افغان امن عمل کا آغاز،نوید صبح یا۔۔۔

d81040908dd242e49a0a6b23e468a576_18.jpg

حق نوازخان ، سینئر صحافی و تجزیہ نگار

افغانستان میں قیام امن ایک خواب ہے یا حقیقت – اس کا اندازہ جلد ہی ہوجائے گا جب امریکہ اور طالبان آپس میں امن معاہدے پر دستخط کرلیں گےمعاہدے پر دستخط کرتے وقت اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ فریقین نے افغانستان میں سازگار ماحول کے لئے تشدد کی کاروائیوں میں کمی کے جو وعدے کئے تھے اس پر کتنا عمل ہوا؟ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا طالبان جنگجوؤں نے اپنی قیادت کے اعلان پر من وعن عمل کیا یا نہیں؟

کچھ ناقدین کا خیال ہےکہ بعض جنگجوؤں اس امن عمل سے مطمئن نہیں تاہم اس بات کا اندازہ جلد ہی ہو جائے گا جبکہ دوسری طرف امریکہ اس کےاتحادی اور افغان حکومت طالبان کے خلاف کاروائیوں میں کتنی کمی لاتےہیں ابھی تک یہ واضح نہیں کہ تشدد میں کمی سے مراد جنگ بندی ہے یا اہم شہروں میں ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملے نہیں کئے جائیں گے ؟

یہاں یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب امن معاہدے اور اس کے مندرجات پر فریقین متفق ہوگئے ہیں تو عارضی یا آزمائشی جنگ بندی کے اعلان سے کس کو چھڑ ہے؟ فروری کا آخری ہفتہ اور مارچ کے پہلے دس دن اس افغان امن عمل کے لئے انتہائی اہم ہیں یہ اعتماد سازی اور اس عمل کے اگلے مرحلےکے لئے ازحد ضروری ہے۔

تشدد میں کمی کے بعد معاہدے پر فریقین کے دستخط کے بعد اگلے ماہ کے پہلے ہفتے میں ہزاروں قیدیوں کا تبادلہ عمل میں لایا جائے گا۔اطلاعات کے مطابق امریکہ طالبان کے ۵۰۰۰ قیدی جبکہ جواب میں طالبان اپنے قید سے ۱۰۰۰ بندے جو زیادہ تر افغان حکومت کے ہیں رہا کروائیں گے۔

اس کے بعد سب سے اہم مسلۂ،جو انتہائی پیچیدہ بھی ہے، بین الافغانی مذاکرات کا آغاز ہے اس کے ساتھ تقریباًڈیڑھ سال کے عرصہ میں افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کا انخلاءکا عمل مکمل کیا جائے گا بظاہر افغان حکومت، شمالی اتحاد اور طالبان کےدرمیان مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے گا ۔

امریکی افواج کے انخلاء کےساتھ امن عامہ کی ذمہ داری افغان نیشنل آرمی کے سر ہوگی یا کوئی امن فوج کے نام پر فورس کو یہ ذمہ داری دی جائے گی۔ طالبان کے بارےمیں بھی یہ واضح نہیں کہ وہ ایک مسلح تحریک یا ایک سیاسی قوت کےطور پر افغان منظر نامے پر آئیں گے۔

بہت سے ایسے بنیادی سوالات ہیں جن کے جواب ابھی دینا باقی ہیں افغانستان کا آئندہ سیاسی منظر نامہ کیسا ہوگا موجودہ جمھوری عمل کو آگے لے جایا جائیگا یا دوبارہ عوامی انتخابات ہوں گے قومی جرگہ بلایا جائے گا یا کوئی اور نظام؟

سب کی نظریں دوحہ امن عمل پر ہیں امید تو یہی کی جارہی ہے کہ افغان سرزمین پر پچھلے ۱۹ سالوں سے جاری جنگ ختم ہونے جارہی ہے افغان عوام پچھلے ۴۰ سالوں سے حالت جنگ میں ہے کوئی ایسا دن اور لمحہ نہیں گزرا جب بم دھماکہ،مسلح حملہ یا فضائی بمباری نہ ہوئی ہو۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والا امن معاہدہ افغان عوام کےلئے ایک نئی صبح کا پیغام لیکر آتی ہے یا خدا نہ کرے ایک نیا سلسلہ خون ریزی کا۔۔۔

حق نوازخان ، سینئر صحافی،تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔پچھلے 22 سال سے میڈیا سے وابستہ ہیں۔مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صحافت،سیاست، مذہب،سماجی امور اور انسانی حقوق کے موضوعات پر بلاگ،کالم اور فیچرز لکھتے ہیں۔حق نوازخان کے ساتھ رابطے کیلئے nawazkh@gmail.com پر ای میل کرسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top