطرح اس اٹھارویں آئینی ترمیم کو رول بیک کیا جائے یعنی ہم نے فرض کیا ہوا ہے اپنے آپ کے اوپر کہ ہم نے ترقی نہیں کرنی،ہم نے آگے نہی جانا پوری زندگی ہم نے اور ہماری آئیندہ نسلوں نے ان ہی چکروں میں رہنا ہے کہ اس ملک کا آئینی ڈھانچہ کیا ہوگا اس ملک میں چھوٹی قومیت کا مستقبل کیا ہوگا اس ملک میں بنیادی اکائیوں کا مستقبل کیا ہوگا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک میں انتظامی اعتبار سے نئے صوبے بنتے اور وہ صوبے ضلعوں کو،ضلعے تحصیلوں کو اور تحصیل یونین کونسل کو اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہوتی کیونکہ اختیارات عوام کی ملکیت ہے اختیارات اسلام آباد کے افسر شاہی کی ملکیت نہیں ہے یہ سارا جھگڑا اور مسئلہ اسی بات کا ہے۔

لیکن اب حالات اس نہج پر ہیں کہ بلوچستان میں شورش ہے ،سندھی ،پختون ناراض ہیں،سرائیکی آپ سے نالاں ہے اور اس میں بھی آپ پھر چاھتے ہیں کہ طاقت پھر مرکز کے پاس آئے ۔ آج ایک ذمے دار سیاسی پارٹی عوامی نشنل پارٹی کے سربراہ جو کہ مزاحمتی سیاست کی ایک مضبوط تاریخ رکھتی ہے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ آپ اٹھارویں آئین ترمیم کو چھیڑتے ہیں تو ہم وفاق کا حصہ نہیں رہیں گے ۔ اور یہ بہت تشویشناک صورتحال ہے۔ ایک طرف آپ کے اوپر پی ٹی ایم کی تلوار لٹک رہی ہے دوسری طرف آپ سے بلوچ ناراض ہیں تیسری طرف سندھی قوم پرست آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاھتے اس صورت میں جو لوگ اس وفاق کو مضبوظ کرنا چاھتے ہیں آپ ان کو دیوار سے لگانا چاھتے ہیں۔

تاریخ کے بدترین حکمران جماعت اپنے ناکامیاں چھپانےکے لیے سب کچھ پھر سے ایک ادارے کی جھولی میں ڈالنے کو تیار ہیں جو ادارہ پہلے سے اس ملک کے وسائل پر بری طرح قابض ہے لیکن اگر ایسا کروگے ملک میں اندرونی طور پر بغاوت ہو گی اور وہ بغاوت بہت خطرناک ہو گی پاکستان کی سول ملٹری اسٹبلشمنٹ کو ان باتوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کہ ملک میں پہلے سے مسائل بہت زیادہ ہیں اور مسائل نہ بڑھائے جائین بلکہ لوگوں کو سکون کی زندگی گزارنے دی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top