پشتون، پشتون ولی، عسکریت پسندی اور پر تشدد انتہا پسندی

maxresdefault.jpg

ڈاکٹر خادم حسین

عسکریت پسند اور پر تشدد انتہا پسند بیانیہ اور اس بیانیے کی حکمت عملی پشتون ولی اور اسکے ثقافتی، سماجی اور سیاسی فریم ورک کی ساخت کے مکمل طور پر متضاد ہیں۔ ماہرین کے مطابق ثقافت لوگوں کے ایک مخصوص گروہ کی شناخت، کائناتی تفکر، تخلیقی اور بصری فنون کی شکل میں دھرتی کے فہم و فراست، بار آور رویوں کے تسلسل اور سماج میں رہنے والے لوگوں کے درمیان متعامل رشتوں کا نام ہے اور اس پر ماحولیات، آبادی، تاریخی ارتقا اور اقتصادی رشتوں کا اثر ہمیشہ سے رہا ہے۔

دوسری طرف قومیت ایک گروہ کے معلوم ثقافتی امتیاز کی بنیاد پر بنی شناخت کا نام ہے جو اس گروہ کوایک سیاسی اکائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ انسائکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق یہ ثقافتی امتیاز ایک سماج میں بولے جانے والی زبان، موسیقی، اقدار ، فنون، زندگی کے مختلف سلیقے، ادب، گھریلو زندگی، مذہب، رسومات، خوراک، نام ، عام زندگی اور مادی ثقافت سے ظاہر ہوتا ہے۔ قوم اور قومیت کے تصور میں پھر مادی وسائل اور سیاسی اختیار کا سوال اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

علمِ بشریات میں قومیت کیلئے متبادل طور پراستعمال ہونے والی ایک اور اصطلاح “نسل” کی ہے۔ انسائکلوپیڈیا بریٹانیکا “نسل” کی تعریف کچھ اسطرح کرتی ہے کہ ’’یہ تصور کہ نوعِ انسانی موروثی جسمانی اور رویوں کی تفریق کی بنیاد پر مختلف گروہوں میں بٹی ہوئی ہے‘‘۔ اس مفروضے کو بیسویں صدی کے اواخر میں جینیاتی مطالعے نے حیاتیاتی اور جینیاتی لحاظ سے مختلف نسلوں کے وجود کو رد کیا ہے۔ محققین اب یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ’’نسلیں‘‘ دراصل ثقافتی مداخلت کا نام ہے اور ان خاص رویوں اور عقیدوں کی عکاسی کرتی ہے جوپندرویں صدی کے اوائل میں مغربی یورپ کے فتوحات کے نتیجے میں مختلف خطوں پر تھوپے گئے تھے۔’

’جہاں تک ثقافتی امتیاز کی بنیادی خصوصیات کا تعلق ہے تو مذکورہ بالاتعریفوں کی روشنی میں ہم نہ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک خاص سماج کے ثقافتی امتیاز کا کھوج لگا سکتے ہیں بلکہ اس پر بحث بھی کر سکتے ہیں جس پر اس سماج کے سیاسی بیانیے اور سماجی ارتقا کے متعدد عوامل اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔کسی بھی سماج کا سیاسی بیانیہ طاقت، غلبے اور مارجنلائزیشن کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

اسلئے سماج کے تمام گروہ ایک دوسرے سے مختلف اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں لہذا کسی بھی سماجی گروہ کو “خالص” نہیں کہا جا سکتا۔ ماحولیاتی، آبادیاتی، جغرافیائی اور اقتصادی امتیاز کے بغیر کسی بھی ثقافت، نسل اور قومیت کو دوسری ثقافت، نسل اور قومیت پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔

ایک خاص وقت میں مخصوص سماجی رویوں، اقتصادی رشتوں اور طاقت کے سیاسی ڈھانچے کے مستند اصولوں کو تہذیب کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اسلئے انسانی تاریخ کے دوران مختلف اور متنوع ثقافتیں وجود رکھتی ہیں اور تہذیب و تمدن کی تخلیق اور تخلیقِ نو میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔دوسری ثقافتوں اور قومیتوں کی طرح پشتون ثقافت بھی ثقافتی امتیاز کے بنیادی لوازمات کا حامل ہے اور ساتھ ساتھ سیاسی، تاریخی، ماحولیاتی اور اقتصادی اثرات بھی رکھتی ہے۔

