فاٹا انضمام:رواں مالی سال میں اب تک قبائلی علاقوں میں صرف 2 ارب روپے خرچ

Khyber_Pass-e1582723829123.jpg

اسلام گل آفریدی

پشاور:پاکستان کے اکہتر سالہ تاریخ میں قبائلی علاقوں کو قومی دھارے اور ملک کے دوسرے حصوں کے برابر لانے کے لئے مئی 2018 میں پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے سات ایجنسیز اور چھ ایف آر علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے ساتھ ہی قبائلی علاقوں کو ملک کے تمام قوانین کے توسیع کا حق دیا گیا۔

سب سے زیادہ اہم مسئلہ اس پوری خطے کے دہائیوں کے محرومی اور 9/11 کے بعد دہشت گردی کے شدید لہر نے قبائلی علاقے کے لوگوں زندگی کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کردی جس کے بحالی اور تعمیر نو کے لئے بھاری رقم کی ضرورت تھی۔ اس بنیاد پر انضمام میں سابقہ فاٹا کیلئے این ایف سی ایواڈ یا قومی مالیاتی ایوراڈسے دس کے لئے سالانہ تین فیصد جو کہ 110 ارب روپے بنتے ہیں پرخرچہ کیا جائیگا جبکہ صوبے کے مجموعی بجٹ میں سے بھی قبائلی اضلاع کو مناسب حصہ دیا جائیگا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے سالانہ بجٹ برائے سال 20-2019 کا مجموعی حجم 900 ارب تھا جن میں قبائلی اضلاع کا حصہ 162 ارب بتایا گیا ہے کہ لیکن ان میں صرف 11 ارب روپے صوبائی حکومت جبکہ باقی ماندہ این ایف سی ایورڈ سے حاصل کرنے کے لئے حد ف مقرر کردیا ہے۔انضما م کے بعد قبائلی اضلاع کے نظام چلانے کے لئے دو بڑے مسائل جن میں پہلا انتظامی اور دوسرا مالی ہے، جن کے وجہ سے حکمر ان جماعت پاکستان تحریک انصاف کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ پہلے سے ملک اقتصادی مسائل کا شکا ر ہے جن سے نکلنے کے لئے کوششیں جاری ہے لیکن یہ سفر آسان نہیں۔

سنٹر فار گورنس اینڈ پبلک اینڈ اکونٹی بلیٹی ایک نجی ادارہ ہے جو کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحاتی عمل پر کام کررہی ہے۔ ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد نواز نے کہا کہ قبائلی علاقو ں کے آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے ساتھ ان علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر ترقیاتی منصوبے کے لئے فنڈ مہیاکرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

مئی 2018 میں انضما م کا عمل مکمل ہونے کو تقریبا دوسال مکمل ہونے کے کو ہے لیکن باجوڑ سے جنوبی وزیر ستان تک کوئی حکومت نے کوئی ایسا منصوبہ شروع نہیں کیا کہ جس سے لوگوں کے معیاری زندگی پر کوئی مثبت اثر ہو۔سال18-2017 کے ترقیاتی بجٹ 12ارب روپے خرچ کیں گئے جبکہ مالی سال 20-2019 میں قبائلی علاقوں کے لئے 161ارب روپے خرچ کے لئے صوبائی بجٹ اور این ایف سی ایورڈ سے حاصل ہونے والے رقم کو شامل کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہ رواں مالی سال کا آدھا حصہ گزر گیا ہے اور اب تک صرف 2 ارب روپے قبائلی علاقوں میں خرچ کیں جاچکے ہیں جوکہ بہت کم اور افسوسناک صورتحال ہے۔

پہلے کے نسبت ضم اضلاع کے سالانہ بجٹ میں کافی اضافہ کردیا ہے لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے کیونکہ قبائلی علاقوں میں جاری اور نئے منصوبوں کے لئے فنڈ کے عدم دستیابی کے بناء مقامی ٹھیکیداروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت اس سلسلے میں جلد اقدامات نہیں اُٹھاتے تو وہ مجبوراً پوری علاقے میں کام بند کردینگے۔

