ثریا خانم سے ماہ جبین قزلباش تک سفر (2020-1958)

IMG-20200304-WA0076.jpg

اسلام گل آفریدی

دوماہ تک موت اور زندگی کے کشمش میں رہنے والی پشتو، اُردو، ہندکو اور فارسی کے فنکارہ اور بلبل سرحد ماہ جبین قزلباش 62 سال کے عمر میں 26فروری کو چل بسی  جن کو پشاور میں دفن کردی گئی۔ عمر کے پچاس سال فن کے دنیا سے وابستہ رہنی والی ماہ جبین قزلباش بھی پشتون خطے کے دوسرے فنکاروں کے طرح عمر کے آخری حصے میں مالی مسائل کی شکار تھی جبکہ اُن کے کمائی کی واحد ذریعہ اُن کے بیٹے شاہد خان اورکزئی کے یوٹیلٹی سٹور میں نوکری ہی تھی۔

ماہ جبین کو 2015 میں دل کی تکلیف شروع ہوئی جبکہ 29دسمبر 2019 کو تیسر ی بار دل کی شدید حملے کی وجہ بیہوشی کے حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں پر اُن کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کردیا گیا ہے۔

 خاندان کا ایران پشاور تک سفر

ماہ جبین قزلباش کے آباء واجداد ایران کے شہر مشت سے کندھار کے راستے پشاور منتقل ہوگئے جہاں پر اُنہوں نے مستقل سکونت اختیار کرلیا اور دادا نے تیسری شادی بھی بہادر کلی کے خاتون سے کرلی۔ اُن کے والدین امداد علی قزلباش اور ماں کی پیدائشی شہر پشاور ہی میں ہوا تھا۔

ماہ جبین 1958 کو پید اہوئی اور والدین نے ثریا خانم نام رکھا جبکہ موسیقی کے اساتذہ نے اُن کا نام ماہ جبین قزلباش رکھا۔ ابتدائی تعلیم اندر شہر بازار کے سامنے فاروڈ سکول سے شروع کیں۔اُس زمانے میں سکول کا پرنسپل شفیع صابر تھے۔ نویں جماعت میں اُن کی شادی حکیم اللہ خان اورکزئی (ایمل خان) سے ہوئی۔ماہ جبین کے ایک بہن شاہین قزلباش جو اُن سے عمر میں ڈیڑھ سال چھو ٹی ہے جبکہ تین بھائی شہزاد قزلباش (مرحوم)،مراد علی قزلباش اورحسن علی قزلباش ہیں، جبکہ اولاد میں اُن کے دو بیٹے شاہد اورکزئی،عامر اورکزئی اور ایک بیٹی ہما اورکزئی شامل ہیں۔

فن کے ابتداء

ماہ جبین سکول میں ہر ماہ منعقد کردہ پروگرام میں ملکہ ترنم نورجہان کے گائے ہوئے غزلیں گاتی تھی۔ایک مسیحی اُستانی مس حامس ہمیشہ اُن کو کہتی تھی آپ کی آواز بہت ہی سریلی ہے آپ ضرور ریڈیو یا ٹی وی جاکر باقاعدہ گائیگی شروع کریں۔چھٹی جماعت کے دوسری لڑکیوں کے ساتھ ماہ جبین نے پہلی بار ریڈیو پاکستان آئی اور پشتو زبان میں ایک ملی نغمہ ریکارڈ کیا۔اُس وقت موسیقی کا بہت بڑا نام اور موسیقی کار رفیق شینواری بھی موجود تھا۔ جب اُنہوں نے ماہ جبین کی آواز سنا تو اُن کو کہا کہ آپ کی آواز بہتر سریلی آپ ضرور ریڈیو میں اڈیشن دیں۔