تاریخ دانوں اور ماہرینِ علمِ بشریات نے پشتون ثقافت کے اِس امتیازی فطرت کو پشتون ولی کا نام دیا ہے۔مشرق میں وادی سندھ کی تہذیب، مغرب میں ایرانی تہذیب اور شمال میں چینی تہذیب سے متاثرہ گندھارا کو پشتون ولی نے دوام بخشا۔ اگرچہ پشتونوںکی نسلی تاریخ بہت پرانی ہے مگر پھر بھی پشتون ولی کی تشکیل اور اسکے آگے بڑھنے کے عمل کو اس کے تاریخی ارتقاء کے تین ادوار میں تفصیل سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ بایزید انصاری (1525-1581/1585) کی روشناؤں کی تحریک نے پشتون ولی کو سیاسی آرزوؤں سے جوڑ دیا اور ساتھ ساتھ اِس کو ایک علمی بنیاد بھی فراہم کی۔

پشتو زبان میں نثر کی سب سے پہلی کتاب “خیر البیان” بایزید انصاری ہی نے لکھی تھی۔ پشتون خطے کے جنوب میں شروع ہونے والی اس تحریک نے آہستہ آہستہ زور پکڑااور وادی پشاورہشنگراورسوات تک پھیل گیا۔اس وقت تک مغل سلطنت مستحکم ہو چکی تھی۔ تاریخی شواہد سے ثابت ہے کہ بایزید کی تحریک کومغل سلطنت نے ایک طرف بزورِ شمشیر اور دوسری طرف بایزید انصاری کے ثقافتی اور زاہدانہ بیانیے کو توڑ مروڑ کرکے کچل ڈالا۔ خطے کے علما اور صوفیوں کو بایزید کے بیانیے کو بدنام کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔

پشتونولی کا دوسرا دور عالم، شاعر اور سردار خوشحال خان خٹک (1613-1689) سے شروع ہوا۔ غیر معمولی ذہانت کے مالک خوشحال خان خٹک نے بڑی فصاحت سے پشتون ولی کے سماجی، ثقافتی اور سیاسی امتیازیت کو سیاسی اقتصادیات کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا۔ ان کی شاعری، نثر (دستارنامہ) اور متعدد پشتون قبائل کیساتھ مذاکرات اور صلاح مشوروں نے پشتونوںکی اس قبائلی قدر کو ایک مربوط قومی اور ثقافتی قدر میں بدل ڈالا۔انھوں نے ہمیشہ پشتونوں کے ان سیاسی اور اقتصادی مفادات کی بات کی جو منطقی طور پر مغل سلطنت کے ساتھ تضاد میں تھے۔

خوشحال خان خٹک نے پشتون معاشرے کے خدوخال، اجتماعی نفسیات، جغرافیے اور ثقافت کو واضح طور پر بیان کیا۔ انھیں اورنگزیب عالمگیر نے گرفتار کر کے رتنبور میں قید رکھا۔ 1921ء میں اجتماعی جدوجہد کے تحت شروع کئے گئے تحریکِ اصلاح الافاغنہ کو وسعت دینے کے بعد خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان( فروری1890ء جنوری 1988ء )نے 1929ء میں خدائی خدمتگار کے نام سے تحریک شروع کی۔

خدائی خدمتگار تخریک خوشحال خان خٹک کے بیانیے پر قائم تھی جس نے اگر ایک طرف پشتون ثقافتی امتیاز کو مقامی فہم و فراست اور گندھارا کی تہذیبی شناخت کے ساتھ جوڑا تو دوسری طرف جدید تہذیب کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی کیا۔اس وقت تک برطانوی سلطنت ایک حکمت عملی کے تحت فاٹا بنا چکی تھی۔ فاٹا بنانے کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان پر اپنا غلبہ قائم رکھ سکیں اور زارروس اور سوویت یونین کی طرف سے ممکنہ حملوں کو پسپا کر سکیں۔

پشتونوں کو غیر مہذب، وحشی، بے لگام اور شر پسند ثابت کرنے کیلئے استعماری مصنفین نے کتابیں لکھنے کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں سب سے معروف کتاب سر اولف کیرو (1892-1981) کی شاہکار ’’دی پٹھان‘‘ہے۔ اس کے بعد پشتونوں کے قومی اور ثقافتی تصویر کشی کی غرض سے پشتون معاشرے، ثقافت اور علم ِبشریات پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر کیا گیا یہ سارا کام زیادہ تر اولف کیرو ہی سے متاثر تھا۔

ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی تبدیلی کی خاطر خدائی خدمتگار تحریک نے انسانی وقار، تکثیری جمہوریت اور مقامی فہم و دانش اور شناخت پر مبنی بیانیے کی تشکیل کی۔ خدائی خدمتگار تحریک پشتون ولی جیسے فعال اور متحرک کوڈ کی علامت بن گئی جو پچھلے کئی دہائیوں سے انسان کے تہذیبی سفر میں قدم بہ قدم شامل تھا۔خدائی خدمتگاروں نے اس شاعری، فن، ادب، فنِ تعمیر، موسیقی اور رقص کو اپنایا جو پچھلے کئی دہائیوں سے پشتون ولی جیسے کئی صدیوں پرانے کوڈ کے اجزائے لا ینفک رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جب بھی علمی حلقوں اور بین الاقوامی میڈیا نے پشتونولی پر بات کی تو اس کے متحرک پہلو کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ خدائی خدمتگار تحریک ایک جدید تحریک تھی۔ ایک جدید تحریک اپنے مقاصد کے حصول کیلئے جو راستہ اختیار کرتی ہے وہ راستہ خدائی خدمتگار تحریک نے بھی اپنایا۔

مثال کے طور پر سماجی تبدیلی بذریعہ تعلیم، مقامی زبانوں، ادب و فنون کی ترقی کے ذریعے ثقافت کی تجدید و ترقی اور سب سے بڑ کر اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے میں آزادی اور سیاسی اصلاحات کی خاطر عدم تشدد پرمبنی جدوجہد کے ذریعے سیاسی اختیار کا حصول۔ اِ س کے بعد اِس تحریک نے شراکت داری کی وفاقیت، باہمی طور پر مربوط اور آزاد اقتصادی نظام اور وسائل واختیارات کے لا مرکزیت کیلئے جدوجہد کی۔

اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے کونے کونے میں خدائی خدمتگار وں نے شراکتی بنیاد پر مبنی آزاد سکولوں کا جال بچھایا۔ اِن سکولوں نے زبانوں، اندازِ زندگی، مذہبوں اور فطرت کے گونا گونیوں کا بھر پور اثبات بھی کیا اور ساتھ ساتھ فنی تعلیم اور خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ بھی دی۔خدائی خدمتگاروں نے پشتون خطے میں تجارت کو فروغ دینے والے ہنروں کو بھی متعارف کرایا اور ساتھ ساتھ لوگوںکے رویوں میں تبدیلی لانے اور صحت مند زندگی کے معیار سے لوگوں کی آگاہی کے ذریعے قبائلی انا کی بنیادوں پر وار بھی کیا۔

جب ہم پاکستان اور پشتون خطے میں پشتون ولی اور مذہبی عسکریت پسندی کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو ہم کو پشتون ولی کی ساخت اور مذہبی عسکریت پسند بیانیے میں کہیں بھی کسی قسم کا ربط اوراشتراک نظرنہیں آتا۔ عسکریت پسندوں کا بیانیہ اور ان کی حکمت عملی پشتون ولی اور خدائی خدمتگار تحریک کی نظر میں ایک بہت بڑی بے راہ روی ہے۔ خدائی خدمتگار تحریک اور پشتون ولی کے برعکس یہ انتہا پسند بیانیہ جدید انسانی تہذیب سے جڑے انسانی وقار، تکثیریت اور مقامی روایات کے بیانیے کی تردید کرتا ہے اور اس مقصد کی خاطر یہ بیانیہ قومی، مذہبی، فرقہ ورانہ اور قوم پرست جذبات و احساسات کاغیر منطقی استعمال کرتا ہے۔

عسکریت پسند بیانیہ علم و تحقیق اور تحقیقی صلاحیتوں سے نفرت کی ترجمانی کرتا ہے۔ اِس بیانیے نے ہمیشہ ایسی ذھنیت پیدا کی ہے جو تنوع کو رد کرتی ہے اور جدت اور آزادء اظہارِ رائے سے تنفر سکھاتی ہے۔ لہذا اس میں بات میں ذرا سی بھی حیرانی نہیں کہ اِن مذہبی عسکری تنظیموں نے پشتونوں کے ورثے (بدھا کا مجسمہ، مزارِ اولیا، آثارِ قدیمہ)کو نیست ونابود کیا، پشتونوں کے سماجی مشران کو ختم کیا، پشتون شعرا، گلوگاروں کو ملک بدر کیا، پشتون فنکاروں کو مار ڈالا، مقامی رقص پر پابندی لگائی، زندگی گزارنے کے مقامی طور طریقوں کو بزورِ شمشیر ختم کیا، اور ان لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹایا جنہوں نے بر ملا خدائی خدمتگار تحریک سے وابستگی کا اعتراف کیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ عسکریت پسند نیٹ ورک پشتونوں کو اپنی تاریخ اور مقامی روایات سے کاٹنے اور ساتھ جدید تہذیب سے منقطع کرنے کی مسلسل کوشش کرتا آرہا ہے۔یہ کہنا کہ پشتون دہشت گرد اور قاتل ہیں بالکل ایسا ہے جیسے آپ کسی کو مسلسل زہر کا انجیکشن دیتے جائیں اور پھر اسکی موت کا ذمہ دار اسکا کمزور جسم گردانیں۔زیادہ دور نہیں جائیں گے 1975 ء سے پہلے پشتون سوسائٹی میں دہشت گرد تنظیمیں کیوں پروان نہیں چڑھیں؟

