گومل یونیورسٹی کے 3 درجن سے زائد طلباء کے خلاف مقدمہ درج

download-2.jpg

انسانی حقوق اور اپنے بہتر بقاء کیلئے سرگرم گومل یونیورسٹی میں زیر تعلیم 3 درجن سے زائد طلباء کے خلاف نزدیک واقع  پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

سٹوڈنٹس کے مظاہرے کا مقصد ہفتے کے روزضلع لورالائی میں ارمان لونی کے موت کی مذمت کرنا تھا اور حکومت کی طرف سے قاتلوں کی گرفتاری کے عمل میں لانا تھا.

یونیورسٹی انتظامیہ نے طلباء کے خلاف ایف آئی آر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف نعرہ بازی اور نفرت انگیز تقاریر کرنے کی پاداش میں درج کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی پولیس کے مطابق سکیورٹی انچارج گومل یونیورسٹی کی جانب سے تھانہ یونیورسٹی میں رپورٹ درج کرائی گئی ہے کہ گومل یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر 7 کے قریب پی ٹی ایم اور آئی ایس ایف کے 50 سے زائد طلباء نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔جس میں سٹوڈنٹس کے طرف سے ملک، فوج اور پولیس کے خلاف نفرت انگیز نعرہ بازی کرنے، گالم گلوچ کرنے اور روڈ بلاک کرنے کے الزام میں 50 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔۔

پولیس نے اتوار کے دن طلباءکے خلاف مقدمہ درج کر کے  ان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں.

یاد رہے کہ سٹوڈنٹس کے طرف سے مذکورہ احتجاجی مظاہرہ ہفتے کے روز ضلع لورالائی میں پیش آنے والا ایک واقعہ کے خلاف تھا جس میں مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے گرفتاری کے دوران ابراہیم لونی عرف ارمان لونی نامی استاد اور سیاسی کارکن کی موت واقع ہوگئی تھی۔

دوسری جانب پیر کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی اے احمد کنڈی نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ارمان لونی کی موت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ایوان کو زیربحث لانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top