گھر میں بھی ماہ جبین گونگناتی اور والدین کے طرف سے اُن پر کوئی پابندی نہیں تھی اور وجہ سے اُنہو ں نے ایک دن والد کو بتایا کہ گانا کرنے کے ساتھ اُن کا بہت شوق ہے اگر آپ کی اجازت دیں تو میں ریڈیو میں اڈیشن دینا چاہتا ہوں۔ والد کے پرورش سردار احسان علی قزلباش جیسے فن کے دلدادا کے گھر ہوئی تھی جس کے وجہ سے ماہ جبین کو والد نے نہ صرف اجازت دیا بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ اگر آپ گائیگی کے شعبے میں نام کمانا چاہتے ہو تو آپ ضرور محنت کرکے جائیں۔

پروڈیوسرز نواب علی خان اور نثار محمد خان، میوزک ڈائریکٹر حبیب اللہ خان اور موسیقی کار رفیق شینواری کے موجودگی میں اڈیشن کا عمل مکمل ہوا۔ماہ جبین نے موسیقی کے بنیادی تعلیم نثار قادری سے حاصل کیا جبکہ بعد میں موسیقی کے بڑے گھرانے غلام علی،نجیف علی اور اُن کے چچا اُستاد عنایت علی کے ساتھ شاگردی کیں۔ ریڈیو میں پہلی گانا “سپنی سپوگمی وائی آشنا بہ چرتہ وینہ  “ریکارڈ کیا جو اُن کے لئے موسیقی کے دنیا میں سنگ میل ثابت ہوئی اور ماہ جبین کو پی ٹی وی سے باقاعدہ دعوت نامہ موصول ہوا اور یہی کلام وہاں پر وڈیو میں ریکارڈ کرلی۔

موسیقی کے ساتھ اتنا گہرا لگاؤ تھا کہ اُنہوں نے ہارمونیم جیسے مشکل آلہ کو بھی اُنہوں نے سیکھا تھا۔گائیگی کے علاوہ اُنہوں نے فلم میں بھی کام کیا جس کو اُنہوں نے مصروفیات کے بناء پر 1982 کو خیر آباد کہہ دیا۔

ماہ جبین اورخیال محمد جیسے کئی فنکاروں نے پشتو کو نئے روح پھونکی جس میں اُس وقت کے موسیقی کے بڑے ناموں جن میں رفیق شینواری، جاوید اختر،غلام علی،بختیار اور تاج محمد جبکہ ریڈیو پاکستان پشاور مرکز میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جس بھی اپنے حصے کے بہت بڑا کام کیا جن میں نواب علی یوسفزئی، نثار محمد خان، ارباب عبدالودود اور قاضی حبیب اللہ شامل ہے۔

ماہ جبین ملکہ اُردو میں ملکہ ترنم نورجہان، لتا منگیشکر اور رفیع جبکہ پشتو  میں گلناربیگم،کشور سلطان، خیال محمد، ناشناس اور احمدخان کو سنتے تھے۔1977میں ملکہ ترنم نورجہان کے ساتھ اُن پہلی ملاقات لاہور میں اُن کی سٹوڈیو میں ہوتا تھا۔ اُن کو بہترین حدمات پر سول ایوارڈ بھی دیا گیا تھا جبکہ اپنے والدین اور شوہر کے مدد سے اُنہوں موسیقی میں بہت بڑی کامیابی حاصل کیں۔نئے فنکاروں میں وہ نازیہ اقبال سے کافی متاثر تھی جبکہ مختلف تقریبات میں وہ غیر موسیقی اور شاعری پر کھڑی تنقید کرتی رہی جس کے وجہ سے موسیقی کے کئے بڑے نام اُن کے سامنے بات کرنے سے کراتے تھے۔

حیال محمد نے ماہ جیبن کا نام خندانے یعنی ہنستا ہوا چہرہ رکھا تھا۔ اُن کو بہترین آواز پر بلبل سرحد کا خطاب بھی دیاگیا۔ مشہور گانوں میں سپنی سپموگی وائی آشنا پر چرتہ وانیہ، اوبہ دی وڑینہ وغیرہ آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہے۔

