محکوم پشتون قوم اور ’’آزاد لطیف لالا‘‘

14225423_131320527321342_8273743360497356168_n-e1567883899231.jpg

خان زمان کاکڑ

امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے ’’معاہدے‘‘ کے نتیجے میں افغانستان اور خطے کا مستقبل ایک بار پھر ایک غیریقینی شکل اختیار کرنے جارہا ہے۔کسی بھی قسم کے عدمِ استحکام کے خطرناک اثرات براہ راست ان سابق قبائلی علاقوں پر پڑیں گے جو خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد بھی افغانستان کے خلاف ایک مورچے کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔

انضمام نے بہرحال ان علاقوں میں سیاست کی کچھ گنجائش فراہم کی جو تقریباً ایک صدی تک باچاخان کی تحریک کیلئے “نوگو ایریاز” کے طور پر رہے تھے۔ فاٹا کا خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کیلئے جن لوگوں نے کافی لمبی جدوجہد کی، ان میں ایک سب سے موثر نام قوم پرست سیاسی راہنما عبداللطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا بھی ہے۔

لطیف لالا کی جدوجہد صرف فاٹا اور پختونخوا کے انضمام کے سوال تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ ان کی نصف صدی پر محیط سیاسی زندگی ترقی پسندی، جرات، مزاحمت اور ادب دوستی کی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ تا ہم فاٹا اور پختونخوا کے انضمام کے اعلان کے بعد لطیف لالا سے سب سے بڑی توقع یہ کی جارہی تھی کہ وہ صوبے کے نئے ضم شدہ اضلاع میں اپنی سیاسی جماعت (عوامی نیشنل پارٹی) کو متعارف کروانے میں سب سے اہم کردار ادا کریں گے۔

اگرچہ پیرانہ سالی، پیشہ ورانہ مصروفیات اور بیماریوں کے باوجود بھی لطیف لالا نے سیاست میں کبھی بھی اپنی غیرحاضری محسوس نہیں کرائی ہے لیکن اپنی تمام ترقابلِ قدر سیاسی کاوشوں کے باوجود لالا کے حوالے سے ایک انتہائی ناخوشگوار اور ناپسندیدہ صورتحال تب بنی جب تاریخ میں پہلی دفعہ سابقہ قبائلی علاقوں یا موجودہ خیبرپختونخوا کے نئے ضلعوں میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا اعلان ہوا اور اے این پی نے اپنے اس بزرگ مرکزی راہنما اور تھینک ٹینک کے ممبر کو ان کے آبائی حلقے میں پارٹی کی کمپائن کمیٹی کی راہنمائی کرنے کی ذمہ داری سونپی مگر انہوں نے حیران کن طور پر یہ تنظیمی اور قومی ذمہ داری نبھانے کی بجائے کسی آزاد امیدوار کے باپ کی حیثیت سے انتخابی مہم میں حصہ لینا پسند کیا۔

لالا کے اس فیصلے نے پارٹی کے ان عام کارکنان کو بڑا مایوس کیا جنہوں نے اپنی تنظیمی وابستگی، نظریاتی ثابت قدمی اور حق گوئی کے حوالے سے لالا کو اپنا رول ماڈل بنایا ہوا تھا۔ لطیف لالا ابھی چند ماہ پہلے اے این پی کی ذیلی تنظیم “ملگری وکیلان” کی مدد سے پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بنے تھے اور اے این پی نے ان کی اس کامیابی کو اپنی ایک فتح کے طور پر منایا تھا۔

میرا نہیں خیال کہ لالا کے کسی بھی ’’ملگری وکیل‘‘ نے ان کا اپنے بیٹے کا انتخابی کمپائن چلانے کے فیصلے کی حمایت کی ہو اس لئے کہ لالا سے تو یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ آزاد امیدواروں کی حیثیت سے انتخابات لڑنے کی اس روایت کو توڑیں گے جس کے ذریعے ریاستِ پاکستان نے سابقہ فاٹا کو دہائیوں تک جمہوری اور سیاسی عمل سے دور رکھا تھا۔ یہ توقع لطیف لالا جیسے ہردلعزیز رہبر ہی سے کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنی پارٹی کو اس علاقے میں متعارف کروایں گے جس میں قوم پرست سیاست پر انگریزوں کے دور سے سخت ترین پابندیاں عائد رہی تھیں۔

