غازی سیال: پشتو فوک لور کا بڑا باب بند (2019-1933)

WhatsApp-Image-2019-11-28-at-8.14.49-PM.jpeg

اسلام گل آفریدی

اگر یہ کہا جائے کہ پشتو فوک لو ر اور ادب کا چمکتا ہواستارہ غازی سیال کے شکل میں مختصر علالت کے بعد پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں سہ پہر27 نومبر کو 86سال کے عمر میں ہمیشہ کے لئے غروب ہوا اور 28 نومبر 2019 کو خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں اپنے آبائی گاؤں میں خاندان اور ہزاروں کے تعداد میں چاہنے والوں کے سامنے سپر د خاک کردیا گیا۔ مرحوم نے پشتو ادب کے مختلف اصناف پر کئی کتابیں تحریرکیں، پچاس سے زیادہ فلموں کے گانے لکھیں اور زندگی کے آخری ایام تک پشتو ادب کیلئے بے شمار خدمات سرانجام دیے۔ہمارے سینئر نمائندے نے اپریل 2018 میں مرحوم غازی سیال کے ساتھ اُن کے زندگی اور ادبی خدمات کے حوالے سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا تھا جو قارئین کے خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔

س: غازی سیال صاحب پہلے تو وقت دینے کے لئے بہت شکریہ، میرا پہلا سوال ہے کہ اپنے پیدائش اور آبائی گاؤں کے بارے میں بتائے؟

ج: میری پیدائش بنوں شہر کے جنوب میں ڈھائی میل کے فاصلے پر واقع منڈان کے علاقے اخوندارہ میں 15اپریل 1933کوہوا۔ میں نے ایسے گھرانے میں آنکھیں کھولی جو ادبی، روحانی اور تدریس جیسے مقدس پیشے کی وجہ سے علاقے میں آج تک ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے اور شاید یہی وجہ سے ہمارے گاؤ ں کو اخوندارہ کہتے ہیں کیونکہ فارسی میں اخوند اُستاد یامعلم کو کہتے ہیں۔ لوگوں کے محبت اور احترام کا عالم یہ ہے کہ جب کوئی برات گاؤں سے گزرتے ہیں تو احترام کے طورپر وہاں پر لوگ موسیقی بجانا بند کردیتے ہیں۔

میرے والد کانام عبدالغفور تھا اور ہم تین بھائی تھے جن میں لطیف زمان جنہوں نے چار ماسٹر کی ڈگری کرچکے تھے جبکہ تین گولڈ میڈل بھی حاصل کیے تھے اوررسب سے چھوٹا بھائی مصطفی نو ر تھا جو دل کو بہت ہی قریب تھا۔ جب وہ چھوٹا تھا میں اُس کو گود میں لیکر اُس کے دل بہلانے کے لئے میں فلبدی کوئی کلام ترنم میں سنتاتھا اُس وقت میں دس سال کا تھا اور شاید یہی وہ دورتھا جب میں نے پہلاکلام تخلیق کیا۔ تو میں یہ کہونگا کہ میں واقعی پیدائشی شاعر تھا۔

بعض چیزیں مجھے وراثت میں ملے جن میں شاعر بھی تھا کیونکہ میرے دادا صدیق نجیب کا شاعری مجموعہ پشاور یونیورسٹی کے پشتو اکیڈمی میں دیوان نجیب کے نام سے محفوظ ہے اور کئی بار حکام نے اُن کے دوبارہ چھپائی کا وعدہ کیا لیکن اب تک اُس پر عملی کام نہ ہو سکا۔

س: آپ کے کلام پشتو ادب کے ماسٹر کورس میں پڑھایا جاتا ہے لیکن خودکتنے جماعت پڑھ چکے ہیں؟
ج:ہنستے ہوئے۔۔۔۔ عجیب سوالات پوچھتے ہو۔ بنیادی طور پر میں ہر قسم کے پابندی سے آزاد طبعیت اور سوچ کا مالک ہوں اور یہی وجہ ہے کہ میں نے باقاعدہ پڑھائی اور کوئی سرکاری نوکری نہیں کیں۔ میرے ہم عمر بچے سکو ل جاتے تھے جبکہ میرے ہاتھ میں ہروقت غلیل ہوتا تھا اور پرندوں کا شکار کرتا تھا۔والد نے زبردستی چوتھی جماعت تک پڑھایا لیکن گھر ہی میں باپ سے دینی علوم کے بے شمار کتب پڑھے جن میں گلستان، بوستان، صرف ونحوا،سکندر نامہ، پانچ گنج، نظم اور زلیخاو یوسف شامل ہیں۔اس کے بعد میں شدید علم حاصل کرنے کا پیاس لگا جس کو مختلف علوم کو مطالعہ کرکے بجھایا اور جو کچھ مستقبل میں لکھا تو اس علم کے برکت لکھا۔

