خواجہ سراوں کی تنظیم ٹرانز ایکشن کی طرف سے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

85c96ecc-81c1-4fa9-a4b2-77d5b378ab2f-780x405.jpg

پشاور: خواجہ سراوں کی نمائندہ تنظیم ٹرانز ایکشن کی طرف سے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پانچ روز پہلے نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کئے جانے والےخواجہ سرا جہانگیر اور اُس کے ساتھ دو زخمی ساتھیوں کیلئے صوبائی حکومت سے انصاف مانگنا تھا۔

مظاہرے میں صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے خواجہ سراوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے تھے اور احتجاج کیا۔

احتجاج کے دوران شرکاء نے موجودہ حکومت اور کرک پولیس سے گزشتہ ہفتے ہلاک ہونے والے ساتھی جہانگیر کے قاتلان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا اور الزام عائد کیا کہ پولیس ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں اور تا حال مذکورہ واقعے میں پولیس کی طرف سے کوئی گرفتاری سامنے نہیں آئی ہے.

مظاہرین نے کہا کہ ہم پُرامن لوگ ہیں اور حکومت سے اپنی تحفظ اور انصاف چاہتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ شہریوں کے ساتھ ساتھ پولیس بھی ہمارے اوپر تشدد کے واقعات میں ملوث ہیں جس کی روک تھام کیا جائے.

مظاہرین ںے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اُن کے مطالبات نہیں مانے گئے تو کمیونٹی کے سارے افراد اپنے آپ کو آگ لگائیں گے جس کی ساری ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت ہم کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں

یہ واقعہ گزشتہ ہفتےاُس وقت پیش آیا تھا کہ جب خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں منگل اور بدھ کے درمیانی شب ایک تقریب سے واپسی پر خواجہ سراؤں کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی طرف سےفائرنگ کی گئی تھیں جس کے نتیجے میں مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے جہانگیر نامی خواجہ سرا موقع پر ہلاک جبکہ کہ اُس کے دو ساتھی زخمی ہوئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

scroll to top