خرلاچی بارڈر،کسٹم حکام کا کروڑوں روپے مال ایکسپورٹ کرنے کا انکشاف

41ecdea2-b44e-428b-b946-9d89c7f84fbe.jpg

پشاور:پاک افغان بارڈر خر لاچی پر جعلی فارم ای کے ذریعے کسٹم حکام کا کروڑوں روپے مال ایکسپورٹ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔کلیئرنگ ایجنٹس نے پریس کانفرس کے دوران وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام تحقیقاتی ادارے اس معاملے کا چھان بین کریں اور اس ملوث افراد کے خلاف کاروائی کریں۔

ان خیالات کا اظہار پشاور پریس کلب میں خر لاچی پر کلیئرنگ ایجنٹ حاجی سبحان اللہ،عدنان،مسلم نور نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خر لاچی پر ایک ماہ قبل تمام فارم ای کسٹم اور بینک سے تصدیق ہونے کے بعد کسٹم حکام نے اپنی غفلت کا مظاہرہ کیا اور اپنی تمام بد عنوانی کو کلیئرنس ایجنٹ کے کھا تے ڈالتے ہوئے ہمارئے اوپر ایف ائی ار درج کردی جبکہ فارم ای کی کسٹم اور بینک کی کلیئرنس کے بعد مال کلیئر کیا جاتا ہے۔

حاجی سبحان اللہ نے کہا کہ اب جب وفاقی حکومت کی جانب سے بارڈر انتظامیہ پر سختی کے بعد افغانستان کے ساتھ تمام بارڈر کے انکوائری شروع کرنے پر کسٹم حکام نے کلیرنگ ٹریڈر ابراہیم سبحانی کی جانب سے جاری کردہ جعلی فارم ای ہمارے کھاتے میں ڈال دیا۔

اس موقع پر کلیئرنگ ایجنٹ ابراہیم سبحانی ٹریڈرز کے متعلقہ شخص عدنان نے بتایا یہ تمام فارم ای ابراہیم سبحانی ٹریڈر کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے جس کے بعد کسٹم حکام کلیئرنگ سے قبل خود اور بینک سے تصدیق کے بعد مال کو کلئیر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب جب کسٹم حکام کے خلاف وفاقی حکومت نے بغیر فارم ای اور دیگر بدعنوانیوں میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا تنگ کیا تو کسٹم حکام نے ایک ماہ بعد تمام ملبہ غریب کلیئرنگ ایجنٹ پر ڈال کر ایف آئی آر کاٹ دیا۔

اس سلسلے میں جب کسٹم حکام کے ساتھ ہم نے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا اپ ان کلیئرنگ ایجنٹ کو ہمارے سامنے پیش کریں تاکہ ہم انکا بیان ریکارڈ کریں ابرہیم سبحانی کا نمائدہ عدنان کو کسٹم حکام کے سامنے پیش کیا تو انہوں ان سے بیان ریکارڈ کرنے سے انکار کردیا۔

حاجی سبحان اللہ  نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام تحقیقاتی ادارے اس معاملے کا چھان بین کریں اور اس ملوث افراد کے خلاف کاروائی کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top