یہ کام لالا ہی کرسکتے تھے کہ وہ اپنے ان پشتونوں کو تنظیمی عمل سے روشناس کراتے جو قبائلی خطوط پر بری طرح تقسیم اور پیس گئے تھے لیکن قوم میں سیاسی شعور عام کرنے کی بے مثال صلاحیتیں رکھنے والے محترم لطیف لالا نے لوگوں اور پارٹی کی توقعات کے برعکس اپنے بیٹے کیلئے خاندانی، قبائلی اور شخصیاتی بنیادوں پر کمپائن چلانے کو ترجیح دی۔ شاید انہوں نے اس راہ کا انتخاب ایک مجبوری کے تحت کیا ہو لیکن انہوں نے اپنی کسی مجبوری کی وضاحت پارٹی کو فراہم نہیں کی جس کی وجہ سے اے این پی کے کارکن ایک بار پھر ایک انتہائی ناپسندیدہ صورتحال سے دوچار ہو گئے۔

تنظیمی اصول کی اتنی بڑی خلاف ورزی کرنے پر انہیں پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا جس کا انہوں نے مقررہ مدت میں جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا۔ نتیجتاً پارٹی کی صوبائی قیادت نے ان کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کا سخت قدم اٹھایا۔ ایک طرف اگر موجودہ حالات میں لطیف لالا جیسی قدآور سیاسی شخصیت کو پارٹی سے نکالنا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا تو دوسری طرف اے این پی کے روایتی حریف بھی تیار بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ اس معاملے کی کچھ ایسی تشریح کریں جس کی بنیاد پر باچاخان اور ولی خان کے اس جماعت کو زوال کی طرف بڑھتے ہوئے دکھایا جاسکے۔

مجھ جیسے عام سیاسی کارکن جو لالا کی بے پناہ محبتوں کے مقروض رہے ہیں اس سارے معاملے کی ذمہ داری لالا پر ڈالنے سے نہیں رہ سکتے۔ ارسطو نے اپنے استاد افلاطون کے بارے میں کہا ہے کہ افلاطون ان کیلئے نہایت محترم ہیں لیکن حقیقت ان کیلئے افلاطون سے کئی گناہ محترم ہے۔

لطیف لالا جنہوں نے ہمیں ہمیشہ حق اور حقیقت کے ساتھ کھڑا ہونا سکھایا ہے کبھی بھی حقیقت پسندی پر مبنی ہماری اس بات کا برا نہیں منائیں گے کہ وہ ایک سنئیر وکیل اور سیاسی استاد ہونے کے باوجود پارٹی اصولوں کواس پیمانے پر اجاگر نہیں کرسکے ہیں جس کی ضرورت اس غیرسیاسی اور ضدِ انقلابی دور میں انتہائی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔

پارٹی کی بات کی جائے تو اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتاکہ ولی خان ، اجمل خٹک اور افضل خان لالا کے بعد اے این پی میں اگر کسی کو انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو وہ یا لطیف لالا ہیں اور یا حاجی غلام احمد بلور۔ میں یہ بھی اضافہ کرجاوں کہ لطیف لالا شاید واحد شخصیت ہیں جن کو اے این پی کے سٹیج پر ہر بات کہنے کی مکمل اجازت حاصل رہی ہے۔ پارٹی قیادت ان کی ہر قسم کی تنقید کو ایک راہنمائی کے طور پر لیتی رہی ہے۔ لالا کے بڑے قیمتی سیاسی تجربے ہیں، ان سے تنظیم اور نظریات کی مد میں کافی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

ابھی جو تنظیمی ڈسپلن کا ایک ایشو سامنے آیا اس کو ذمہ داری سے نمٹایا جاسکتا تھا ۔ صوبائی قیادت کے فیصلے کے خلاف پارٹی کے مرکزی ادارے کو اپروچ کرنا ایک آئینی آپشن تھا جو لطیف لالا استعمال کرسکتے تھے اور سنا ہے کہ انہوں نے اس آئینی آپشن کو استعمال کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جوکہ خوش آئند ہے اس لئے کہ ان کا وہ ردعمل اے این پی کے کارکنان نے ہرگز پسند نہیں کیا جو انہوں نے صوبائی قیادت کی جانب سے ان کی تنظیمی رکنیت کے خاتمے کی نوٹیفیکشن پر ایک غیرملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب ان کے کاندھوں سے بوجھ اتر گیا ہے اور ان کو آزادی ملی ہے، ’’آزاد لطیف زندہ باد‘‘۔ ہم محکوم پشتون لطیف لالا کو اکیلے ’’آزاد‘‘ نہیں دیکھ سکتے اس لئے کہ انہیں قومی آزادی کی جدوجہد میں ہماری راہنمائی کرنی ہے۔ ہمارا یہ بھی یقین ہے کہ پارٹی کے مرکزی صدر جنہوں نے لطیف لالا جیسے سارے قدآور سیاسی راہنماوں کو پارٹی سے کئی سالوں کی جدائی کے بعد واپس باچاخان کی بڑی تحریک میں واپس لانے کا تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ کبھی بھی لطیف لالا کو تنظیمی عمل سے ’’آزاد‘‘ دیکھنا پسند نہیں کرینگے۔

