خواتین کے قومی دن کے موقع پر پشاور میں تقریب کا انعقاد

nasim.jpeg

12فروری 1983کولاہور میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف خواتین وکلاء کی طرف سے ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں 200 سے زیادہ خواتین وکلاء نے آمریت کے خلاف نعرے لگائے اور مظاہرہ کیا۔ ان مظاہر ین پر لاہور پولیس کی طرف سے بہیمانہ تشدد کیا گیا جس میں کئی خواتین زخمی ہوگئی تھیں۔اس واقعے کے بعد12فروری کوہرسال پاکستانی خواتین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

آج پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں اس دن کی اہمیت کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کی وومن پارلیمنٹری کاکس ،قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور مقامی سماجی تنظیم بلیو وینز کی جانب سے مقامی ہوٹل میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شعبہ ہائے جات زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بشمول وکلاء ،ممبرز اسمبلی ،حکومتی اداروں،میڈیا،سول سوسائٹی اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی.

پروگرام میں صوبائی اسمبلی کی وومن پارلیمنٹری کا کس کی چیئرپرسن ملیحہ اصغر نے مہمان خصوصی جبکہ اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی کی ممبر عائشہ بانو اور صوبائی اسمبلی کے دیگر ممبران نے بھی شرکت کی۔

پروگرام کے دیگر مقررین میں خواتین کی جنسی ہراسانی کی روک تھام کیلئے مقرر کی گئی صوبائی محتسب رخشندہ ناز، بلو وینز کے کوارڈینیٹر قمر نسیم،سینئر صحافی ظاہرشاہ اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی صوبائی نمائندہ رضوان اللہ شاہ شامل تھے۔

پروگرام کے مہمان خصوصی رکن صوبا ئی اسمبلی ملیحہ اصغر نے سماجی تنظیم کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ موجودہ حکومت معاشرے میں عورتوں کی حالت کو بہتر بنانے کے حوالے سے سنجیدہ ہیں اور اس حوالے سے بہترین اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں عورتوں کو ان کے کردار اور کارکردگی کے حوالے سے دیکھنا ضروری ہے نہ کہ ان کی صنف اور جنس کے حوالے سے دیکھے. انہوں نے مزید کہا کہ عورتوں کے خلاف تشدد کو گھر اور معاشرے سے ختم کرنا ضروری ہے اور جب تک یہ تشدد ختم نہیں ہوتا ایک پرامن معاشرہ تشکیل نہیں پا سکتا.

صوبائی اسمبلی میں خواتین کاکس کی جنرل سیکرٹری عائشہ بانونے کہا کہ خواتین ممبران اسمبلی قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کے حوالے سے بہترین کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عورتوں کا سیاست میں آنا اور تمام تر دشواریوں کے باوجودعملی سیاست میں کردار ادا کرنا بذات خود ایک بہت بڑا کام ہے ۔انہوں نے شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے ان کے حقوق کو یقینی بنائے بغیرملک کی ترقی کسی طور ممکن نہیں ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ معاشرے میں تشدد اور صنفی ناہمواریوں کو نہ صرف قانون سازی سے ختم کرنا ہوگا بلکہ معاشرے کہ تمام افراد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا.

جنسی ہراسانی کی روک تھام کے حوالے سے مقررکردہ صوبائی محتسب رخشندہ ناز نے کہا کہ حکومتی پالیسیاں اور ترقی کے حوالے سے پاکستانی حکومت نے جو اہداف مقرر کیے ہیں اس میں خواتین کی سیاسی شمولیت, اور معاشرے میں عورتوں کے مقام کو بہتر بنانا واضح طور پر شامل ہیں اور اس حوالے سے صوبائی اور مرکزی حکومتوں کو اہم اقدامات اٹھانے ہوں گے.

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے نمائندہ رضوان اللہ شاہ نے کہا کہ ان کا کمیشن پاکستان میں انسانی حقوق کی بحالی اور آگاہی کے حوالے سے پرعزم اور سرگرم ہے. پاکستان بھر میں جہاں بھی انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی واقعہ ہوتا ہے تو کمیشن اس پر فوری نوٹس لیتا ہے اور یقینی بنایا جاتا ہے کہ متعلقہ ادارے
اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جا سکے.

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی ظاہر شاہ شیرازی نے کہا کہ عورت صرف گھر میں ہی نہیں بلکہ معاشرے میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عورتیں تمام شعبہ جات میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں لہذا یہ بہت ضروری ہے کہ میڈیا معاشرے میں ان کے مثبت کردار کو اجاگر کرے.

پروگرام کے مہمان خصوصی صوبائی اسمبلی کی وومن پارلیمنٹری کا کس کی چیئرپرسن ملیحہ اصغر نے نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین جن میں سماجی کارکن روہی خان بابر،ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر پشاور سارا تواب،انسانی حقوق کی رہنما افشاں آفریدی،بچوں کی شادیوں کی روک تھام کیلئے کام کرنیوالی رفاقت بی بی،پاکستان کی پہلی سکھ صحافی من میت کور،انگلش ڈیپارٹمنٹ پشاور یونیورسٹی کی چیئرپرسن روبینہ رحمن،خیبر پختونخوا پولیس میں خدمات انجام دینے والی خاتون افسر سائرہ صالح،سماجی کارکن ناظرہ سید اور محکمہ سماجی بہبود اور ترقی نسواں کے ڈپٹی ڈائریکٹر روبینہ ریاض میں ایوارڈ تقسیم کئے اور ان کی کارکردگی کو سراہا.

بلووینز کے کوآرڈینیٹر قمر نسیم نے پروگرام کے مہمانان اور مقررین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سماجی تنظیموں کی یہ ذمہ داری ہے عورتوں کے حقوق کو بہتر بنانے کے حوالے سے کردار ادا کریں اور نہ صرف یہ کہ قانون سازی کو بہتر بنائیں بلکہ ظلم کا شکار ہوئے افراد کو ان کے آئینی حقوق کے حوالے سے بھی آگاہ کریں تاکہ وہ خود اپنے حقوق کے لئے اپنی آواز بلندکرسکیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top