س: پہلا کلا م کس کیفیت میں لکھا کچھ یاد ہے؟
ج: اس حوالے سے کچھ زیادہ یادتو نہیں البتہ اُس زمانے میں راحت زاخیلی روزنامہ شہبار میں پشتو صفحے “گلزارادب کا انچارچ تھا اور میں نے تین چار نظمیں بھیجے تھے جس کو بمشکل دو دو اشعار کی صورت میں مختلف اوقات میں شائع کی گئی لیکن اس کے باوجود کافی خوشی اور حوصلہ افزا ئی ہوئی۔اُس وقت ادبی نام غازی استعمال کرتا جبکہ والدین نے میرا نام محمد غازی شاہ رکھا تھا۔

س: محمد غازی شاہ سے غازی سیال کیسے بنا؟
ج:1956ء میں بنوں کے ہاکی گراونڈ میں بہت بڑے مشاعرے کا انعقاد کیاگیاتھا، میں ایک سامع کے طور پر وہاں گیا تھا لیکن معلوم نہیں کسی نے سٹیج تک میرا نام بغیر بتائے کلام پیش کرنے کے لئے دیاتھا کہ مرحوم طاہر کلاچوی نے میرانام لیکر کلام پیش کرنے کے دعوت دی۔ میں کافی حیران اور پریشان ہوا کیونکہ میں نے پہلے کبھی اتنے بڑے مجمے کے سامنے کلام نہیں سنایا تھا۔ جب کلا م پڑھنے کے لئے آیا تو کافی ڈر محسوس ہورہا تھا لیکن ترنم میں کلام سنانا شروع کیا توہر ایک شعر پر اتنا داد ملنا شروع ہوا کہ مجھے یقین نہیں آرہاتھا۔کلام کے خاتمے پر کلاچوی صاحب نے مجھے بولا کر کہاکہ یہ آپ کا پہلا یا دوسرا کلام ہے لیکن بہت خوب لکھا ہے۔ روغ لیونے بھی اس موقع پر موجود تھا، وہ بنوں کالج میں لائبر رین کے حیثیت سے خدمات سرانجام دیں رہے تھے۔ دونوں نے متفقہ طورپر کہاکہ آج سے آپ کا آدبی نام غازی سیال ہوگا تو اُس کے بعد آج تک لوگ مجھے اس نام سے جانتے ہیں۔

س: آپ کا آواز بہت ہی سوریلا ہے، کہاں سے سیکھا ترنم میں کلام سنانا؟
ج: ہنستے ہوئے۔۔۔اب آپ پھر کہیں گے کہ بہت سے چیزیں آپ کو وارثت میں ملے ہیں، تو میں کہتا ہوں کہ ترنم میں بول بھی مجھے والد سے سیکھنے کو ملاہے کیونکہ جب ہم چھوٹے تھے تو والد مرحوم گھر میں یوسف اور ذلیخہ کے عشقیہ کہانی ترنم کے ساتھ سناتاتھا اور پھرمیں اکیلے میں اُس کے طرز پر گانے کی کوشش کرتا تھا۔

س: غازی سیال صاحب آپ کا بہت پرانا اور مضبوط رشتہ ریڈیو کے ساتھ ہے، کب اور کیسے یہ ناطہ بنا؟
ج: پشاور میں رحمان باباکے سالانہ عرس کے موقع پر مشاعرے کا انعقاد ہواتھا اُس میں شرکت کے لئے میں بھی آیا تھا اوراپنا کلام پیش کیا وہاں پر ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر رشید علی دحقان بھی موجود تھا۔ ملاقات ہوئی تو بنوں کے مقامی لہجے میں بات شروع کیں اور کہا میں شمالی وزیر ستان کے داوڑ قیبلے سے تعلق رکھتاہوں۔ اُنہوں نے مجھے ریڈیو پاکستان پشاور آنے کی دعوت دی تو چند دن بعدمیں جب اُ ن کے دفتر گیا تو وہاں پر فدا مطہربھی موجود دتھا۔ میرا پہلا کلام گلناربیگم کے آواز میں ایک کلام “نر ے باران دے “ریکارڈ ہوئی جوکہ آج تک لوگوں کو یاد ہے۔

