دور جدید میں نوجوان نسل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی

68842620_2393237714098823_1791996961621016576_n.png

ریاض غفور

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ دور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آئے روز نت نئی ایجادات سے آشنا ہو رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صحت، زراعت،معاشیات ، کھیل، خوراک، ٹرانسپورٹ، تعلقات عامہ سمیت دیگر کئی میدانوں میں آسانیاں پیدا کر رہی ہے۔

آج سے اگر ہم بیس سال پیچھے جائیں، تو ہمیں اپنی زندگی ہر لحاظ سے بہت مشکل نظر آنے لگتی ہیں کیونکہ ایک خط بھیجنے کے لئے کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا تھا،ٹھیک اسی طرح زراعت میں دیکھ لیں،تو ایک کنال زمین سے اتنا فائدہ اس وقت نہیں ہوتا تھا جتنا آج ہو رہا ہے۔ ہم کئی دیگر مثالیں بھی گنوا سکتے ہیں جس کی بدولت آج انسان ہرلحاظ سے ہر میدان میں کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔

اگر ہم دوسرے زاویے سے دیکھ لیں تو یہ بھی نظر آجاتا ہے کہ آج کل کم سے کم وسائل سے ہم زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ سب جدید تحقیق یعنی سائنس اور اس سے جڑی ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔

دورجدید میں ٹیکنالوجی کے بغیر معمولات زندگی کو چلاناناممکن اور انتہائی مشکل کام تصور ہوتا ہے۔ آج کا انسان صبح موبائل کی آواز پر نیند سے بیدار ہوتا ہے۔ شوگرکا مریض اپنے ہاتھ میں لئے ایک چھوٹے سے آلے کی مدد سے اپناشوگرلیول دیکھتا ہے،کھیت میں کام کرنے والا زمیندار موسم کے بارے میں پہلے ہی جان لیتاہے۔ یہ سب کچھ سائنس و ٹیکنالوجی کے بدولت ممکن ہوا ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں امریکہ،برطانیہ،یورپ اور چائنہ کو اگر دیگر ممالک پر فوقیت حاصل ہے تو وہ صرف اور صرف جدید تحقیق کو سامنے رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی وجہ سے ہے۔ آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک گراﺅنڈ کی سطح پر لڑائی جھگڑوں کے بجائے سائبر دنیا میں لڑائی کے لئے زورآزمائی کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں دنیا نے دیکھا کہ امریکہ اور چائنہ کی درمیان جاری اقتصادی جنگ کی شروعات بھی ٹیکنالوجی کے بائیکاٹ سے ہوئی۔ذرائع کے مطابق امریکہ نے جب چائنہ کے ہوواوے کمپنی کی مصنوعات پر پابندی عائد کردی تو چائنہ نے آئی فون سے متعلقہ مصنوعات پراپنے ملک کو درآمد کرنے پر پابندی لگا دی اور ساتھ ہی اس کے خلاف مہم بھی چلائی۔

ٹیکنالوجی روز بروز بنی نوع انسان کو نئی جہتوں سے متعارف کروارہی ہے، یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام جہاں ایک طرف سماجی رابطے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں تو دوسری جانب یہ گھر بیٹھے بیٹھے پیسے کمانے کا ذرائع بھی ہیں۔ پاکستان ، ہندوستان، افغانستان اور بنگلادیش سمیت دیگر ممالک جہاں پر نوجوان آبادی کی تعداد زیادہ ہے، وہا ں پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لئے ایک وسیع میدان موجود ہے۔

یونائیٹد نیشن ڈیولپمنٹ پروگرام کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کل آبادی کاتقریبا 64 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کی عمریں 30سال سے کم ہیں۔ رپورٹ مزید کہتی ہے کہ پاکستان کو آئندہ پانچ سالوں میں 4.5 ملین نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔

اس طرح معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں نوجوانوں کو اپنے ملک میں اور ملک سے باہر بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے برسرروزگار بنایا جاسکتا ہے جس سے یہ افرادی قوت ملکی معیشت میں اپنا خاطر خواہ حصہ ڈال سکتے ہیں۔

