پشاور کیمپس،قرنطینہ سنٹرز میں تبدیل کرنے پر جامعات کے اساتذہ سراپا احتجاج

0.jpg

سیدرسول بیٹنی

پشاور:کیمپس کی چاروں جامعات نے صوبائی حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں میں قرنطینہ سنٹرز قائم کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے کرونا وائرس کی وباء ان جامعات کے طلبہ،اساتذہ اور دوسرے رہائش پزیر لوگوں تک پھیلنے کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ان جامعات نے متفقہ طور پر حکومت سے فیصلے پر نظر ثانی اور آئسولیشن سنڑز آبادی سے دور مضافاتی علاقوں میں قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس حوالے سے ٹیچر کمیونٹی سنٹر میں یونیورسٹی آف پشاور،انجنیئرنگ یونیورسٹی،زرعی یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے اکیڈمک سٹاف ایسوسینشنز،ایڈمنسٹریٹیو سٹاف ایسوسیشنز،کلاس تھری ،کلاس فور اور سینی ٹیشن سٹاف ایسوسی ایشنز کے ھنگامی اجلاس میں حکومتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں حکومتی فیصلے کا جائزہ لیا گیا جس کے مطابق ملک بھر میں پھیلنے والی کورونا وباء کے پیش نظر جامعات کے اندر قرنطینہ سنٹرز قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

اجلاس میں شامل تمام شرکاء نے اس اقدام کو نہ صرف جامعات میں درس وتدریس کے ماحول کے لئے خطرناک قرار دیا بلکہ رہائشی کیمپس ہونے کے ناطے یہ یہاں کے مکینوں کےلئے بھی کسی خطرے سے کم نہیں۔اس اقدام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کسی بھی حوالے سے طلباء ،اساتذہ اور دیگر لوگوں کیلئے موزوں نہیں ہے جس کے بعد یہاں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے میں رکاوٹ ہیدا ہوگی۔

اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قرنطینہ سنٹرز آبادی سے دور شہر کے مضافاتی علاقوں میں قائم کئے جائیں تاکہ اگر کورونا وائرس کے باعث تعلیمی سرگرمیوں میں موجودہ تعطل طوالت اختیار کرتا ہے تو اساتذہ اور طلباء کے مستقبل کو بچانے کےلئے آن لائن کورسسز ،کلاسسز اور امتحانات کے لئے منصوبہ بندی کرسکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top