معاشرے میں صنفی بنیاد پر تشدد کی کوئی گنجائش نہیں،رخشندہ ناز

88118860_2768385686570392_4550364536959401984_o.jpg

سیدرسول بیٹنی

پشاور : خیبر پختونخوا کے صوبائی محتسب برائے انسداد حراسیت رخشندہ ناز کہا ہے کہ وراثت یا جائیداد سے محروم خواتین صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسیت کے سیکرٹریٹ کے تعاون سے حاصل کرسکتے ہیں،کوئی بھی خاتون جو سمجھتی ہو کہ والدین یا دوسرے رشتہ داروں نے اُنکو اپنے جائز وراثتی حق سے محروم کیا ہے تو وہ ایک سادہ کاغذ پر درخواست  دے کر ہمارے دفتر کے ساتھ رابطہ کرسکتی ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار جامعہ پشاور میں سماجی ادارہ ”روزن”  اور شعبہ سوشل ورک کی جانب سے “صنفی تشدد” کے خاتمے کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمنار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیمنار میں شعبہ سوشل ورک کے اسٹنٹ پروفیسر اور سیمنار کے آرگنائزر ڈاکٹر محمد ابرار ،شعبہ اسلامیات کے اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم ،فنڈ رائزنگ کے ڈائریکٹر گلالئی،پیوٹا کے نائب صدر (خواتین)پروفیسر ڈاکٹر کنیز فاطمہ نے مہمان خصوصی تھے اس کے علاوہ کثیر تعداد میں طلباء و طالبات اور کمیونٹی کے خواتین نے شرکت کی۔

صوبائی محتسب نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والی ہراسمنٹ کا شکار خواتین بلا خوف اپنے مسائل صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کے ذریعے حل کرسکتے ہیں،سیکرٹریٹ کو رپورٹ کرنے والی متاثرہ خاتون یا مرد کا صغیہ راز میں رکھا جائے گا تاکہ اُسے معاشرے میں رُسوائی کا ڈر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی نوکر پیشہ خواتین نے اپنی مسائل کو رپورٹ کرنا شروع کردیا ہے،جن کو اپنے اپنے شعبوں میں کام کرنے والے بااثر مردوں کی طرف سے جنسی حراسیت کا سامنا رہا ہے۔

خاتون صوبائی محتسب نے سیمنار میں شریک نوجوان طلباء وطالبات پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے کمیونٹیز میں اس حوالے سے عام خواتین میں شعور اُجاگر کریں تاکہ خواتین بلا خوف اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور مسائل  کے بارے میں صوبائی محتسب سیکرٹریٹ کو آگاہ کرسکیں۔

پروفیسر ڈاکٹر کنیز فاطمہ نے خواتین کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت لڑکیوں کی افزائش اور ترقی کیلئے مطلوبہ وسائل مل جل کر فراہم کرنے ہونگے تاکہ وہ تعلیم ،تربیت،فنی ترقی اور خود اعتمادی سے متعلقہ مہارتیں باآسانی حاصل کرسکیں اور ایک بہتر زندگی گزارسکیں۔

پشاور یونیورسٹی کے فنڈ رائزنگ کے ڈائریکٹر گلالئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے حکومت ایسے مربوط اور دورس اقدامات اٹھائے جائیں جس سے بچے اور بچیاں بلا تفریق تشدد سے پاک معاشرے میں پروان چڑھ سکیں اور تمام مواقع سے یکساں مستفید ہوسکیں۔

سمینار میں کم عمری کی شادی کے موضوع ہر ایک تھیٹر بھی پیش کیا گیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top