2015 میں جب پاکستان نے 3G سے اپنا سفر شروع کیا تو اس وقت بہت جلدی سے اس ٹیکنالوجی کو اپنایا گیا، جس میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے۔ ڈیلی پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 151 ملین لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کہ اس وقت پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کی جانب نوجوانوں سمیت دیگر لوگ بھی بڑی تیزی کے ساتھ آگے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں نوجوان صلاحیت سے بذریعہ ٹیکنالوجی مستفید ہونے کے لئے حکومت نے وقتا فوقتا کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ کئی لاکھ نوجونواں میں انٹرنیٹ سہولت سمیت جدید لیپ ٹاپس تقسیم کر دئیے گئے۔3G,4Gسہولت شروع کی گئی، فائبرآپٹک کی جانب پیش قدمی ہوئی، سکولوں میں جدید کمپیوٹر لیبارٹریاں بنائی گئیں۔ کئی عوامی مقامات پر فری وائی فائی سروس مہیا کی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل گورننس، ای بلنگ ، موبائل بینکنگ جیسے کئی دیگر اہم اقدامات کے حوالے سے کام کیا گیا ہے۔

پاکستان میں مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو پچھلی کئی دہائیوں سے خیبرپختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جو افغان جنگ اور پھر دہشت گردی سے براہ راست نقصان اٹھا چکا ہے، جس کے اثرات ہر میدان میں نظر آرہے ہیں۔ بدقسمتی سے پچھلے ادوار میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے زیادہ فنڈز اسی جانب موڑ دئیے گئے۔ لیکن اب حالات سدھر گئے ہیں اور امن و امان کی صورتحال بہت حد تک بہتر ہوچکی ہے،جس کی بدولت حکومت نے بھی عوامی فلاح کی جانب توجہ دے رکھی ہے۔

اسی سال خیبرپختونخوا کے مالی بجٹ 2019-20 میں ترقیاتی امور کے لئے تاریخی لحاظ سے سب سے زیادہ فنڈ زمختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب بھی حکومت نے بھرپور توجہ دی ہوئی ہے، جس کی سب سے بڑی مثال صوبہ خیبرپختونخوامیں آئی ٹی ماڈل سٹی ہری پور میں بنانے کا اعزاز ہےجو کہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی سب سے پہلی کامیابی سمجھی جاتی ہے جو خیبرپختونخوا کے پاس ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کئی دیگر اہم منصوبوں پر کام بھی جاری ہے، جس میں قابل ذکر پشاور کے عوامی مقامات پر فری وائی فائی سہولت دینا اور صوبے کو پیپرلیس بنانے کا عمل شامل ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو آئی ٹی کی فیلڈ میں خودکفیل اور ہنرمند بنانے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔

اس کی تازہ مثال وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران خان بنگش کے حالیہ دورہ ٹورنٹو کینیڈا کو لے سکتے ہیں۔ جہاں پر انہوں نے خیبرپختونخوا کے نوجوان طلباءجو آئی ٹی سے وابستہ ہیں، کے لئے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

یہ دورہ کئی لحاظ سے آئی ٹی سے وابستہ طلباءکے لئے اہم رہا۔آئی ٹی سے متعلق امور پر نطر رکھنے والے ماہرین کے مطابق کامران بنگش کے دورہ ٹورنٹو کینیڈا سے کئی اہم مواقع نوجوانوں کو میسر آسکتے ہیں، جن میں کئی ایک درج ذیل ہیں۔

آئی ٹی سے وابستہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع:

معاون خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش کے مطابق خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے لئے شمالی امریکہ میں آئی ٹی کی مد میں بہت وسیع مواقع موجود ہیں۔ اپنے حالیہ دورہ ٹورنٹو سے واپسی کے بعد میڈیا پریس بریفنگ کے دوران کامران بنگش نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے طلباء آئی ٹی کے حوالے سے انتہائی ٹیلنٹڈ ہیں اور کینیڈا کے سرمایہ کار چاہتے ہیں کہ اس حوالے سے سرمایہ کاری کریں۔

انہوں نے کہاکہ کینیڈا میں پاکستانی طلباءکے لئے اس مد میں روزگار کے خاطر خواہ مواقع موجود ہیں، جس کے لئے ہم نے وہاں کے سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے ساتھ حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے نوجوان آئی ٹی کی فیلڈ میں خودکفیل ہوں۔اور دور جدید کے تقاضوں کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے آگے بڑھیں۔

کینیڈا کی مشہور آئی ٹی کمپنی اورائن کے ساتھ اپنی ہونے والی ملاقات کے بارے معاون خصوصی نے کہا کہ اورائن سائبر سیکیورٹی کمپنی خیبرپختونخوا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مختلف مد میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے جبکہ اورائن خیبرپختونخوا کے 20 طلباءکو آئی کلاﺅڈ کے متعلق ٹریننگ دے گی، اور اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے مزید کئی طلباءکو بھی جدید آئی ٹی کے بارے تربیت دی جائے گی۔

تیز تر ویزہ پراسس برائے طلباء:

کامران بنگش کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈا اہلکاروں کے ساتھ نوجوان طلباءکے لئے ویزہ عمل میں آسانیاں اور بروقت دستیابی پر بھی کامیاب بات چیت ہوئی جس کے تحت اب پاکستان سے جتنے بھی طلباء ٹورنٹو جائیں گے ان کے لئے ویزہ 20 دن میں پراسس ہوگا، جو ہماری سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

اس سے پہلے طلباء ویزہ پراسس میں حائل رکاوٹوں کی وجہ سے اکثر باہر اپلائی کرنے سے رہ جاتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیوںکہ ہم نے صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ سارے پاکستان کے طلباءکے لئے ویزہ پراسس میں آسانی پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اب سٹوڈنٹس ڈائریکٹ سٹریم کے ذریعے پاکستانی طلباءتعلیمی داخلہ کے لئے اپلائی کرکے 20 دن میں انفارمیشن حاصل کرپائیں گے۔

خیبرپختونخوا آئی ٹیم کی سائبر اولمپکس میں شرکت کے لئے راہ ہموار:

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار خیبرپختونخوا سے عالمی سائبر اولپمکس میں شمولیت کے لئے طلباءکی آئی ٹی ٹیم جائے گی جو وہاں پاکستان کی نمائندگی کرے گی۔

جس سے دنیا کو ہمارے آئی ٹی نوجوانوں کے ٹیلنٹ اور یہاں پر سرمایہ کاری کے مواقعوں کے بارے جاننے میں مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل سٹی بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں، اور ہماری کوشش ہے کہ خیبرپختونخوا کو آئی ٹی کے حوالے سے ماڈل صوبہ بنائیں۔

سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی بارے میں حکومتی دلچسپی:

معاون خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش نے میڈیا کو بتایا کہ ٹورنٹو آئی ٹی روڈ شو کے فالو اپ کے لئے خیبرپختونخوا اور ٹورنٹو کینیڈا کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے کے لئے کام کر رہے ہیں جبکہ اسی طرح مزید روڈ شو بھی کریں گے تا کہ صوبے میں سرمایہ کاری اور طلباءکے لئے نئے مواقع ملیں۔ کیونکہ محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق آئی ٹی کے شعبے میں کام کر رہا ہے۔

خواتین کی %50 فیصد نمائندگی:

جہاں ایک طرف خیبرپختونخوا حکومت نوجوان طلباءکے لئے کام کر رہی ہے تو دوسری طرف خواتین کے لئے بھی سپیس پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال بقول کامران بنگش کہ خیبرپختونخوا میں سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کسی بھی منصوبے میں خواتین کو 50 فیصد نمائندگی دی جائے گی۔

ذکرشدہ بہترین کارکردگی کے علاوہ بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران خان بنگش کی وزارت میں محکمہ سائنس اینڈ آئی ٹی نے عوامی مفاد میں کئی اہم منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے ہیں، جن میں سب بڑی کامیابی خیبرپختونخوا میں پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل سٹی بنانا ہے جو ضلع ہری پور میں بنایا گیا ہے۔ جبکہ اسی ماڈل کو پاکستان کے دیگر صوبے بھی اپنا رہے ہیں۔

اسی طرح صوبے کو پیپرلیس بنانے کی جانب بھی کئی اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، اور اس کا آغاز وزیراعلیٰ آفس سے ہوگا۔ جس سے صوبے کو کاغذکی مد میں لاکھوں روپے کی بچت ہوگی، اور ماحول پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔اس کے ساتھ ساتھ صوبہ بھر میں فری وائی فائی سہولت دینے کے لئے کاغذی کاروائی اور مجموعی تخمینہ لاگت کا کام تقریبا مکمل ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں شروعات پشاور کی پبلک جگہوں سے کی جائے گی۔ عوام کو تمام خدمات ایک چھت تلے فراہم کرنے کے لئے ، جن میں ڈومیسائل سمیت دیگر پرمٹس جیسی سہولیات مہیا کرنے کے لئے حکومتی حکمت عملی تیار ہے، جس کے تحت پشاور میں دو فیسیلیٹیشن سنٹرز قائم کئے جائیں گے، جبکہ اس منصوبے کو 06 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک وسعت بھی دی جائے گی۔

خیبرپختونخوا کو ڈیجیٹل دوڑمیں دیگر صوبوں اور بین الاقوامی ریاستوں کے ہم پلہ بنانے کے لئے محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اقدامات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کہ آنے والے وقتوں میںیہاں کے نوجوان نہ صرف سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے خود کفیل ہوں گے بلکہ باروزگار ہونے کے ساتھ ساتھ صوبے کی آمدن میں اپنا حصہ بھی ڈالیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top