ازدواجی زندگی 

ماہ جبین نے پشتو کے رومانوی کہانی شیر عالم اور میمونہ کے فلم میں تو بحیثیت ہیروئن کام کرنے کا فیصلہ کرلیا فلم تو بن گئی لیکن اس بنیاد پر اُن کو جیون ساتھی بھی ملا اور اسطرح چو دھا سال کے عمر میں وہ نویں جماعت میں زیر تعلیم تھی اُن کی شادی حکیم اللہ اورکزئی کے ساتھ ہوئی۔

اخبار میں ایک اشتہار چھپا تھا جس میں پشتو فلم شیر عالم و میمونہ کے لئے خوبصورت اور نئے چہر ے کی ضرورت تھی۔ ماجبین کے ایک چچا علی بابا گل اُس زمانے میں پی ٹی وی کیمرہ مین کے حیثیت سے کام رہا تھا اور شوبز کے ساتھ اُن کا کافی لگاؤ تھا۔ اُنہوں اپنے بھتیجی کو مشورہ دیا کہ فلم کے دفتر جاتے ہیں اگر لوگ اچھے نکلے تو بات کرلینگے ورنہ واپس آجائینگے۔ جب دونوں وہاں گئے تو فلم کےڈائریکٹر کے ساتھ بات بن گئی اور اُس فلم میں حکیم اللہ خان اورکزئی ہیرو تھے۔

سوات کے علاقے میاندم میں ریکارڈنگ کے سلسلے میں ماہ جبین اپنے بھائی اور ماں کے ساتھ گئی تھی۔ دن کو شوٹنگ ہوئی اور زیادہ سردی کی وجہ سے کمرے میں آگ جلائی جس کے وجہ سے رات دو بجے پورا کمرہ آگ کےلپیٹ میں تھا۔ دوسرے کمرے میں حکیم اللہ اورکزئی تھے اور جیسے ہی اُن کو پتہ چلاتو دوڑتے ہوئے ماہ جبین کو آگ کے شعلوں سے کمبل میںلپیٹ کر نکالی۔ اس واقعے کے بعد اُنہوں نے ماہ جبین کے ماں سے اُن کے رشتہ دینے کا کہا۔ حکیم اللہ نے اپنے ماں کو اُ ن کے گھر بھیج دیا اور اسطرح یہ راشتہ ہوا۔

حکیم اللہ خان اورکزئی بڑے نامی گرامی خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور پشاور کے ر یگی للمہ کے علاوہ کئی مقامات پر بڑ ے جائیداد کے مالک تھے۔حکیم اللہ خان پشتو کے تقریبا دس فلموں میں بحیثیت ہیرو کام کیا اور فلمی نام ایمل خان ہونے کی وجہ لوگ اُن کو اس نام سے جانتے تھے۔ ایمل خان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

ماہ جبین قزلباش کو دل کی عارضہ جان لیوا ثابت ہوئی

ماہ جبین قزلباش کو 2015 میں دل کا پہلا دورہ پڑا تھا جبکہ بعد میں مشہور ماہر امرض قلب ڈاکٹر عدنان گل سے انجوگرافی کرانے کے بعد اُن کو سٹیڈ یا والز لگائے گئے تھے، 29 دسمبر کو اُنہوں نے معمول کے چیک آپ کے لئے شام کو اپنے ڈاکٹر سے وقت لیا تھا لیکن سہ پہر کو ہیاُنھیں دل میں شدید درد محسوس ہونا شروع ہوئی اور چند ہی منٹ بعد وہ بہوشی کے حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کردیا جہاں پر اُن کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل کردیا گیا ہے۔

خاندان اور شوبز کے دنیا سے وابستہ افراد کے بار بار مطالبات پر 6 جنوری کو صوبائی حکومت کے نمائندوں نے ہسپتال میں اُن کے خیریت دریافت کرنے کے لئے گئے تھے اور پانچ لاکھ روپے دینے کا بھی وعدہ کیا تھا جو کافی دن گزر جانے کے بعد جاری نہ ہوسکا۔تقریبا دو ماہ کے شدید تکلیف کے بعد ماہ جبین قزلباش 26 فروری کو 62 سال کے عمر میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں انتقال کرگئی جن کو پشاور ہی میں 27 فروری کو سپرد خاک کردی گئیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top