کے پی محکمہ صحت،خواجہ سراؤں کیلئے صوبہ بھر میں الگ وارڈز کے قیام کا اعلان

85c96ecc-81c1-4fa9-a4b2-77d5b378ab2f-780x405.jpg

پشاور: خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں بلو وینز اور خواجہ سراؤں کے صوبائی اتحاد ٹرانس ایکشن کی جانب سے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا،جس  میں وزیراعلی خیبر پختونخواہ اور محکمہ صحت کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے ان کے دیرینہ مطالبہ اور خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق قومی قانون پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے خواجہ سراؤں کے لئے صوبہ بھر کہ ہسپتالوں میں الگ وارڈ کے قیام کے احکامات جاری کیے ہیں.

محکمہ صحت کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے احکامات پر عمل درآمد بناتے ہوئے ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام ایم ٹی آئی اسپتالوں میں خواجہ سراؤں کے لیے پانچ بستر، اے اور بی کیٹیگری ہسپتالوں میں چار بستر جبکہ کیٹیگری سی ہسپتالوں میں تین بستر پر مشتمل وارڈ مختص کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں، اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ ان پر عمل درآمد کرکے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کو آگاہ کریں.

خواجہ سرا کمیونٹی کی صوبائی صدر فرزانہ جان نے محکمہ صحت، حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مختص وارڈ کو علیشاہ شہید میموریل وارڈ کا نام دیا جائے, خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی علیشاہ کو 2016 میں آٹھ گولیاں ماری گئی تھی, لیکن لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ اسے مناسب سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔

فرزانہ جان نے خواجہ سراؤں سے متعلقہ حقوق کے قانون پر عملداری کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی کہا کہ قانون کے مطابق ڈاکٹروں کے نصاب میں خواجہ سراؤں کی صحت کے حوالے سے تبدیلیاں اور اس حوالے سے ان کی تربیت بھی قانون کا حصہ ہے, اور وہ امید کرتی ہیں کہ اس حوالے سے بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے.

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے انسانی حقوق کے کارکن اور بلو وینز کے کوآرڈینیٹر قمر نسیم نے سیکرٹری ہیلتھ, سیکرٹری سوشل ویلفیئر، سینیٹر روبینہ خالد, نگہت یاسمین اورکزئی, اسپیکر صوبائی اسمبلی, ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی, وزیر صحت, ڈاکٹر سمیرا شمس اور اراکین اسمبلی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہر قدم پر ان کی امداد اور تعاون فراہم کیا.

قمر نسیم نے کہا کہ محکمہ صحت بالخصوص سیکرٹری ہیلتھ خواجہ سراؤں کی صحت کے حوالے سے مشکلات دور کرنے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہے ہیں, پہلے خواجہ سراؤں کو صحت انصاف کارڈ کی فراہمی اور اب علیحدہ وارڈ کی فراہمی مثالی اقدامات ہیں جس سے خواجہ سراؤں کی شناخت اور حیثیت تسلیم کرنے میں نہایت مدد ملے گی.

پختون خواہ سول سوسائٹی نیٹ ورک کہ کوآرڈینیٹر تیمور کمال نے کہا کہ خواجہ سراؤں کے حقوق کے قانون کی منظوری کے باوجود، ان کی شناخت اور صحت کے حوالے سے بے پناہ مسائل موجود ہیں، اس حوالے سے علیحدہ وارڈ قیام کی نوٹیفیکیشن کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی توقع کرتے ہیں کہ حوالے سے ڈاکٹر کمیونٹی میں سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں گے.

ٹرانس ایکشن کی جنرل سیکرٹری آرزو خان نے کہاں کے خواجہ سراؤں کی صحت کو بہتر بنانے کیلئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو مثالی اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ اس حوالے سے صنفی امتیازات کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے.

خواجہ سرا کمیونٹی اور سول سوسائٹی رہنماؤں نے پشاور پریس کلب, اور صحافیوں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے خواجہ سراوں کے مسائل درپیش خطرات کو فیصلہ ساز اداروں کے سامنے رکھا اور اس حوالے سے آگاہی پیدا کی. خواجہ سرا کمیونٹی نے اس موقع پر صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین میں شکریہ کے طور پر مٹھائی بھی تقسیم کی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top