ضلع خیبر کے کنٹریکٹر ایسویشن کے صدر حاجی بادشاہ خان آفرید ی نے بتایا کہ این ایف اسی ایورڈ میں سو ارب سے زیادہ فنڈ مہیاکرنے کا جو وعدہ کیاگیاتھا اُس سے مقامی آبادی کو یہی اُمید تھی کے کئی دہائیوں پر مشتمل محرومی کو دورکیا جائیگا لیکن بدقسمتی سے صورت ا نتہائی خراب ہے اور انضمام سے پہلے ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈ کم تھا لیکن ایک باقاعدہ نظام موجود ہے جس کے تحت جاری منصوبوں کو مکمل کیاجاتاتھا۔

چھٹی مردم شماری کے مطابق قبائلی علاقوں کے آبادی پچاس لاکھ بتایاگیا ہے لیکن مقامی آبادی کے جانب سے اس اعداد شمارمسترد کیا جارہاہے کیونکہ پانچویں مردم شماری جو کہ 1998میں ہوئی تھی اُس کے مطابق ان علاقوں کے آبادی تقریبا 32لاکھ تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے گھر افراد حوالے جو معلومات حکومتی اداروں نے جمع کیا ہے اُس کے تحت ان علاقوں کے آبادی ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔

آبادی کے اصل اعداد شمار نہ ہونے کے وجہ سے بعض علاقوں کے وجود، قومی اور صوبائی نشستوں سے ہاتھ دوبیٹھنے کا خطرہ موجود ہے جوکہ پچیسویں آئینی ترمیم کے منظوری کے بعد ساتویں مردم شماری تک ٹل جائیگا۔قبائلی اضلاع کوسال 17-2016 میں تقریبا 20ارب اور 18-2017 میں 24 ارب روپے مختص کردئیے تھے لیکن بمشکل ان علاقوں میں پوری بجٹ کا آدھا حصہ خرچہ کردیا گیا ہے۔

بادشاہ خان آفریدی کے مطابق جب فاٹا سیکرٹریٹ قبائلی امور کے ذمہ دار ادارے کے طورپر کام کررہا تھا کو اُس وقت کسی بھی ترقیاقی منصوبے کے ٹینڈر نہیں ہوتا تھا جب تک پوی منصوبے پچاس فیصد بجٹ پہلے سے موجود نہیں ہوتا تھا لیکن اب تو ٹینڈرکرکے کام بھی شروع کیاجاتا ہے لیکن مہینوں تک فنڈ ملنے کے کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس کے وجہ سے یہ اندیشہ موجود ہے کہ بہت سے منصوبوں پر کام بندکرکے ٹھیکیدار اس کو ادھورہ چھوڑ دیں۔

قبائلی علاقوں کو این ایف سی ایوراڈ سے ملنے والے حصے کے بارے میں محمد انور نے کہا کہ وفاق کا موقف رہا ہے کہ جب تک آٹھویں ایوارڈ کے تقسیم کا فیصلہ نہیں ہوتا تب تک قبائلی اضلاع کو اپنا حصہ گرانڈکے صورت میں مہیاکیاجائیگا۔اُن کے بقول اس میں دو اہم مسائل زیر غور طلب ہے کہ وفاق سے قبائلی اضلاع کے کتنا فنڈ آتا ہے اور کیسے خرچ ہوتا ہے۔اُنہوں نے واضح کردیا کہ ترقی فنڈ کے استعمال کے حوالے سے ماضی میں قبائلی علاقوں میں سرکاری اداروں کے حوالے سے کافی شکاتیں موجود تھے جن میں متعلقہ ادارے جان بوجھ کر منصوبوں کے بروقت تکمیل روکاٹیں پیداکرتے تھے اور فنڈ مہیاکرانے کے عمل کو سست بنانا شامل ہے۔

