انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے،رخشندہ ناز

c7e74246-188b-42f5-9007-2f1e298de658.jpg

پشاور: انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے خیبر پختونخوا صوبائی کمیشن برائے وقار النساء (PCSW) اور کینیڈین حکومت کے تعاون چلنے والی پراجیکٹ کو واٹر انٹرنیشنل (Cwater) کے تعاون سے پیوٹا ہال پشاور یونیورسٹی میں ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

صوبائی محتسب برائے خواتین مس رخشندہ ناز اس موقع پر مہمان خصوصی تھی۔ سیمینار سے صوبائی اسمبلی کی خواتین ارکان عائشہ بانو، حمیرا خاتون ، ساجدہ حنیف ، رابعہ بصری ، بصیرت بی بی ،زینت بی بی ، کشن برائے وقارالنساء کمیشن کی چئیرپرسن ڈاکٹر رفعت سردار، کو واٹر کی ٹیم لیڈر مس شبینہ گلزار،اے آئی جی ایلیٹ پولیس محمد حسین، پشاور یونیورسٹی کی جینڈر سٹڈیز کی چئیرپرسن ڈاکٹر انوش اور وقارالنساء کمشن کی شبینہ ناز نے خطاب کیا۔

رخشندہ ناز نے کہا کہ آج کا دن منانے کے ساتھ ہمیں اپنے اس عزم کو پختہ کرنا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔ انہوں نے کہا اس دن ہمیں ان خواتین کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جنہوں نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی۔

مقررین نے کہا کہ آئین پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی۔ اس حوالے سے قوانین موجود ہیں مگر ان پر عمل درآمد میں مسائل درپیش ہیں جس کے لیے مل کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کا کام خواتین کے حقوق کے حوالے سے قوانین کا جائزہ لینا اور اس سلسلے میں مزید سفارشات پیش کرنا ہے۔ کمیشن نے مختلف قوانین پر کام کیا یے اور اس حوالے سے صوبائی اسمبلی کی خواتین اور مرد ارکان کا ہمیں تعاون حاصل رہا یے۔

خواتین ارکان صوبائی اسمبلی نے یقین دلایا کہ گھریلو تشدد کے حوالے سے بل جو اس وقت اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کے پاس ہے بہت جلد اسمبلی منظور ہو کر نافذالعمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکموں اور خاص طور پر قانون بافذ کرنے والے اداروں کے ارکان کی تربیت اور شعور اجاگر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

ایم پی اے عائشہ بانو  نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے ضمن میں مقامی حکومتوں کی خواتین کونسلرز کا کردار کلیدی ہے جو گراس روٹ پر خواتین میں شعور اجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں انہوں نے خواجہ سراوں اور خصوصی افراد کے حقوق کا بھی تذکرہ کیا اور ان کے لیے مزید قوانین بنانے کا عندیہ دیا۔

سیمینار میں ایم پی اے حمیرا خاتون نے اسلام میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے اظہار خیال کیا اور کہا کہ اسلام نے پہلی بار خواتین کو معاشرے میں باعزت مقام اور بنیادی انسانی حقوق سے نوازا۔ ڈاکٹر انوش نے خواتین پر تشدد کے مختلف سماجی، معاشی، معاشرتی پہلووں اور اس کے خلاف 16 دن منانے کے پس منظر سے آگاہ کیا۔

وقار النساء کمیشن کی چئیرپرسن ڈاکٹر رفعت سردار نے کہا کہ کمیشن خواتین کے حقوق کے تحفظ کے قوانین کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے اور ضلعی سطح پر کمشن کی کمیٹیاں پہلے ہی بنا دی گئی ہیں جس کو جلد ہی نوٹیفائی کردیا جائے گا۔انہوں نے سیمینار کے انعقاد میں کو واٹر انٹرنیشنل کے بھرپور تعاون پر کو واٹر کی ٹیم لیڈر شبینہ گلزار، زہرہ لقمان اور ان ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ محکمہ پولیس کے نمائندے نے کہا کہ تمام تھانوں میں خواتین ڈیسک پہلے ہی قائم کیے جاچکے ہیں جہاں خواتین عملہ خواتین شکایت کنندگان کی مدد کے لیے موجود ہے۔

ایم پی اے زینت بی بی نے کہا کہ ویمن کاکس خواتین کی فلاح وبہبود کے لیے بھرپور انداز میں کام کر رہا ہے ۔ ھوم بیسڈ ورکرز کے لیے قانون پر کام جاری ہے جس سے گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے حقوق کت تحفظ کا ضامن ہوگا۔ سیمینار میں خواتین کے حقوق اجاگر کرنے کے لیے ڈاکومنٹریز بھی دکھائی گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top