قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ بحال کرنا ناگزیر ہوچکا ہے،عامر آفریدی

safe_image.jpg

پشاور:خیبر یوتھ فورم کے صدر عامر آفریدی نے کہا کہ کرورنا کی وباء نے دوسرے مکتبہ فکر کی طرح طلبا و طالبات کی پڑھائی کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور اس مسلے پر قابو پانے کے لئے حکومت نے ان لائن کلاسز اور ٹیلی سکول جیسے اقدامات اٹھائے ہیں جو خوش آئند ہے دوسری طرف تمام یونیورسٹیز ، کالجز اور ہاسٹلز بند ہونے کی وجہ سے باقی طلبا و طالبات کے طرح قبائلی طلبہ بھی ہاسٹلز سے گھروں کو منتقل ہوچکے ہیں مگر بد قسمتی سے انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے قبائلی طلبہ جو پہلے ہی بہت مشکلات کا شکار ہے ایک اور مشکل میں پھنس چکے ہیں اور ان کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور ایک بار پھر ہم پتھر کی زمانے کی طرف جا رہے ہیں۔

“دی پشاور پوسٹ ” کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کی بہ نسبت کئی سال پہلے سیکوریٹی کی حالات بہت خراب تھے مگر جون 2016 تک انٹرنیٹ کی سہولت موجود تھی آج بارڈر پر خاردار تار بھی لگائی گئی بارڈر مینیجمنٹ بھی ہوچکی ہے. آپریشن بھی مکمل ہوچکے ہیں مگر انٹرنیٹ سروس آج بھی معطل ہے جو آئین پاکستان کی بنیادی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے باوجود اس کے کہ وزیراعظم پاکستان نے اپنے دورہ خیبر اور مہمند میں باقاعدہ تھری جی اور فور جی سروس بحالی کا اعلان بھی کیا تھا اور ساتھ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے بھی فوری طور پر تھری جی اور فور جی سروس بحالی کے آرڈر جاری کئے تھے لیکن تا حال قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سروس بحال نہیں ہوا۔

عامر آفریدی نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے قبائلی طلبا و طالبات کو ایک ای میل چیک کرنے کے لئے بیس سے تیس کلومیٹر دور تک جانا پڑتا ہے اور کچھ سٹوڈنٹس ایسے بھی ہیں کہ وہ ایک ای میل چیک کرنے لئے سو کلومیٹر سے زیادہ سفر کرتے ہیں اس کے علاوہ پاکستان سے باہر رہنے والے مسافر بھی بہت پریشان ہیں اور کہتے ہیں کہ کئی سال ہوچکے ہیں کہ ہم اپنے پیاروں کو دیکھنے سے قاصر ہیں حالانکہ یہ وہ اوورسیز ہیں جو ہر مشکل وقت میں اس وطن عزیز کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ملکی معشیت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور وطن عزیز کے اصل سفیر یہی اوورسیز ہیں۔

انہوں نے  ٹیلی سکول کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہ یہ حکومت  کا اچھا اقدام ہے مگر ٹیلی سکول کی کلاسز دیکھنے کے لئے آپ کو ٹی وی ، کیبل یا اینٹینا کی ضرورت ہوگی جو ایک عام مزدور کی بس کی بات نہیں اور اگر ہم قبائلی اضلاع کے حوالے سے بات کریں وہاں پر بجلی نہ ہونے وجہ سے معاملہ اور بھی گھمبیر ہیں لہذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قبائلی عوام ہر رحم کرکے ان کو آئین پاکستان کی روشنی میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

یاد رہے کہ کچھ دن قبل جنوبی وزیرستان کے شہر وانا میں بھی انٹرنیٹ کے بحالی کیلئے سٹوڈنٹس کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top