انضمام سے پہلے ترقیاتی فنڈ کے پہلے سہ ماہی قسط آگست، دوسرا نومبر،تیسرافروری،چوتھی اور آخری مئی میں جاری کیا جاتاتھا لیکن روا ں سال جاری ترقیاتی فنڈ جاری کرنے کے حوالے سے حاجی بادشاہ خان آفریدی نے کہاکہ اگست والا تو نومبر میں جاری کردیا گیا لیکن مقرر کردہ حد سے کافی کم تھا جبکہ دوسری قسط جوکہ نومبر میں جاری ہونا تھاکافی طول پکڑا اور کافی کوششو ں کے بعد صوبائی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ رواں ماہ فروری کے اوئل میں پانچ ارب جاری کردیا جائیگا۔

حکومت نے ضم اضلاع میں ہنگامی بنیادو ں پر ترقیاتی منصوبے شروع کرانے تو کہا تھا لیکن موجودہ وقت میں ایسا معلوم ہورہاہے کہ اس حوالے کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں کیونکہ جولائی 2019 میں صوبائی انتخابات کے لئے جاری انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم عمران نے تمام قبائلی اضلاع کے درے کیں لیکن اُنہوں نے ایک بھی بڑے منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان بھی وقتافوقتا مزکورہ اضلاع کے دورے کررہے لیکن علاقے کے عوا م کے لئے اُن کے پاس بھی کوئی حوصلہ افزا بات نہیں۔

اصل امتحان خیبر پختونخوا حکومت کو این ایف سی ایورڈ میں قبائلی اضلاع کے لئے تین فیصد حصے کا حصول ہے۔ پاکستان تحریک انصاف صوبہ پختونخوا اور مرکزمیں حکمران، بلوچستان اور پنجاب میں اتحادی ہیں لیکن اس کے باجود بھی یہ عمل سادہ اور آسان نہیں ہیں۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے قبائلی اضلاع اجمل وزیر کاکہناہے کہ انضما م ایک بڑا فیصلہ تھا جوکہ حکومت نے کرلیا لیکن وہاں پر تمام سرکاری ادارو ں کے آسر نو تشکیل بھی بہت بڑ ا مشکل مرحلہ ہے جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔

این ایف سی ایوراڈ میں قبائلی اضلاع کے تین فیصد کے حصول میں حائل روکاٹوں کا اعترف کرتے ہوئے کہاکہ تمام صوبوں کو اعتماد لینے کی کوششیں جاری ہے لیکن سند ھ اور بلوچستان کا موقف ہے کہ وسائل کے تقسیم ایواڈ کے پہلے سے طے شدہ فارمولے کے بنیاد پر کرایا جائے۔اُنہوں نے کہاکہ تین فیصد قبائلی اضلاع کو دینے لئے ہرممکن کوشش کیا جارہاہے تاکہ ان علاقوں کے محرومی کو دور کیا جاسکے۔

بادشاہ خان آفریدی کے بقول مناسب منصوبہ بندی کے عدم موجودگی کا مسئلہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں اور فنڈ کے فراہم کے لئے پچھلے سات دہائیوں سے چلا آرہا ہے جس کے مزکورہ علاقے نہ صرف آئینی اور قانونی طورپر پیچھے رہ چکے ہیں لیکن وہاں پر زندگی کے بنیادی سہولیات بھی انتہائی محدود پیمانے پر موجود ہے جس کے وجہ سے لوگوں میں احساس محرومی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔اُنہوں نے کہاکہ انضمام سے پہلے سال 18-2017 کے مالی سال میں قبائلی علاقوں کے24ارب روپے مختص کردئیے گئے جن بمشکل بارہ ارب خرچ ہوئے اور باقی خزانے میں واپس چلے گئے جوکہ انتہائی قابل افسوس اقدم ہے۔

این ایف سی ایوارڈ چار قسم کے ٹیکسزجن میں انکم، ویلتھ،کیپٹل گن اور کسٹم ڈیوٹیزپرمشتمل ہوتاہے جس کی تقسیم آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد صوبوں کے باہمی اتفاق کے بنیاد پر ہوتاہے۔ نئے یا نویں این ایف سی ایوارڈ کے لیے ہونیوالے پہلے اجلاس میں سندھ کی جانب سے ان ٹیکسز کو صوبوں کو دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جوکہ قیام پاکستان کے وقت بھی صوبوں کے اختیا رمیں تھا۔

