معروف سماجی کارکن گلالئی اسماعیل گرفتار

12814132_10153981865007171_1772243474603833140_n.jpg

پاکستان ہیومن رائٹس ڈیفینڈر نیٹ ورک نے اسلام آباد پولیس کی طرف سے خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کیلئے سرگرم سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کی گرفتاری کی مزمت کی ہے اور حکومت سے جلد رہائی کا مطالبہ کیا۔

نیٹ ورک کے نیشنل کوارڈینیٹر تنویرجہان کی طرف سے میڈیا کو جاری کیےگئے بیان میں وفاقی حکومت کے کردار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلالئ اسماعیل کا نام پہلے ہی سے ایگزٹ کنڑول لسٹ میں شامل ہے اور اُن کے باہر ملک جانے پر پابندی ہے۔

اُن کے مطابق پُر امن احتجاج کرنا ہر ایک شہری کا حق ہے اور آئین پاکستان میں یہ صاف طور پر لکھا گیا ہے کہ شہری پُرامن طور پر ریاست کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرسکتے ہیں

دوسری طرف ابھی تک گلالئی کے گرفتاری کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے

اس حوالے سے گلالئی کے والد پروفیسر محمد اسمٰعیل نے  بتایا کہ  ان کی بیٹی کو گزشتہ روز  اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر سے  اٹھایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ گلالئی اسمٰعیل پریس کلب کے باہر پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما ارمان لونی کی متنازع موت کے خلاف جاری احتجاج میں شریک تھی۔

گلالئی کے والد کے مطابق پولیس نے گلالئی اسمٰعیل کو ابتدائی طورپر جی9 میں وومن پولیس اسٹیشن میں منتقل کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’ان کی بیٹی گلالئی اسماعیل ، عبداللہ ننگیال اور پی ٹی ایم کے دوسرے قیدیوں کو آج صبح چار بجے نا معلوم مقام پر منتقل کیا گیا.

پروفیسر محمد اسمٰعیل کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم گلالئی کے بارے میں جاننے کی کوشش کررہے ہیں لیکن پولیس بتانے سے گریزاں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تاحال گرفتاری کی کوئی ایف آئی آر نہیں درج کی گئی‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں اسلام آباد میں گلالئی کو ائیر پورٹ حکام نے لندن سے واپسی پر حراست میں لے لیا تھا تاہم پاسپورٹ تحویل میں لینے کے بعد ضمانت پر چھوڑ دیا تھا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top