پارٹی کی موجودہ صوبائی قیادت جس نے سارے خفا کارکنوں کے پاس جاکر ان کو واپس پارٹی میں لانے اور فعال بنانے کا ایک جامع پلان بنایا ہوا ہے وہ قطعاً لطیف لالا جیسے راہنما کی اس قسم کی’’آزادی‘‘ پرخوش نہیں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسی ’’آزادیوں‘‘ سے وطن کی آزادی کا سفر کتنا طوالت اختیار کرجاتا ہے۔ تاہم تنظیمی عمل میں ان چھوٹے موٹے مسائل کو ایک سیاسی معمول کے طور پر لیکر آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے۔ میں پھر بھی یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ لطیف لالا نے اس سارے عمل میں وہ ذمہ داری نہیں دکھائی جس کی ہم جیسے کارکن توقع کرتے تھے۔

اب بنیادی بات یہ ہے کہ اس کو نہ پارٹی قیادت نے اور نہ ہی لطیف لالا نے اپنی انا کا مسئلہ بنانا ہے۔ ان ’’آزادیوں‘‘ اور ’’علیٰحدگیوں‘‘ کی بجائے ہم سب نے اپنی سیاسی وابستگیوں اور ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ یہ محکوم قوم تاریخ کے اس خطرناک موڑ پر مزید سیاسی اور تنظیمی انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتی۔ میری کم عمری مجھے زیادہ کچھ کہنے کی اجازت نہیں دیتی لیکن اتنا کچھ ضرور کہوں گا کہ پشتون قوم کو ’’آزاد لطیف لالا‘‘ کی بجائے اپنی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے تنظیمی اور نظریاتی اصولوں کے پابند اور پاسبان لطیف لالا کی ضرورت ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب ریاستِ پاکستان نے اپنے جنگی اقتصاد کی سلطنت کو پشتونوں کے سروں پر کھڑا کیا ہے، ہم ایک مضبوط قوم پرست تنظیم کی مدد سے ہی اپنی بقا کو یقینی بناسکتے ہیں۔ مزید ان غلطیوں کو دہرانے کی گنجائش نہیں جو اسی اور نوے کی دہائی میں ہمارے بعض سیاسی اکابرین سے سرزد ہوئی تھیں۔

نہ کوئی قومی جمہوری انقلاب آیا، نہ کوئی عوامی جمہوری انقلاب اور نہ ہی کوئی قومی وحدت بنی، البتہ ہماری سیاسی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے گھروں کے سامنے خاکی وردی والے ضرور کھڑے ہوئے۔ ریاستِ پاکستان نے ہمارے وطن کا سارا اختیار اپنے ’’دفاعی اثاثوں‘‘کے سپرد کیا۔

پچھلے چالیس سال سے افغان سرزمین کو خون سے نہلانے والی قوتیں آج ایک بار پھر مزکرات کا ڈھنڈورا رچا کر تختِ کابل پر طالبان کو بٹھانا چاہتی ہیں۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں مسلسل اور منظم مداخلت جاری ہے اور ملک کے اندر فوج نے سارے معاملات اور سارے اداروں پر مکمل کنٹرول حاصل کیا ہے ایک ایسے دور میں لطیف لالا کی اے این پی سے ’’آزادی‘‘ اور’’علیحدگی‘‘کی ہرگز حمایت نہیں کی جاسکتی قوم کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر لطیف لالا پارٹی کی مرکزی قیادت کو اپروچ کرنے کا آئینی آپشن استعمال کرسکتے ہیں اور مرکزی قیادت اس مسئلے کا خوش اسلوبی کے تحت حل نکال سکتی ہے۔
’’خدای دی لطیف پہ پشاور کی لری‘‘

بشکریہ،روزنامہ شہباز پشاور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

scroll to top