بعد میں کشورسلطان، بادشاہ زرین جان، ملالی، قمرو جان اور بنوں سے تعلق رکھنی والے حبیب جان سمیت بہت سے فنکاروں نے میراکلام ریکارڈ کرائے۔حبیب جان پشتوکے پہلے فلم لیلیٰ مجنون جو کہ 1940 میں بنا تھا اُس میں ہیروئن کا کردار ادا کرچکی تھی۔بنوں کے ہمارے ایک اور شاعر منیر احمد شاہ بھی اکثر میرے ساتھ ریڈیو آتاتھا۔ریڈیو میں رفیق شنواری، شیر افگن، عدت حسین، پشواری خان جوکہ اُستاد غلام علی کے والد اور دوسرے کئی اہم شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں ہوتے تھے اور یہ اچھا تعلق تھا۔

نوٹ: ریڈیو پاکستان پشاور کے سابق ڈائریکٹر لائق زادہ لائق نے اپنے کتاب میں لکھا ہے کہ گلنار بیگم 1942میں پیداہوئی، 1956کو ریڈیو پاکستان آئی جبکہ گانوں کے باقاعدہ ریکارڈنگ 1964میں شروع ہوئی۔ غازی سیال کا پہلا کلام گلنار بیگم نے لائیوگایا تھا لیکن اُس وقت ریڈیو کے مرحوم پروڈیوسر نثار محمد خان جو بعد میں سٹیشن ڈائریکٹر ریٹائرڈ ہوئے نے دوبارہ ہدایت اللہ اور گلناربیگم کے آواز میں سنٹر پروڈکشن لاہور میں 70 کے دہائی میں ریکارڈ کیا۔

س: آپ کے زیادہ کلاموں میں بارش کا ذکر بہت زیادہ ہے، اس کی کوئی خاص وجہ؟
ج: شاید یہی وجہ ہے کہ میر ے زندگی کے جذباتی لمحات بارش کے ساتھ جوڑے ہیں اور مجھے بارش بہت زیادہ پسند ہے۔پشتوکے فلم پاگل کے جتنے گانے ہیں اُن ساروں میں بارش کا ذکر ہے۔

س:آپ نے زیادہ پشتو فوک لور اور عشقیہ کلام لکھیں، وجہ؟
ج: بالکل آپ کی بات درست ہے کہ میں نے بہت ہی کم غزلیں لکھی ہے اس کی وجہ شاید میر ا مزاج اور ماحول کا اثر تھا کیونکہ اُس زمانے میں اس قسم کے کلام کا رواج تھا اور لوگ اس کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔جو کچھ بھی لکھا تو ریڈیو نے ریکارڈ کرنے سے کبھی انکار نہیں کیا۔

س: خود چوتھے جماعت پڑھا،لیکن آپ کے تخلیق پشتو اد ب کے ماسٹر کے کورس میں پڑھایا جاتاہے، بہت بڑ اتضاد نہیں؟
ج: میں شاعر نہیں ہو ں لیکن لوگ کہتے ہیں اور جہاں تک میرے تحریر اور تحقیق کے تعلیمی اداروں میں پڑھائی کا تعلق ہے تو شروع ہی سے ایک بات ضرور محسوس کررہاہوں کہ پتہ نہیں اللہ کا کتنا بڑا حسا ن ہے اور محبت ہے کہ مجھے زندگی میں وہ کچھ دیا جس کا میں نے کبھی تصور تک نہیں کیاتھا۔ پندرہ تک کتابیں چھاپ چکے ہیں جن میں تین ناول ہے جس میں ایک ماسٹر کے کورس میں بھی شامل ہے، ایک کتاب گلنار بیگم کے زندگی اور فن پر تحقیق،افسانے، فوک لور اور غزلیں لکھی ہے جبکہ کافی مواد ایسا بھی ہے جو کہ اب تک چھپا نہیں۔

س: غازی سیال صاحب آپ کے فنی زندگی کو دیکھ کریہ انداز ہوتا ہے کہ آپ کا موسیقی کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے؟
ج: بالکل یہ اندازہ ٹھیک ہے اور شروع ہی سے جنون حدتک موسیقی کے ساتھ لگاؤ تھا۔ دلچسپ بات میں آپ کو یہ بتاؤ کہ داد اکے ساتھ عشاء کے نماز باجماعت پڑھنے کے بعد اُن کے سامنے یہ تاثر دیکر سو جاتا کہ میں سو گیا ہو لیکن جب وہ سو جاتا تو خاموشی کے ساتھ نکل کر دور دور موسیقی کے میدانی پروگرا موں میں شرکت کے لئے جاتا اور جب دادا فجر کے نماز کے لئے اُٹھتا تو میں اپنے بستر پر موجود ہوتا تھا۔۔ ہنستے ہوئے۔۔

