افغانستان کا مستقبل:امن معاہدے کے بعد بین الافغانی مزاکرات آسان یا مشکل ؟

Main.jpg

اسلام گل آفریدی

پشاور: 29 فروری افغانستان کے تاریخ میں انتہائی اہم دن تھا کیونکہ ایک طرف ملک  میں 19 سال کے خونریز لڑائی میں بڑی جانی اور مالی نقصان ہونے کے بعد قطر کے درالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبا ن کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے جبکہ دوسری جانب کابل ہی میں ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں امریکہ اور نٹیو کے اتحادی ممالک نے مستقبل میں منتخب حکومت کے سیکورٹی اور ترقیاقی منصوبوں میں اپنے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

پچھلے 40 برس میں یہ دوسری بار ہے کہ افغان حکومت اور  طالبان جنگجوؤں ملک میں پائیدار امن کے قیام کے مشکل اور خدشات سے بھرپور حالات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک اُمید کے سفر سے گزررہے ہیں۔

کابل میں افغان صحافی انیس الرحمٰن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبا ن کے درمیان امن معاہدے سے افغان عوام کافی خوش اور پر اُمید دکھائی دی رہا ہے کیونکہ ملک میں سب بڑ امسئلہ امن وامان ہی کا ہے۔اُن کے بقول یہ پورا عمل افغان عوام کے لئے انتہائی ہم ہے کیونکہ جنگ کے اصل حریف امریکہ اور طالبان تھے جن کی قیادت باہر سے جنگ کو کنٹرول کرتے رہے جبکہ جانی اور مالی نقصان افغان عوام ہی کو اُٹھانا پڑ تا تھا۔

انیس الرحمٰن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں قیام امن کے لئے دوسرا اہم مرحلہ بین الافغانی مزاکرات ہیں جن میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان موجود مختلف مسائل پر اختلافات کو دورکرنا ہوگا جو کہ معاہدے کے رو سے رواں ماہ یعنی مارچ کے12 تاریخ سے شروع ہوجائین گے۔

بین الافغانی مزاکرات کے کامیابی کے حوالے سے افغان عوام، سیاسی قیادت اور خصوصاً خواتین کے کافی خدشات موجود ہے لیکن انیس الرحمٰن کا نقطہ نظر بالکل مختلف ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ سب سے مشکل کام امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ تھا جو کہ 2 سال مسلسل کوششوں  کے بعد کامیابی تک پہنچا ہے۔اُنہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ بین الافغانی مزاکرات میں بڑے مسائل حائل ہونگے۔

امریکہ اور طالبان امن معاہدے تک پہنچنے میں اہم عنصر دونوں جانب سے اپنے مستقبل میں سخت شرط سے پیچھے ہٹنا تھا جن میں امریکہ کے طاقت کے بجائے بات چیت اور طالبان کے جانب سے امریکی افواج کے یکدم مکمل انخلاء کے بجائے مرحلہ وار ہونے پر تیاری اہم نقظہ ہے۔

ناصر خان شیرزئی افغان صحافی ہے۔بین الافغانی مزاکرات کے حوالے اُن کا نقظہ نظر انیس الرحمٰن سے مختلف ہے اوراُن  کا کہنا ہے ملک میں مستقل قیام امن کے حوالے اُمیدوں کے ساتھ افغان عوام کے حدشات بھی موجود ہیں کہ کہی ایسا نہ ہوں کہ ماضی کاتجربہ ایک دفعہ پھر  دوہرایا جائے جس میں اتحادی ممالک ہاتھ کھینچ لے اور ملک اندرونی خانہ جنگی کے طرف چلا جائے۔

