آج کہیں یوم کشمیر،تو کہیں ارمان کے قتل کے خلاف مزمتی ریلیاں

105483970_1a4ff43e-0545-42b4-b948-a8e7c560977b.jpg

پاکستان میں ہر سال 5 فوری کو یوم کشمیر کو منایا جاتا ہے جس میں کشیمری عوام کے ساتھ ہونے والی مظالم کو دُنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے لیکن اس دفعہ پاکستان کے مختلف شہروں میں کہیں کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلیوں کا انعقاد کیا گیا تو کہیں پشتون تحفظ تحریک کے بانی منظور پشتین کے کال پر پوری دُنیا میں آباد پشتونوں اور خاص کر اور پی ٹی ایم کے کارکنوں سے ارمان لونی کے قتل کے خلاف پُرامن احتجاج ریکارڈ کرنے کیلئے ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔

پشتین کے اس کال پر پاکستان کے مرکزی شہر اسلام آباد اور کراچی کے علاوہ خیبر پختونخوااور بلوچستان کے مختلف شہروں میں پشاور ،بنوں ،درازندہ ،قلعہ سیف اللہ اور پشین کے ساتھ ساتھ باہر کی دُنیا میں بھی ارمان لونی کے قتل کے خلاف پی ٹی ایم کے مقامی اراکین کی طرف سے احتجاجی ریلیاں نکالی گئ.جس میں مرکزی حکومت اور بلوچستان کے صوبائی حکومتوں سے ارمان کے قتل میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرنا اور مرحوم ارمان کے گھروالوں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا.

بی بی سی اردو کے مطابق ان ریلیوں میں مرکزی ریلی بلوچستان کے شپر قلعہ سیف اللہ جوکہ ارمان کا آبائی شپر ہے میں منعقد ہوئی جس میں مرحوم ارمان لونی کے بہن اور تحریک کے سرگرم رکن وڑانگہ لونی اور تحریک کے دوسرے سرگرم رہنما نظیف لالا،خان زمان کاکڑ اور ثناء اعجاز نے شرکت کی اور ریلی سے تقاریر کیں۔

اس موقع پر ارمان لونی کی بہن وڑانگہ لونی نے ریلی کے شرکا سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں وڑانگہ لونی نے کہا کہ ’گذشتہ 70سال سے پشتونوں کی سرزمین پر ابراہیم ارمان کی طرح ہزاروں نوجوان مارے گئے ہیں۔
وڑانگہ لونی کا کہنا تھا کہ ایک بہن کی حیثیت سے ارمان لونی کا دنیا سے چلے جانا ایک تکلیف دہ بات ہے کیونکہ وہ ان کے لیے امید کی کرن تھے۔

ارمان لونی کی بہن نے بتایا کہ ان کے بھائی شروع سے ہی ایک سیاسی کارکن تھے۔ ’پشتون قوم جس طرح اندھیروں میں رہ رہی ہے وہ چاہتے تھے کہ پشتون قوم ان اندھیروں سے نکلے اور ترقی کرے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکن اور پشتون تحفظ موومنٹ کے کور کمیٹی کے رکن بھی تھے۔

وڑانگہ لونی نے کہا کہ ارمان لونی کی پشتون تحفظ موومنٹ سے امیدیں وابستہ تھیں کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں وہ ریاست سے اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ دن رات اس کے لیے کام کر رہے تھے۔

آخری اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے ریلی میں پولیس کی جانب سے پی ٹی ایم کے کئی اراکین ریلی کے دوران گرفتار ہوچکے ہیں اور بعد ازاں اُنہیں اسلام آباد کے مختلف تھانوں منتقل کئے گئے ہیں.

یاد رہے کہ ابراہیم ارمان رواں ماہ کے آغاز میں لورالائی میں پولیس کی جانب سے گرفتاری کی کوشش کے دوران مبینہ تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top