ملک لمبے عرصے سے قانون کی حکمرانی نہ ہونے اور جمہوری نظام کو کئی بار غیر آئینی طریقے سے پٹڑی سے ہٹائے جانے کی وجہ سے ملک شدید سیاسی اور مالی بحران کا شکار ہوچکا ہے جس سے نکلنے کے لئے کسی معجزے کا انتظار ہے۔ وفاق کا مجموعی بجٹ 52کھرب روپے ہے جب کہ وفاقی سرکار کی آمدن 30کھرب ہے اور22کھرب روپے کا خسارہ ہے۔ اس 30 کھرب میں سے 14کھرب دفاع اور دفاعی پینشن پر خرچ کیا جاتا ہے اور 16کھرب قرضے اتارنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ یعنی موجود 30 کھرب تو قرضے اتارنے اور دفاع پر خرچ ہوجاتے ہیں باقی تمام محکمے قرضے پر چلتے ہیں۔

2009میں پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں ساتواں این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم ہوا تھا تاہم صوبوں کے مختلف مطالبات، حدشات اور اختلافات کے بناء پر آٹھوایں بار تقسیم پرانے فارموالے کے بنیاد پر جاری رکھنے کا فیصلہ تو ہوا لیکن نوایں ایوارڈ کے تقسیم میں قبائلی اضلاع تین فیصد حصہ دینے کی وجہ سے پہلے کے نسبت پیچیدگیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

این ایف سی ایورڈ ہے کیا؟
وفاق اورصوبوں کے درمیان مالیاتی وسائل کے تقسیم کا نفاذ برطانیوی دور حکومت میں 1936کو نائمیر ایوارڈ کے نام سے شروع ہوا جو کہ بعد میں تبدیل کرکے نیشنل فنانس کمیشن رکھاگیا ہے۔ کارپوریٹ ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایکسپورٹ ڈیوٹیز کے مد میں مخصلات اس ایورڈ کا اہم حصہ ہے۔مالیاتی وسائل میں 42.4فیصد وفاق جبکہ 57.5 فیصد صوبوں کو دیاجاتاہے۔

آئین کے آرٹیکل 160(ون) کے تحت ہر پانچ سال این ایف سی ایورڈ کی تو تقسیم کیا جائیگا جن میں وفاقی اور صوبائی وزارء کے رائے قانونی حیثیت رکھتاہے اور اتفاق رائے پیداہونے کے بعد تقسیم کا عمل مکمل کیاجائیگا۔2010سے پہلے تک این ایف سی ایورڈ کی تقسیم آبادی کے بنیاد پر ہوتا رہاجس کی وجہ سے زیادہ حصہ پنجاب جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان ہمیشہ کم حصہ ملنے کی شکایت رہتا ہے۔جس کے وجہ سے تقسیم کا طریقہ کار تبدیل کرکے کثیر الاشارے فارمولے کے تحت تقسیم کا فیصلہ ہوا جن میں 5فیصد ریونیوں جمع کرنے، 10.3فیصد عربت پر،2.7آبادی کے دباؤکم کرنے جبکہ82فیصد آبادی کے بنیادی پر تقسیم کیا جاتاہے۔

2010میں صوبوں کے اتفاق رائے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تقسیم کا نفاذ ہوا تو پنجاب کا حصہ 5.62 فیصد کم ہوکر دوسرے صوبوں میں تقسیم کردیاگیا۔آٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں مسائل میں اضافہ اور وسائل کی ضرورت بڑھ چکاہے لیکن قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد خیبر پختونخوا کے آبادی بڑھنے کے ساتھ مسائل میں اضافہ ہوچکا ہے جس کے وجہ پہلے کے نسبت زیادہ وسائل کی ضرورت ہوگی۔

انضمام میں قبائلی علاقوں کو دسال تک سالانہ تین فیصد حصہ دینے کے وعدہ پورا کرنے میں وفاق کو کافی مشکلات کاسامنا ہے کیونکہ پنجاب کے علاوہ اس فارمولے کو بلوچستان اور سندھ بالکل تیار نہیں۔ ان اختلافات کے بناء پر نویں این ایف سی ایوراڈ کے تقسیم کے حوالے ا ب تک تمام کوششیں ناکام رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top