خیبر پختونخوا کے جیلوں میں کرونا وائرس پھیلنے کا خدشہ

cf773ef4-0c9c-4b72-bc2e-7e7857ed4200.jpg

کامران علی شاہ

پشاور :خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر صوبہ بھر کے جیلوں سے قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرنے اور اس موذی مرض کے پھیلاو کو روکنے کےلئے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کردی گئی ہے۔رٹ پٹیشن ہائی کورٹ کے وکیل سیف محب کاکا خیل نے دائر کی ہے ۔جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ کرونا وائر س کی وجہ سے ملک بھر میں اس وقت تک کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں بھی مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

پشاور سینٹرل جیل سمیت صوبے کے دیگر جیل اور جوڈیشل لاک اپس میں قید ہزاروں قیدیوں میں بھی یہ مرض پھیلنے کا خدشہ ہے ۔ملک بھر کی طرح خیبرپختونخوا کی جیلوں میں بھی گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہے ۔جبکہ ان جیلوں میں اس حوالے سے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں ہے ۔

موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پریزن رولز میں نرمی کرکے جن قیدیوں کے مقدمات زیر سماعت انہیں رہا کیا جائے ۔بیماری میں مبتلاء اور جرمانہ اداد نہ کرسکنے والے قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے ۔ریونیو ادارے بند ہونے کی وجہ سے انہیں بانڈ یا بل پر رہائی دی جائے ۔جیلوں میں قید بچوں اور پچاس سال سے زائد عمر کے افراد کی رہائی پر حصوصی توجہ دی جائے ۔سول مقدمات کم کرکے کرئمنل کیسز جلد از جلد نمٹائے جائے تاکہ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد کم ہوسکے اور اسی طرح اس خطرے سے قیدیوں کی جانیں بچائی جا سکیں ۔جبکہ حکومت اور حصوصا محکمہ صحت قیدیوں کے صحت کے بارے میں حصوصی اقدامات کرے ۔

خیبرپختونخوا کے جیلوں میں قید غیر ملکی قیدیوں کے رہائی کےلئے بھی حصوصی اقدامات اُٹھائے جائے ۔رٹ میں ملک بھر کے قیدخانوں کے اعداد شمار بھی دےئے گئے ہیں جس کے مطابق ملک بھر کے جیلوں میں 55ہزار قیدیوں کی گنجائش موجود ہے تاہم اس وقت 77ہزار افراد جیلوں میں قید ہے جس کے صحت کے بارے میں انکے اپنوں کو تشویش لاحق دوسری جانب جیلوں میں صحت کے سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہے اسی کےساتھ پشاور کے سنٹرل جیل میں اور صوبہ بھر میں خواتین قیدیوں کےلئے کوئی حاص جیل موجود نہیں انہیں عام جیلوں میں محصوص بارکس میں رکھا جاتا ہے جن کے ساتھ انکے بچے بھی قید کی زندگی گزار رہے ہیں ایسے میں جیلوں کے اندر کرونا وائرس جیسے مہک مرض کے پھیلنے کا خدشہ موجود ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top