زندہ قومیں اپنی موسیقی کو زندہ رکھتے ہیں،ڈاکٹر اباسین یوسفزئی

53016252_786417985063845_4555880928529874944_n.jpg

سیدرسول بیٹنی

پشاور : موسیقی کے اہمیت کو اُجاگر کرنے کیلئے دُنیا بھر میں ہرسال 3 مارچ کو “عالمی یوم آزادی موسیقی” کے طور پر مناتے ہیں اور پوری دُنیا میں موسیقی سے  شغف رکھنے والے لوگ  اس حوالے سے موسیقی کے رنگارنگ تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔

پشاور میں صحافیوں کی جانب سے اس دن کی مناسبت سے پشاور پریس کلب میں  کلچر کمیٹی پشاور پریس کلب اور کلچر جرنلسٹس فورم کے زیر اہتمام  ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا،جس میں صوبہ خیبر پختونخوا کے نامور گلوکاروں، فنکاران ٗموسیقاروں اور ہنرمندوں کے علاوہ ادیبوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔

تقریب کا عنوان تھا “ peace through music”یعنی” امن بذریعہ موسیقی”

تقریب میں مہمان خصوصی  پشتو ادب کے مشہور شاعر پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی ،صدارتی ایوارڈ یافتہ ادیب و شاعر دانشور لائق زادہ لائق،شہنشاہ غزل خیال محمد استاد،احمد گل استاد اور مہشور موسیقی کار نزیر گل استاد کے علاوہ کثیر تعداد میں پشتو موسیقی کے ساتھ شوق رکھنے والے سامعین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

تقریب کے پہلے نشست میں مقررین نے شوبز سے واپستہ فنکاروں و ہنرمندوں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی اور حکومت سے فنکاروں کو درپیش مسائل کے حل کرنے کا مطالبہ کیا ۔

تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ زندہ قوموں کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ثقافت کو زندہ رکھتے ہیں اور اُن کے ساتھ محبت رکھتے ہیں۔اںہوں نے کہا کہ جہاں موسیقی ہوتی ہے وہاں زندگی اور امن کا سماں ہوتی ہے اور جہاں موسیقی نہیں ہوتی تو وہاں بدامنی اور جنگ کی صورتحال ہوتی ہے۔انہوں نے نوجوان نسل ہر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنے موسیقی اور ثقافت پر فخر کریں اور اس کی ترقی کیلئے ہمہ وقت کوششیں کریں تاکہ ہماری پشتو کی موسیقی بھی دُنیا کی بہتریں موسیقی کا درجہ حاصل کرسکیں۔

کلچر کمیٹی پشاور پریس کلب کے چیئرمین احتشام طورو نے تقریب سے خظاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہشتون خظے میں پچھلے کئی دہائیوں سے ایک گمنام جنگ جاری ہے جس میں ہزاروں پشتونوں نے اپنے جانوں کی قربانی پیش کی اور امن برقرار رکھنے کی خاظر لوگوں نے اپنے کندھوں پر جنازے اٹھائے ۔انہوں نے کہا کہ آج چونکہ حالات تھوڑے بہتر ہوئے ہوگئے ہیں لہذا ہمیں اب امن کی  نغمے گانے  اور  امن کی پر چار کرنے کی ضرورت ہے.

تقریب کے  دوسرے اور آخری نشست میں محفل موسیقی کا انعقاد ہوا جس میں صوبے کے معروف سینئر گلوکار وں کے علاوہ نوجوان گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور سامعین کو  اپنے فن  سے محظوظ کیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top