کیا وجہ ہے کہ انیس سو اسی اور انیس سو نوے کی دہائی میں بیشتر تنظیمیں وجود میں آگئیں؟انیس سو اسی کی دہائی سے پہلے پشتونخوا میں مدارس کی تعداد سینکڑوں میں تھی اور صرف ایک دہائی میں وہ تعداد کئی ہزار ہو گئی۔ کئی ٹریننگ کیمپ وجود میں آگئے جس میں کروڑوں ڈالر، پیٹرو ڈالر اور اربوں روپوں کو جھونکا گیا۔کرنل امام کا انٹرویو موجود ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ خود اس نے نوے ہزار لوگوں کو جنگ کی تربیت دی۔ کیا وہ پشتون تھا؟

جنرل مشرف کہتا ہے طالبان ہم نے بنائے۔ عمران کہتا ہے جہادی تنظیمیں ہم نے بنائیں۔ کیا یہ سب پشتون ہیں؟ کیا حافظ سعید پشتون ہے؟کیا پنجابی طالبان کی تنظیم پشتونوں نے بنائی؟ پنجابی طالبان نے کتنی کارروائیاں پشتونخوا میں کیں اور کتنی پنجاب میں کیں؟ اگر دہشت گرد پشتون تھے تو انہوں نے نوے فیصد دہشت گرد کارروائیاں پشتونخوا میں کیوں کیں؟

کیا القاعدہ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر پشتون علاقوں میں آگئی تھی اور اپنے بے پناہ وسائل سے وہاں پر قبضہ جما لیا تھا؟ کیا ازبک، چیچن، اور ترکمانستان سے پشتونوں نے تنظیموں کو دعوت نامے بھیجے اور پھر ان کو ویزے بھی کیا پشتونوں نے دئیے؟ اب ایک سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر پشتون سماج میں باہر سے پر تشدد انتہا پسندی کو سرایت کیا جا رہا تو کچھ ہزار پشتون اسکا حصہ کیوں بنے؟جہاں زندگی گزارنے کے اور تمام راستے مسدود کر دئے جاتے ہیں۔

مارکیٹ، زراعت، صنعت اور پیداواری عمل جہاں پر تباہ یا بند کر دیا جاتا ہے اور زندگی گزارنے کیلئے صرف دہشت گردی، اغوا ، ڈرگ ٹریفکنگ اور کار لفٹنگ ہی کو چھوڑا جاتا ہے تو وہاں لوگوں کے پاس صرف چار راستے رہ جاتے ہیں۔ عام لوگ یا تو وہاں سے نقل مکانی کر لیتے ہیں، یا دہشت گردی کے شکار بن جاتے ہیں، یا مزاحمت کرتے ہیں اور یا پھر دہشت گردی کے کاروبار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تقریبا ساٹھ فیصد پشتونوں نے نقل مکانی کی، بیس فیصد دہشت گردی کے شکار ہوئے، اٹھارہ فیصد نے مزاحمت کی اور دو فیصد اسکا حصہ بنے۔اب آخری سوال یہ رہ جاتا ہے کہ مزاحمت کرنے والے اتنے کم کیوں تھے؟

اسکا جواب یہ ہے کہ پشتونوں کی سیکولر سیاسی تحریکوں، روشن خیال طبقے، انٹیلیجنسیا اور سماجی کارکنوں کو پاکستان کے بننے کے ساتھ ہی نشانہ بنانا شروع کیا گیا تھا اور انیس ستر، اسی، نوے اور دو ہزار کی دہائی میں یہ عمل عروج کو پہنچا۔ اب پشتونوں کو جس آلے کے ذریعے تحلیل کرنے کی کوشش کی گئی اسی آلے کے ذریعے پشتونوں کو مطعون کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر خادم حسین ایک محقق اور تجزیہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت باچاخان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top