بچپن کی شادیوں کی روک تھام کا قانونی مسودہ:14 جنوری کو جامعہ پشاور میں مشاورتی مذاکرہ منعقد ہوگا

0.jpg

پشاور:پشاور یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن (پیوٹا) اور ڈیپارٹمنٹ آف سوشل ورک جامعہ پشاور کے زیر اہتمام یو این وومن پاکستان کے تعاون سے ترتیب شدہ  مشاورتی مذاکرے میں خیبر پختونخوا میں کم عمری اور زبردستی کی شادیوں کو روکنے کیلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے بل پر تفصیلی بحث کی جائے گی.مذاکرے کا مقصد مذکورہ بل پر ماہرین تعلیم کی رائے اور مؤقف حاصل کرنا ہے۔

پروگرام کے آرگنائزر ڈاکٹر محمد ابرار کے مطابق جامعہ پشاور کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جوہر علی اور یو این وومن خیبر پختونخوا چیپٹر کی ہیڈ زینب قیصر خان مشاورتی مذاکرے کے مہمان خصوصی ہونگے.اس کے علاوہ مذاکرے میں جامعہ پشاور کے مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم طلبہ اور طالبات شریک ہونگے

پروگرام میں پیوٹا کے صدر ڈاکٹر فضل ناصر کے علاوہ جامعہ پشاور کے شعبہ فلفسہ ، اسلامیات،سوشل ورک،سائیکالوجی،سوشیالوجی،انترپالوجی،کالج آف ہوم اکنامس اور  لاء کالج کے سربراہان بھی شرکت کرینگے.

ماہرین تعلیم مذکورہ بل کے حوالے سے اپنی رائے اور نقطہ نظر پیش کرینگے جو کہ بعد میں بچپن کی شادیوں کو روکنے سے متعلق مؤثر قانون سازی کیلئے صوبائی حکومت کو مذکورہ بل پر اکیڈمیا کی طرف سے تجاویز اور سفارشات کے طور پر پیش کیا جائے گا.

پروگرام کے ایجنڈے کے مطابق مزاکرے میں بچپن کی شادیوں کی معاشرتی پہلووں،صنفی تشدد ،چائلد میرج ریسٹرین بل کے ڈرافٹ کے اہم نقات اور درپیش مسئلے کے حل میں اکیڈیمیا کی کردار پر بات چیت ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top