اُن کا اشارہ طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے پر افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ اظہار خیال کی طرف تھا جس میں اُنہوں نے خصوصاً پانچ ہزار قیدوں کے رہائی ایک مشکل عمل قرار دیا اور کہا کہ یہ افغان حکومت کے اختیار میں ہیں۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان  2 سالوں جاری مزاکرات عمل میں اعتمادی سازی کا اہم کرادر رہا او ر دونو ں جانب سے سنجیدگی کے مظاہر ے کے بناء پر مثبت اثرات سامنے آئے جن میں انتہائی اہم اقدامات حقانی نیٹ ورک کے بانی محروم سراج الدین حقانی کے بیٹے انیس حقانی کے بدلے کابل میں امریکن یونیورسٹی کے دو اساتذہ جن میں ایک  امریکن اور ایک آسٹریلین کے رہائی عمل میں لائی گئی اور 29 فروری سے پہلے ایک ہفتہ افغانستا ن میں دونوں جانب تشدد کے واقعات میں کمی اسکی  واضح مثالیں ہیں۔

انیس الرحمٰن کا کہنا ہے کہ بین الافغانی مزاکرات کے حوالے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ قطر میں طالبا ن کے سیاسی دفتر کے بیانات پہلے کے نسبت اب کافی تبدیل ہو چکے ہیں  جن میں خواتین کے حقوق کے لئے نرم پالیسی اورملک میں سیاسی نظام کی مضبوطی   کے خواہش ظاہر کرچکے ہیں جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان  نے اب اپنے مؤقف میں لچک دکھایا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ  1996 میں طالبان کے دور حکومت میں سخت پالیسوں کے بدولت اندورن اوربیرون سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جس کے وجہ سے امریکہ کے سربراہی میں اتحادی افواج نے 9/11کے بعد باسانی کے ساتھ اُن کے حکومت کاخاتمہ کردیا۔
بین الافغانی مزاکرات میں طالبان کے جانب سے افغان حکومت کے ساتھ ملک موجودہ آئین میں بعض نکات اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے بات چیت کا مرکز رہیگا۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت میں اس تاثر کو رد کردیا کہ افغان طالبان ملک میں خواتین کے بنیادی حقوق جن میں تعلیم اورگھر سے باہر کام یا نوکری کے خلاف ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ  مخالفین کے جانب سے اس کو بے بنیاد پروپیگنڈے کے طور استعمال کرتا ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اسلامی ملک ہونے کے ناطے ہمارے کچھ ذمہ داریاں ہے جن میں خواتین کا پردہ لازمی ہے۔

ناصر خان شیر زئی کے بقول افغان طالبان کے پانچ ہزار قیدوں میں اکثریت کابل کے قریب پولی چرخی جیل میں ہیں جبکہ بہت کم تعداد ملک دیگر جیلوں میں موجود ہے جبکہ افغان سیکورٹی فورسز اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے ایک ہزار تک قیدی طالبان کے پاس موجود ہے لیکن دونوں جانب مختلف وجوہات کے بناء پر قیدیوں کے موت واقع ہوچکے ہیں جس کے وجہ سے مستقبل میں قیدیوں کے تبادلے میں ایک بڑا مسئلہ سامنے آئے گا۔

امن معاہدے میں تعاون پر طالبان اور امریکہ کے قیادت نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا شکریہ ادا کیا لیکن ناصرخان کا کہنا ہے کہ افغان امن کے ساتھ خطے کے ترقی جوڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے ماضی کے نسبت اب افغان عوام کے سوچ میں کافی تبدیلی آچکی ہے جس کا آنے والے وقت میں بہترنتائج سامنے آئینگے۔

انیس الرحمٰن کا کہنا ہے افغانستا ن میں مستقل قیام امن، بیرونی مداخلت کے روک تھام اور ملک کے ترقی میں ہمسایہ اور اتحادی ممالک کا کرادر انتہائی اہم ہے جبکہ افغا ن طالبان اور افغان حکومت پر  پہلے سے کافی بھاری ذمہ دری عائد ہوتی ہے۔

دونوں فریقین کو مزاکرات کے میز پر لانے ،امن کے کوششیں اور معاہدے تک پہنچانے میں پاکستان کا کرادر انتہائی اہم رہا اور بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے ا س پوری عمل میں ہندوستان کو دور رکھنے شرط پر اسلام آباد نے سنجیدگی کے ساتھ کام کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top