س: آپ نے فلم کے لئے بھی کافی گانے لکھیں؟
ج: صرف گانے ہی نہیں بلکہ بعض فلم کے مکالمے بھی لکھی۔ یہ شروعات بھی ایک اتفاق تھا کیونکہ میں پشاور میں آیا تھا اورقصہ خوانی میں جارہاہے تھاکہ اچانک پیچھے سے کسی نے ہاتھ پکڑ کرروکا تو دیکھا کہ وہ عبدالعلی خان تھا۔ سلام کلام کے بعد کہنے لگا کہ میں آپ کے پیچھے تو گاؤں گیا تھا لیکن آپ نہیں ملے اور میرا آپ کے ساتھ بہت ہی ضروری کام تھا۔ میں نے پوچھا خیریت تو ہے، اُنہوں نے کہاکہ ہم ایک فلم بنا رہے ہیں “پیغلے “کے نام سے جس میں بنوں ہی کے زاہدہ ہیروئن ہے اور اُس کے لئے تمام گانے لکھے جا چکے ہیں جبکہ دو کو آپ نے ہی کل تک لکھنا ہے۔ انہوں نے سین کے بارے میں معلومات دی اور میں نے کلام لکھ دئیے۔اس کے بعد فلم کے ساتھ یہ سلسلہ شروع ہوا اور پچاس سے زیادہ فلموں کے لئے گانے لکھیں جبکہ چند ایک کے لئے مکالمے بھی تحریر کیں۔

س: سیال صاحب کچھ یاد ہے آپ نے کتنے گانے لکھیں ہونگے؟
ج: انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ تعداد سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے کیونکہ میر ے ایک کتاب جس میں صرف فوک گانے ہی ہے تقریباً تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔

س:شادی کب ہوئی اور بچے کتنے ہیں؟
ج: جوانی میں پابندیوں سے آزاد مزاج کا بندہ تھا میں، جب کبھی کوئی شرارت یا کوئی شکایت گھروں کو موصول ہوتا تو چچا مار پیٹ کرتا تھا، ماں کافی خفاہوتی تھی اور اُن کو یہ کہہ کرمنع کرتا تھاکہ بچہ ہے۔ میں ماں کابہت لاڈالا تھا۔ شادی تقریباً اٹھار ہ سال کے عمر میں ہوئی۔

پانچ بچے ہیں جن میں ایک تو انکم ٹیکس آفیسر ریٹائرڈ ہوچکے جبکہ ایک بنوں میڈیکل کالج میں ملازم ہے، ایک گاؤں میں جنرل سٹور چلاتاہے جبکہ ایک کپڑے کا کا روبار کرتا ہے۔ چھ نواسے ہیں لیکن میں سب کے ساتھ دوست جیسا تعلق رکھتاہوں یہی وجہ ہے کہ مجھے سے کچھ چھپتانہیں۔سب سے چھوٹا بیٹا بہت ہی اچھا شاعر ہے اورا کثر جب کسی مشاعرے میں کلام پیش کردیتا ہے تو دوست اُن کو کہتے کہ یہ توآپ کے والد ہی کے کلام ایک نمونہ ہے۔

س: ادبی خدمات کے ا عتراف میں سرکاری اعززات اور بیرونی ممالک کے دوروں کے بارے میں اگر بتائے؟
ج: مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا لیکن 2005 میں مجھے ادبی خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارگردگی سے نواز گیا اور اسطرح ملک کے طول وعرض میں مختلف ادبی تنظیموں، یونیورسٹیوں اورکالجز کے جانب سے بڑی تعداد میں تعریفی اسناد سے نواز گیا۔چاہنے والوں نے کئی بار خلیجی ممالک کو مد عو کرچکا ہے اس کے علاوہ افغانستان، ہندوستان اور ہالینڈ میں ادبی محفلوں میں شرکت کرچکاہوں۔

س:موجودہ موسیقی اور شاعری کے حوالے سے آپ کا مختصر تبصرہ؟
ج: بس میں یہی کہتاہوں کہ آج کل نہ صرف شاعری کا بلکہ موسیقی کا معیار بھی اتنا گرچکاہے کہ کوئی بندہ اپنے گھروں والوں کے ساتھ اکھٹے بیٹھ کر نہیں سن سکتاہے تو اس سے آگے اس پر کیا بات ہوسکتی ہے۔

س: آخر میں غازی سیال صاحب قارئین کو کوئی پیغام دینے چا ہینگے؟
ج: ایک بات میں کہتاہوں کہ علم وہ بنیادی چیز ہے جس کے بنیاد پر آپ بڑی سے بڑی جنگ با آسانی کے ساتھ جیت سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top